اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْۤا
أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ
فَاتَّقُونِ(41)
اور
جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا
ہے اور اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو اور میری آیات کو معمولی
قیمت(دنیا) کے بدلے مت بیچو اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔
سابقہ
آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب یعنی یہود کو مخاطب کرکے انعامات کی یاد دہانی کرائی
گئی ،اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا کہا گیا تاکہ جزا کے طور پہ اللہ ان سے
اپنا وعدہ پورا کرے اور صرف اللہ سے ڈرنا کا حکم ہوا فرمایا گیا کہ صرف میرا ڈر رکھو ، صرف مجھے
خاطر میں لاؤ۔
اب
فرمایا جا رہا ہے وَاٰمِنُوْا
بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ ۔ اور
جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا
ہے۔
یعنی
قرآن ِ کریم پہ ایمان لاؤ اور دلیل کے طور پہ ارشاد ہوا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں
اور نہ ہی تمہارے لئے کوئی نرالی یا انوکھی بات ہے بلکہ یہ قرآن نہ صرف سابقہ کتب بلکہ سابقہ انبیاء ، ملائکہ،صفات باری تعالیٰ،
آخرت کا عقیدہ، روزِ جزا کا معاملہ، جنت و دوزخ اور تمام وہ الہامی احکامات و
عقائد جو سابقہ انبیاء اور شریعتوں میں موجود تھے، یہ قرآن ان کی تصدیق کر رہا ہے۔اور جو تک
بنیادی عقائد کا تعلق ہے تو وہ تو تمام شریعتوں میں وہی ہیں ، دعویٰ تو ہمیشہ وہی
رہا یعنی لا الہ الا اللہ۔ قرآن ِ کریم نہ صرف اقوامِ سابق ، انبیاءِ سابق
، احکاماتِ سابقہ کی تصدیق کر رہا ہے بلکہ اس کی
بشارت و اطلاع بھی سابقہ کتب میں موجود تھی۔
پھر
فرمایا وَلَا
تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ ۔اور اس کا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو۔
اس
کو جھٹلانے والوں میں، اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو یعنی اس کا انکار
کرنے میں پہل نہ کرو۔
انکار
تو انکار ہی ہوتا ہے لیکن جو پہل کرتا ہے اس کا معاملہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بعد
میں آنے والوں کا بار بھی اس پہل کرنے والے کی گردن پہ ہوتا ہے۔ دوسری خاص وجہ جو
انہیں انکار میں پہل سے منع فرمایا جا رہا
ہے کہ تم پہل کرنے والے نہ بنو ۔ اس کی وجہ ان کا الہامی دین ، انبیاء ِ سابقہ کی
پیروی اور اللہ تعالیٰ کی خاص لاڈلی قوم
ہونا اور ان کے پاس اس کی دلیل کا موجود ہونا جو سابقہ انبیاء اور کتابوں کے ذریعے
ان کے پاس تھی، جیسے عموماً ہماری کسی بات کا کوئی انکار کرے تو ہم کہتے ہیں کہ تم
تو انکار نہ کرو، اس کی وجہ اس سے ہماری قربت ، ہماری محبت ہوتی ہے یا پھر چونکہ
اس کے پاس اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا ۔
جس کی وجہ سے ہم اسے کہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بے شک انکار کرتا ہے تو کرتا
رہے تم تو انکار نہ کرو یا تمہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
یہی
معاملہ بنی اسرائیل کا تھا کہ ان کی کتابوں
میں نبی آخرالزمان ﷺ اور دین ِ محمدی کی بشارتیں موجود تھیں ، آپﷺ اور آپ ﷺ
کے اصحاب کی نشانیاں موجود تھیں اسی لیے انہیں فرمایا جا رہا ہے کہ پہل کرنے والے
نہ بنو ۔انتظار کرو ، دیکھو ، سمجھو ، تحقیق کرو تو تم خود بخود ایمان لے آؤ
گے،سچائی تمہارے سامنے آجائے گی ، حق تمہارے سامنے آشکار ہو جائے گا۔
پھر
فرمایا وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا
اور میری آیات کو
معمولی قیمت کے بدلے مت بیچو
یہود
علماء جن کے پاس علم تھا وہ دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے تھے اور اپنی مرضی سے اپنے
فائدے اور مقصد کیلئے اللہ تعالیٰ کے
احکامات کو من گھڑت معانی و مفاہیم پہناتے تھے اور عوام جو اصل احکامات تو جانتی
ہی نہیں تھی، ان کو حجت مانتی تھی، جو علماء کہ دیتے اسی کو اللہ کا حکم تصور
کرتے۔
دورِ
حاضر میں تقریباً یہی صورت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ دینی علوم کو ایک خاص طبقے تک محدود کیا جا
چکا ہے اور جو وہ بتا دیں اسی بات
کو حق اور سچ سمجھا جاتا ہے۔اور المیہ یہ
کہ انہوں نے قرآن و حدیث کو مرضی کے معانی و مفاہیم پہنانے کی کوشش کی اور دینی
احکامات کو اپنے مقاصد و فوائد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بلکہ دورِ حاضر
میں ایک اصطلاح عام ہو چکی ہے ککہ فلاں
مذہب کارڈ کھیل رہا ہے
یعنی مذہب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے
فرمایا تھا " الگ ہو دین سیاست سے تو
رہ جاتی ہے چنگیزی" جبکہ ہم سمجھتے
ہیں کہ دین کا دنیاداری سے بھلا کیا تعلق
۔ حالانکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یا کوئی بھی نظام ہو سب سے
بہترین صورت دین ِ اسلام میں ہی پائی جاتی ہے،امورِ دنیا اگر دین کے بغیر چلائے
جائیں تو بقول علامہ ؒ وہ چنگیزی ہوتی ہے
یعنی ظلم و جبر ہو گا، ظالمانہ نظام ہو گا۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی
ہے، ملکی نظام سے لے کر خاندانی نظام تک،
ملکی معیشت سے لے کر ذاتی کاروبار و تجارت تک ہر طرف ظلم ہی ظلم دکھائی دیتا ہے۔
اس
آیتِ کریمہ میں بڑا حکیمانہ نکتہ یہ
بھی بیان ہو ا فرمایا:
ثَمَنًا قَلِيلًا تھوڑی
سی قیمت یعنی اگر اللہ کی
آیات کے بدلے تم دنیا جہاں کی دولت بھی لے
لو ، تم دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ بھی لے لو تو اس کی قدر و قیمت ، اسکی اہمیت و وقعت اللہ کے احکامات کے بدلے ،
اللہ کی آیات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگی۔
آج
کل ایک عام رواج چل پڑا ہے کہ ہم پیسے دے
کر یا کھانا وغیرہ کھلا کر ایصالِ ثواب
کیلئے قرآن پڑھواتے ہیں ۔
حضرت
ؒ اکرم التفاسیر میں مفتی محمد شفیع ؒ کی
بحث ذکر فرماتے ہیں جو انہوں نے معارف القرآن میں اس حوالے سے فرمائی۔ فرماتے ہیں
کہ برکت کیلئے اجرت لینا جائز ہے ، لیکن جہاں تلاوتِ قرآن ِ پاک کا ثواب چاہیے
وہاں اجرت آج بھی حرام ہے ۔ مثلاً ہم کسی
مرنے والے کیلئے ختم پڑھواتے ہیں کہ اس کو ایصالِ ثواب ملے اور پڑھنے والے کو پیسے
دیں یا کھانا دیں، دونوں حرام ہیں ۔فقہ کی چوٹی کی کتابوں میں یہ مسئلہ موجود ہے اور مفتی صاحب نے معارف
القرآن میں بھی درج کر دیا ہے کہ وہاں قرآن ِ کریم کے ثواب کی ضرورت ہے، ثواب تب
ہی ہو گا جب پڑھنے والا اللہ کی رضا کیلئے پڑھے گا، جب پڑھنے والا فی سبیل اللہ
پڑھے گا۔ اور پڑھانے والا فی سبیل اللہ پڑھوائے گا ۔ تو جب ہم ختم میت کیلئےکرواتے
ہیں تو کھانا دینا بھی جائز نہیں ہے اور
جو اجرت کیلئے پڑھتا ہے اس سے نہ پڑھوایا جائے، جب پڑھنے والے کو ثواب کے بجائے
گناہ ملا تو میت کو کیا ملے گا، رسمِ دنیا ہے لیکن قرآنِ کریم اسے حرام فرما رہا
ہے کہ معمولی اجرت کیلئے میری کتاب کو، میری آیات کو مت بیچو ، یہ بیچنے کی چیز
نہیں ہے۔
وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو ، کسی اور معامے کو کسی اور خوف کو ، کسی اور کی ناراضگی
کو خاطر میں مت لاؤ بلکہ صرف مجھ سے ہی
حیا کرو، صرف مجھ سے ہی ڈرو، صرف میری ناراضگی کی فکر کرو۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس
پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)
.jpg)
.jpg)


.jpg)