تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 41 - انکار کرنے والوں میں پہل کرنا - اللہ کی آیات کو بیچنے کا مطلب ۔ ایصال ثواب کیا ہے اور اس کا صحیح طریقہ

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ(41)

اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے اور اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو اور میری آیات کو معمولی قیمت(دنیا) کے بدلے مت بیچو اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔

سابقہ آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب یعنی یہود کو مخاطب کرکے انعامات کی یاد دہانی کرائی گئی ،اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا کہا گیا تاکہ جزا کے طور پہ اللہ ان سے اپنا وعدہ پورا کرے اور صرف اللہ سے ڈرنا کا حکم ہوا   فرمایا گیا کہ صرف میرا ڈر رکھو ، صرف مجھے خاطر میں لاؤ۔

اب فرمایا جا رہا ہے  وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ ۔ اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے۔

یعنی قرآن ِ کریم پہ ایمان لاؤ اور دلیل کے طور پہ ارشاد ہوا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی تمہارے لئے کوئی نرالی یا انوکھی بات ہے  بلکہ یہ قرآن نہ صرف سابقہ کتب  بلکہ سابقہ انبیاء ، ملائکہ،صفات باری تعالیٰ، آخرت کا عقیدہ، روزِ جزا کا معاملہ، جنت و دوزخ اور تمام وہ الہامی احکامات و عقائد جو سابقہ انبیاء اور شریعتوں میں موجود تھے،  یہ قرآن ان کی تصدیق کر رہا ہے۔اور جو تک بنیادی عقائد کا تعلق ہے تو وہ تو تمام شریعتوں میں وہی ہیں ، دعویٰ تو ہمیشہ وہی رہا یعنی لا الہ الا اللہ۔ قرآن ِ کریم نہ صرف اقوامِ سابق ، انبیاءِ سابق ، احکاماتِ سابقہ کی تصدیق کر رہا ہے بلکہ اس کی  بشارت و اطلاع بھی سابقہ کتب میں موجود تھی۔

پھر فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ ۔اور اس کا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو۔

اس کو جھٹلانے والوں میں، اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو یعنی اس کا انکار کرنے میں پہل نہ کرو۔

انکار تو انکار ہی ہوتا ہے لیکن جو پہل کرتا ہے اس کا معاملہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بعد میں آنے والوں کا بار بھی اس پہل کرنے والے کی گردن پہ ہوتا ہے۔ دوسری خاص وجہ جو انہیں  انکار میں پہل سے منع فرمایا جا رہا ہے کہ تم پہل کرنے والے نہ بنو ۔ اس کی وجہ ان کا الہامی دین ، انبیاء ِ سابقہ کی پیروی  اور اللہ تعالیٰ کی خاص لاڈلی قوم ہونا اور ان کے پاس اس کی دلیل کا موجود ہونا جو سابقہ انبیاء اور کتابوں کے ذریعے ان کے پاس تھی، جیسے عموماً ہماری کسی بات کا کوئی انکار کرے تو ہم کہتے ہیں کہ تم تو انکار نہ کرو، اس کی وجہ اس سے ہماری قربت ، ہماری محبت ہوتی ہے یا پھر چونکہ اس کے پاس اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا ۔  جس کی وجہ سے ہم اسے کہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بے شک انکار کرتا ہے تو کرتا رہے تم تو انکار نہ کرو یا تمہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ بنی اسرائیل کا تھا کہ ان کی کتابوں  میں نبی آخرالزمان ﷺ اور دین ِ محمدی کی بشارتیں موجود تھیں ، آپﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کی نشانیاں موجود تھیں اسی لیے انہیں فرمایا جا رہا ہے کہ پہل کرنے والے نہ بنو ۔انتظار کرو ، دیکھو ، سمجھو ، تحقیق کرو تو تم خود بخود ایمان لے آؤ گے،سچائی تمہارے سامنے آجائے گی ، حق تمہارے سامنے آشکار  ہو جائے گا۔

پھر فرمایا وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا اور میری آیات کو معمولی قیمت کے بدلے مت بیچو

یہود علماء جن کے پاس علم تھا وہ دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے تھے اور اپنی مرضی سے اپنے فائدے اور مقصد  کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو من گھڑت معانی و مفاہیم پہناتے تھے اور عوام جو اصل احکامات تو جانتی ہی نہیں تھی، ان کو حجت مانتی تھی، جو علماء کہ دیتے اسی کو اللہ کا حکم تصور کرتے۔

دورِ حاضر میں تقریباً یہی صورت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ دینی علوم کو  ایک خاص طبقے تک محدود  کیا جا  چکا ہے  اور جو وہ بتا دیں اسی بات کو حق اور سچ سمجھا جاتا ہے۔اور  المیہ یہ کہ انہوں نے قرآن و حدیث کو مرضی کے معانی و مفاہیم پہنانے کی کوشش کی اور دینی احکامات کو اپنے مقاصد و فوائد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بلکہ دورِ حاضر میں ایک اصطلاح عام ہو چکی ہے  ککہ فلاں مذہب   کارڈ  کھیل رہا ہے  یعنی مذہب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا " الگ ہو دین سیاست سے  تو رہ جاتی ہے چنگیزی" جبکہ ہم سمجھتے   ہیں کہ دین کا دنیاداری سے بھلا کیا تعلق  ۔ حالانکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یا کوئی بھی نظام ہو سب سے بہترین صورت دین ِ اسلام میں ہی پائی جاتی ہے،امورِ دنیا اگر دین کے بغیر چلائے جائیں تو  بقول علامہ ؒ وہ چنگیزی ہوتی ہے یعنی ظلم و جبر ہو گا، ظالمانہ نظام ہو گا۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے، ملکی  نظام سے لے کر خاندانی نظام تک، ملکی معیشت سے لے کر ذاتی کاروبار و تجارت تک ہر طرف ظلم ہی ظلم دکھائی دیتا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں بڑا  حکیمانہ نکتہ یہ بھی  بیان ہو ا فرمایا: ثَمَنًا قَلِيلًا تھوڑی سی قیمت یعنی اگر اللہ کی آیات کے بدلے  تم دنیا جہاں کی دولت بھی لے لو ، تم دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ بھی لے لو تو اس کی قدر و قیمت  ، اسکی اہمیت و وقعت اللہ کے احکامات کے بدلے ، اللہ کی آیات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگی۔

آج کل ایک عام رواج چل پڑا ہے  کہ ہم پیسے دے کر یا کھانا وغیرہ کھلا کر ایصالِ  ثواب کیلئے  قرآن پڑھواتے ہیں ۔

حضرت ؒ اکرم التفاسیر میں  مفتی محمد شفیع ؒ کی بحث ذکر فرماتے ہیں جو انہوں نے معارف القرآن میں اس حوالے سے فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ برکت کیلئے اجرت لینا جائز ہے ، لیکن جہاں تلاوتِ قرآن ِ پاک کا ثواب چاہیے وہاں اجرت  آج بھی حرام ہے ۔ مثلاً ہم کسی مرنے والے کیلئے ختم پڑھواتے ہیں کہ اس کو ایصالِ ثواب ملے اور پڑھنے والے کو پیسے دیں یا کھانا دیں، دونوں حرام ہیں ۔فقہ کی چوٹی کی کتابوں  میں یہ مسئلہ موجود ہے اور مفتی صاحب نے معارف القرآن میں بھی درج کر دیا ہے کہ وہاں قرآن ِ کریم کے ثواب کی ضرورت ہے، ثواب تب ہی ہو گا جب پڑھنے والا اللہ کی رضا کیلئے پڑھے گا، جب پڑھنے والا فی سبیل اللہ پڑھے گا۔ اور پڑھانے والا فی سبیل اللہ پڑھوائے گا ۔ تو جب ہم ختم میت کیلئےکرواتے ہیں تو کھانا دینا بھی جائز  نہیں ہے اور جو اجرت کیلئے پڑھتا ہے اس سے نہ پڑھوایا جائے، جب پڑھنے والے کو ثواب کے بجائے گناہ ملا تو میت کو کیا ملے گا، رسمِ دنیا ہے لیکن قرآنِ کریم اسے حرام فرما رہا ہے کہ معمولی اجرت کیلئے میری کتاب کو، میری آیات کو مت بیچو ، یہ بیچنے کی چیز نہیں ہے۔

وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو ، کسی اور معامے کو کسی اور خوف کو ، کسی اور کی ناراضگی کو خاطر میں مت لاؤ  بلکہ صرف مجھ سے ہی حیا کرو، صرف مجھ سے ہی ڈرو، صرف میری ناراضگی کی فکر کرو۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 40 - اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرنا - بندوں کا وعدہ اور اللہ کا وعدہ - صرف اللہ سے ڈرنے کا حقیقی مطلب

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ)40(

اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو اور جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو میں نے جو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا  اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو۔

سابقہ رکوع میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کا معاملہ بیان ہوا، آدم علیہ السلام کی عظمت و بزرگی کا اقرار بذریعہ دلیل و ثبوت فرشتوں نے کیا جبکہ شیطان نے تکبر و غرور کیوجہ سے  انکار کیا اور مردود ٹھہرایا گیا۔ پھر آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام اور شیطان کے بہکاوے میں آکر شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا اور  جنت سے زمین کی طرف بھیجا جانا، حقیقت میں یہ ایک سبب بھی تھا کیونکہ آپ ؑ کا ٹھکانہ تو جنت نہیں بلکہ زمین تھا  جہان انہیں نیابتِ الٰہی عطا کی گئی تھی دوسرا یہ درس دینا مقصود تھا کہ شیطان اب تمہارا واضح دشمن بن چکا ہے اس لیے اس سے بچنا ہو گا  اور اگر اس کے بہکاوے میں آگئے تو یہ نعمت سے محرومی کا سبب ہو گا۔  رکوع کی آخری  آیات میں یہ بھی تسلی دے دی گئی کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں زمین پہ بھیج کر میں تم کو اپنی ہدایت، رہنمائی اور اپنی ذات سے محروم کر دوں گا بلکہ تم تک میری رہنمائی پہنچتی رہے گی  اور جس نے میری ہدایت و رہنمائی کی پیروی کی اسے نہ تو گزرے وقت اور زندگی  کا کوئی غم یا افسوس ہو گا اور نہ ہی اسے میرے حضور پیش ہونے کا اور آخرت کا کوئی خوف ہو گا اور جنہوں  نے انکار کیا اور ان  کا انکار انہیں  تکذیب تک لے گیا تو ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہو گی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

سابقہ رکوع کی آخری آیتِ کریمہ میں جن لوگوں کا ذکر ہوا  اس  رکوع کی ابتدا میں انہوں  لوگوں میں سے ایک گروہ کو مخاطب کیا گیا۔ فرمایا یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو ۔

اسرائیل،  یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم ؑ کا لقب تھا۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے اللہ کا بندہ، عبد اللہ۔ اس لقب کی وجہ سے اولادِ یعقوب کو بنی اسرائیل کہ کر مخاطب کیا گیا۔ انہیں دورِ حاضر میں یہود یا یہودی کہا جاتا ہے۔

اولادِ یعقوب پہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات فرمائے۔ سب سے زیادہ انبیاء اس قوم کے پاس بھیجے، انہیں فرعون جیسے ظالم سے نجات دلائی، ان کے من و سلویٰ اتارا گیا، وہ جہاں جاتے بادل ان پہ سایہ کیے رکھتے، ان کیلئے پانیوں سے راستہ نکالا، اولادِ یعقوب ؑ کے بارہ قبائل کے لئے بارہ چشمے جارے فرمائے، گویا یہ تمام قوموں میں سے سب سے زیادہ لاڈلی قوم تھی۔ اس آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب ؑ کو وہ نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں۔ ان انعامات کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں نے تم پہ اتنے انعامت کیے، تمہیں لاڈلی قوم کے طور پہ رکھا تو تم اپنا وعدہ پورا کرو اور جزا کے طور پہ میں تم سے کیا وعدہ پورا کروں گا ۔ ان کا وعدہ کیا تھا کہ ہم  تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے، تیرا حکم بجا لائیں گے اور جس نبی آخرالزماں ﷺ کی  بشارتیں اور نشانیاں تورات میں بیان ہوئی ہیں  ا پہ ایمان لائیں گے  بلکہ صرف آپ ﷺ کی ہی نہیں  آپ ﷺ کے اصحاب کی بھی نشانیاں سابقہ کتب میں بیان ہوئیں ۔ اسی لئے تو بیت المقدس کی فتح کے موقع پہ یہ شرط رکھی گئی کہ امیر المومنین ہمارے سامنےآئیں تو ہم بیت المقدس بغیر جنگ کے حوالے کر دیں گے، اور جب یہ مان لیا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو علماء یہود نے آپ کو پہچان لیا  اور بیت المقدس بغیر جنگ کیے حوالے کر دیا ۔

تو فرمایا: وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ

 جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو  میں نے کجو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا۔

اللہ کا وعدہ کیا ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے گا  اسے نہ صرف دنیا میں عزت و عظمت سے نوازے گا  بلکہ آخرت میں بھی جنت کا حقدار ہو گا۔

اور  فرمایا وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو

یہود چونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کو ، نیک لوگوں کو راہب کہتے تھے تو وہی لفظ یہاں استعمال فرمایا گیا ۔ یعنی تم جو اپنے اندر اپنی قوم کا ، اپنے قبیلے کا  ، لوگوں کا اور اپنے نفع و نقصان کا خوف اور ڈر بٹھائے بیٹھے ہو ، اس کو نکالو اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو تاکہ تم اپنے وعدے کا پاس رکھ سکو اور اپنے وعدے کو پورا کر سکو۔

اس آیتِ کریمہ میں شانِ نزول کے اعتبار سے یہودِ مدینہ کو مخاطب فرمایا جا رہا ہے ، جو  انبیاء سابقہ کی تعلیمات، تورات و زبور کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اور اللہ تبارک وتعالی سے کیے گئے وعدے کو بھلا کر نبی کریم ﷺ کی نبوت کا نکار کرتے رہے، لیکن عمومی طور پہ یہ حکم سب کے لیے  اور قرآن کے مخاطبین کسی خاص زمانے کے کوئی خاص لوگ نہیں بلکہ قرآن قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رہنمائی  اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ غور کرنے پہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارا حال بھی کچھ خاص مختلف نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پہ اتنا بڑا انعام فرمایا کہ ہمیں امتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا، شریعتِ مطہرہ نصیب فرمائی، قرآن ِ کریم جیسی عظیم کتاب سے نوازا، پھر پوری زندگی میں ہم پہ ہزاروں قسم کے انعامات فرما رہا ہے اور ہم  زبان سے کلمہ حق کا اقرار کرنے کے  باوجود ،اللہ اور اس کے رسول ﷺ پہ ایمان لانے کے باوجود، آخرت ، موت اور قبر کا علم رکھنے کے باوجود اللہ تعالی ٰ کے احکامات سے روگردانی کیے بیٹھے ہیں ، شریعتِ مطہرہ پہ چلنے کے بجائے خود کو رسومات و رواجات میں پھنسا رکھا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ یعنی ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکیں گے اور زندگی محمد الرسول اللہ ﷺ کی سنت اور طریق پہ گزاریں گے۔ اس وعدے کو بھلائے بیٹھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے بجائے ناک کٹ جانے کا ڈر، لوگ کیا کہیں گے، برادری ناراض ہو جائے گی، شان میں فرق و کمی آجائے گی، دوست و احباب اور رفقاء برا منا جائیں گے۔ اس طرح کے بے شمار ڈر اور خوف دل میں بٹھائے بیٹھے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کرتے اور غیر شرعی رواجات و بدعات کی پابندی کرتے ہیں کہ برادری ناراض نہ ہو جائے، کہیں ناک نہ کٹ جائے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ایسی ناک جو محمد الرسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے کٹتی ہے  اس کا کٹ جانا ہی بہتر ہے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 38،39 - ہدایت قبول کرنے والوں کیلئے دو انعامات اور انکار کرنے والوں کا انجام - انکار و تکذیب میں فرق

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(38)وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)39(

ہم  نے فرمایا تم سب یہاں سے نیچے چلے جاؤ پھر جب تمہارے پاس میری طرف سے راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو ان کو کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ افسوس کریں گے(38) اور جنہوں نے ہماری آیات کا نکار کیا اور جھٹلایا وہ دوزخ میں رہنے والے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(39)

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے زمین پہ بھیجا جانا پہلے بھی بیان ہوا یہاں اس کی دوبارہ تکرار آئی ۔تکرار یعنی دوبارہ فرمایا جانا اِهْبِطُوا کیوجہ یہ ہے  کہ سابقہ آیات میں جب فرمایا گیا اِهْبِطُوا تو فرمایا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہو  جبکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم سب یہاں سے چلے جاؤ پھر جب تمہارے پاس میری طرف سے راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو ان کو کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ افسوس کریں گے۔

یعنی سابقہ آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پہ اترنے کے بعد شر کا بیان ہوا دشمنی کا ذکر تھا جو نسلِ بنی آدم ؑ میں موجود ہے یعنی کچھ کچھ کے دشمن ہیں جس کی ابتدا آدم ؑ کی اولاد سے ہی شروع ہو گئی اور قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا  جبکہ اس آیتِ کریمہ میں خیر کا معاملہ بیان ہو اہے  کہ تمہارے زمین پہ جانے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے تم شیطان کے ہاتھوں میں نہیں ہو گے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہاری طرف ہدایت بھیجے گا ، تمہارے پاس اس کے انبیاء آئیں گے ، تمہاری راہنمائی کیلئے الہامی کتابیں ہوں گی۔ تو جو کوئی انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے ، میری بھیجی گئی راہنمائی کو قبول کرے گا ، اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے گا  تو اس پہ دو قسم کے انعامات ہوں گے ، اسے نہ تو ڈر ہو گا اور نہ ہی پشیمانی و افسوس۔

ڈر ہوتا ہے مستقبل کا ، آئندہ پیش آنے والے حالات کا اگلی زندگی کا  جبکہ افسوس ہوتا ہے ماضی کا ، سابقہ گزرے معاملات کا، پچھلی زندگی جو گزاری جا چکی ہو اس کا ۔ ان کی آنے والی زندگی جنت کی صورت میں ہو گی انہیں کسی باز پرس ،کسی سختی  اور کسی عذاب کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میری فرمانبرداری میں ، میری بھیجی گئی راہنمائی کے مطابق گزاری ہو گی ، تو جب انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میرے احکامات کے تحت گزاری ہو گی  تو انہیں اپنی اس گزری زندگی کا کوئی افسوس نہیں ہو گا ، گزرے لمحات پہ کوئی پشیمانی یا شرمندگی نہیں ہو گی۔

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے زمین پہ آنے کے معاملے کو اکثر کم علم گستاخانہ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ شاید نعوذباللہ آدم علیہ السلام جنت سے رسوا کر کے نکالے گئے تھے۔اس پہ مرزا غالب کا شعر بھی ہے۔

نکلنا  خلد  سے  آدم  کا  سنتے آئے  تھے  لیکن

بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیک شاید یہ بے آبرو ہو کر نکلنا تھا، لیکن ایسی بات نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نے جب کہاکہ ہم من و سلویٰ کھاتے کھاتے تھک چکے ہیں، ہمیں کوئی دال ،پیاز، تھوم وغیرہ ملے تو فرمایا: اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْؕ کسی شہر میں اترو وہاں یہ چیزیں تمہیں مل جائیں گی پہلے تو جنگل میں تھے حکم ہوا اِهْبِطُوْا مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ اب  اِهْبِطُوْا  سے یہ مراد لینا کہ کسی کو رسوا کر کے نکال دیا گیا ہے ، صریحاً غلط ہے۔ یہ ایسے ہی کہ کسی کو کہا جائے کہ آپ یہاں کیوں پانی ڈھونڈ رہے ہیں یہاں تو مشکل ہے اس گاؤں میں چلے جاؤ وہاں مل جائے گا۔ اب اس میں ایسی کونسی توہین آمیز بات آگئی، قرآن نے خود استعمال فرمایا  اِهْبِطُوْا مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ لہٰذا یہ تصور کہ آدم ؑ کو بڑا رسوا کر کے نکالا گیا ، سراسر ظلم ، زیادتی اور جہالت ہے۔

ہاں یہ فرمایا گیا کہ ا ب یہاں آپؑ کا قیام مکمل ہو چکا ، یہاں آپؑ کو یہی دیکھنا تھاکہ کیسے رہنا ہے؟کیسے کھانا پینا ہے؟ اور کس طرح شیطان سے بچنا ہے ؟ یہ دھوکے کس طرح دے گا؟ یہ سارا تجربہ مکمل ہو چکا ، اب آپؑ زمین پہ تشریف لے جائیں جو آپؑ کے رہنے کہ جگہ ہے  اور وہاں نیابتِ الٰہی کا حق ادا کریں ، میرے  احکامات کو نافذ کریں  اس کے بعد پھر آپ ؑ کو میرے پاس ہی آنا ہے ۔ ہاں میں آپؑ  اور آپ ؑ کی نسل کو محروم نہیں رکھوں گا ، میری طرف سے آپ کے پاس مسلسل ہدایات آتی رہیں گی۔

یہاں ایک اور نکتہ قابلِ غور اور سمجھنے والا ہے کہ ظاہراً تو  معاملہ آدم ؑ کا بیان ہو رہا ہے لیکن مخاطبین تمام بنی نوعِ انسان یعنی قیامت تک آنے والے افراد ہیں  شاید اسی لئے فرمایا: قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا تم سب یہاں سے چلے جاؤ۔

 یہ نہیں فرمایا کہ آدمؑ!   آپؑ اور آپؑ کی زوجہ محترمہ دونوں بلکہ فرمایا جَمِيعًا سب۔ یعنی تمہارے آنے والی نسلیں بھی اب زمین پر ہی رہیں گی اور دارِ دنیا ہی ان کا امتحان گاہ ہو گا۔ جہاں میں ان کیلئے انبیاء و رسل اور الہامی کتابوں کی صورت میں راہنمائی بھیجوں گا تو جس نے اسے قبول کیا وہ نہ تو مستقبل کے معاملات سے ڈرے گا اور خوف کھائے گا اور نہ ہی اسے  گزری دنیاوی زندگی پہ کوئی افسوس و غم ہو گا  یعنی وہ فلاح یافتہ ہو گا ، کامیاب ہو چکا ہو گا، وہ بے خوف و خطر میرے حضور پیش ہو گا ، جہاں اسے میں جنت کی سی نعمت اور اپنا دیدار کراؤں گا  اور بیت ساری دیگر نعمتیں ہوں گی ، ابد الآباد کی زندگی ہو گی۔

اب دوسرے گروہ کا معاملہ بیان ہوا فرمایا گیا: وَالَّذِينَ كَفَرُوا جس نے انکار کیا کہ میں نہیں مانتا۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ  یہ میں نہیں مانتا ایسی بلا ہے کہ تکذیب تک لیجاتی ہے۔ انکار یہ ہے کہ بات تو درست ہے لیکن میں نہیں مانتا جبکہ تکذیب یہ ہے کہ یہ بات ہے ہی غلط، یہ بات ہی جھوٹی ہے۔ فرمایا کفر تکذیب تک لیجاتا ہے ۔

جس نے میری آیات کا نکار کیا ، ان کو تسلیم نہیں کیا ، ان پہ عمل نہیں کیا ، میرے احکامات سے روگردانی کی اور پھر اس کی یہ روگردانی اسے تکذیب تک لے گئی کہ وہ سرے سے اس بات کا نکاری ہو گیا  کہ نہ کوئی اللہ ہے، نہ کوئی اللہ کا حکم، نہ رسول، نہ کتاب ، نہ آخرت۔ میں نہیں مانتا  تو  أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ یہ لوگ دوزخ والے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو چن لیا  اور   هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ  وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

چونکہ انسان کی روح عالمِ امر میں سے ہے  اور عالمِ خلق کو فنا ہے جبکہ عالمِ امر کو فنا نہیں ہے، اسے ہمیشہ رہنا ہے ۔ تو جو جنت میں ہو گا اسے بھی ہمیشگی کی زندگی ملے گی اور جو جہنم میں ہو گا وہ بھی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

اللہ کرے کہ ہمارا قیام یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو ، بخیر و عافیت واپس جائیں  اور بخیر و خوبی اپنے گھر پہنچیں جو جنت ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

دوسرا لطیفہ،روح - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 اسے لطیفہ روح کہتے ہیں اور یہ قلب کے مقابل دائیں طرف ہے۔اس پر دو اولوالعزم رسولوں کے انوارات آتے ہیں۔یہ انوارات دوسرے آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سنہری مائل سرخ ہوتا ہے۔یہی مقام ہے جہاں سے فرشتہ روح قبض کرتا ہے۔مراقبہ موتو اقبل ان تموتو کرایا جائے تو سالک قبض روح کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔جن دو ہستیوں کے انوارات اس پہ آتے ہیں ان میں پہلے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و  السلام ہیں اور دوسرے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام۔ ان دونوں حضرات کے حالات مبارکہ میں تقریباً  یک رنگی ہے کہ نوح علیہ السلام نے نو سو پچاس برس تبلیغ کی دراں حالیکہ ان کی قوم بہت بگڑ چکی تھی اور اتنے طویل عرصے کی محنت کے باوجود  ایمان والے مرد وزن کی تعداد تقریبا اسی(80) کے قریب تھی۔کتنا کٹھن اور بے مثال مجاہدہ تھا اور کیا استقلال تھا آپ کی تبلیغ میں۔ان کی قوم کے بگاڑ کا ایک سبب ان کی مادی ترقی بھی تھی کہ انھوں نے اس دور میں ایسی ایجادات کر لیں جو آج تک، اتنی مادی ترقی کے باوجود نہیں ہو سکیں مثلاً انھوں نے ایک ایسا محلول تیار کر لیا تھا جو اگر سنگ مرمر جیسے سخت پتھر پر ڈالا جاتا تو وہ موم ہو جاتا۔جو مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا اور پھر سخت ہو جاتا۔مگر اس میں یہ خصوصیت پیدا ہو جاتی کہ دن میں سورج کی روشنی جذب کرتا اور ساری رات روشن رہتا۔چنانچہ گھروں،گلیوں اور راستوں پہ انھیں نصب کر دیا جاتا تھا اور وہ رات بھر روشن رہتے تھے۔مغربی محققین کو کھدائی میں کہیں ایک بوتل ہاتھ لگ گئی تھی۔جس سے انہوں نے تجربہ تو کر لیا مگر بوتل گر کر ٹوٹ گئی لہٰذا اس کے اجزاء کا پتہ نہ چل سکا۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے باغات،ذرائع آب رسانی،فصلیں اور طرز رہائش کس قدر ترقی یافتہ ہوں گے۔

چنانچہ عہد حاضر کی طرح انہوں نے عظمتِ الٰہی کو فراموش کر دیا اور تعلیماتِ نبوت کو ناقابلِ عمل قرار دیا جس کے نتیجے میں طوفان برپا ہوا اور سوائے ایمان لانے والوں کے سب غرق ہو گئے۔حضرت نوح  ؑ   کا ایک سگا بیٹا بھی غرق ہونے والوں میں تھا۔بلکہ سورۃ ھود میں جو ارشاد ہے: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي کہ اے زمین پانی جذب کر لے اور آسمان  برسنا روک دے تو جہاں پانی جذب ہوا میری سمجھ کے مطابق وہی جگہ برموداٹرائی اینگل((Bermuda triangleہے کہ جس  کی زدمیں آج بھی کوئی شے آتی ہے زمین کی تہوں میں اتر جاتی ہے۔وہ بحری جہاز ہو یا ہوائی جہاز،پھر اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

 چنانچہ آپ کی کشتی کوہ جودی پہ رکی اور آپ علیہ السلام نے پھر اسی محنت اورجذبے سے دنیا آباد کی اور آدمِ ثانی کہلائے استقامت،عقیدے اور اعمال میں،اور اسی بنیاد پر پھر انسانیت کی آبیاری فرمائی۔

لہذا ان برکات کا پر تو جب سالک پر وارد ہوتا ہے تو عقیدے کی اصلاح،استقامت اور دنیا میں حق پر عمل اور اس کی اشاعت میں پامردی جیسے اوصاف نصیب ہوتے ہیں۔حق کی اشاعت میں تائیدِ  باری نصیب ہوتی ہے۔نیز باطل قوتوں کے خلاف دعا قبول ہو کر امدادِ غیبی کا سبب بنتی ہیں۔اسی دوسرے لطیفے یعنی  لطیفہ روح پر دوسرے انوارات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ دونوں حضرات کے انوارات مل کر سرخی مائل سنہری نظر آتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اولوالعزم رسول ہیں۔بچپن میں گھر سے ابتدا ہوئی تو خود والد سے اختلاف ہوا کہ ان کے والد شاہی بت کدہ کے لیے بت بنایا کرتے تھے۔عموما لوگ اپنے بڑوں  کی پیروی کرتے ہیں مگر انبیاء علیہم السلام صرف اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو انھیں وحی الٰہی سے نصیب ہوتا ہے۔پھر معاشرے سے ٹکر ہوئی۔جب آپؑ نے بت کدہ کے بت توڑ دیے اور بات بادشاہ تک پہنچی،دربار شاہی میں بات ہوئی،آپ نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا تو اس نے جھلا کر آپ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ تو بے شک آگ ہے،جلانا تیرا کام ہے،مگر تو آگ ہی رہ کر میرے خلیل کے لیے بادِ بہاری بن جا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ آگ گلزار ہو گئی،یہ بات قرآن کے ارشاد کے مطابق سمجھ نہیں آتی کہ وہاں گلزار بننے کا حکم نہیں۔بلکہ فرمایا:  يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کہ اے آگ جلانا چھوڑ کر میرے خلیل کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا۔لہٰذا آگ لکڑیاں کو تو جلاتی رہی مگر خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے بہار ساماں ہو گئی۔

پھر آپؑ نے ہجرت کی اور بے شمار مشکلات کا سامنا استقامت سے فرمایا۔پھر بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے فرزند سے نوازا تو اہلیہ محترمہ اور بچے کو بیت اللہ شریف کے مقام پر چھوڑنے کا حکم ہوا۔ چنانچہ مائی صاحبہ کا صبر،پھر پانی کی تلاش،زمزم کا نکلنا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی،غرض ایک مسلسل مجاہدہ، ایثار اور صبرواستقامت کی داستان ہے۔ جس میں قدم قدم پر رحمتِ باری تعالیٰ لپک لپک کر ہاتھ تھام لیتی ہے۔ایک عجیب داستان ہےجسے عشق کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے ورنہ مادی نگاہ کی ان جذبات و  کیفیات تک رسائی نہیں۔

چنانچہ سالک کو بھی ان تمام کمالات کا عکس نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان سے حصہ پاتا ہے۔ یاد رہے! اس کے لیے صدق ِدل،خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے ان برکات کو جاننے والے ہی جان سکتے ہیں۔اس طرح آج تک  قلمبند نہیں ہوئے۔ نہ جانے بندہ فقیر نے یہ جراءت کیوں کی؟ شاید زمانہ صرف مادی کمالات میں کھو گیا تو اللہ کریم کو منظور ہوا کہ اصل کمالاتِ انسانی کیا ہیں؟اور کیسے حاصل ہوتے ہیں؟ان سے بھی عامتہ الناس کو آگاہی ہو اور اس نے فقیر کو توفیق بخشی اور ان شاءاللہ یہ دنیا میں پھیلے گا اور طالبان حق کی راہنمائی ضرور کرے گا۔ہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جسے نصیب ہوا س میں کیا تبدیلی آتی ہیں؟یہ وہ خود ہی بہتر جان سکتا ہے۔ کہ ہر شخص کا حال مختلف ہوتا ہے اور مجبوریاں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔لہٰذا نتائج بھی الگ الگ مرتب ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات یقینی ہے کہ فائدہ ہر فرد کو ہوتا ہے کہ یہ برکات اور انوارات کبھی بے نتیجہ نہیں رہتے بھلا اللہ کریم کا نام ہو اور آقائے نا مدادﷺ کے قلبِ اطہر کی برکات ہوں تو بے نتیجہ تو ہر گز نہیں رہ سکتیں۔ ہاں ہر فرد کی فیض کو قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔لہذا نتائج افراد کی استعداد کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور آخرت کا یقین اس حد تک نصیب ہوتا ہے جسے علما استخصار فرماتے ہیں یعنی آخرت کی حقیقتیں جیسے سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ نعمت انسانی زندگی کو سنوارنے کا سب سے موثر اور اعلیٰ سبب بنتی ہے۔

مقامات لطائف اور ان پہ برکات پہلا لطیفہ،قلب - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

یہ اسی گوشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جو سارے بدن کو خون پہنچاتا ہے۔ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔اس پر حضرت آدم علیہ السلام کے انوارات آتے ہیں،جو آسمان اول  سے آتے ہیں اور زر درنگ کے انوارات ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام،میں حضورﷺ تو امام الانبیاء ہیں باقی حضرات نبی ہیں،رسول ہیں اور اولوالعزم ہیں۔یہ حضرات پانچ ہیں،حضرت آدم علیہ السلام،حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ  علیہ
السلام جن کا فیض ابتدائی چار لطائف پہ نصیب ہوتا ہے۔ان سب کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے لطیفے پر آدم علیہ السلام کے انوارات،آسمان اول سے آتے ہیں زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور مختلف خصوصیات کے حامل ہوتے  ہیں۔سب سے پہلی بات کہ جس طرح ان سے بھول ہوئی تو فورا متوجہ الی اللہ ہوئے اور تقرب الٰہی حاصل ہوا۔یہ لطیفہ کرنے سے یہی احساس منتقل ہوتا ہے اور خلوصِ دل سے توبہ نصیب ہوتی ہے اور بندہ حضورِ حق میں ہر خطا کی معافی اور توفیق ِاطاعت کا طلب گار ہوتا ہے۔دوسرا  جس طرح انھیں علمِ لدنی نصیب ہوا اور فرمایا: کہ آدم علیہ السلام کو اشیائے عالم کے اسماء سکھا دیے۔ہر شے کا نام،خصوصیت،طریقہ استعمال اور نفع نقصان بتا دیا۔اسی طرح طالب کو استعدادِ حصولِ علم نصیب ہوتی ہے۔اور دین ودنیا کے جس شعبے میں محنت کرتا ہے،اعلیٰ مقام پاتا ہے۔یاد رہے کہ علوم عقیلہ اور دنیا میں بھی غیر مسلم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور دین تو خیر حصہ ہی مومن کا ہے۔اسی لیے آج کے ترقی یافتہ علوم کی بنیاد مسلمان محققین کی مرہونِ منت ہے جو سب ذاکر اور ولی اللہ تھے۔آج اگر ہم نے یہ نعمت ترک کر دی ہے تو کافر کے دستِ نگر ہو گئے ہیں۔

یہ آدم علیہ السلام ہی ہے جنھوں نے زمین سے اگانا شروع کیں۔ جڑی بوٹیوں اور دھاتوں کا استعمال شروع فرمایا۔ تو سالک کو ان تمام امور کی استعداد نصیب ہوتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ اس عالم میں آپ سری لنکا کے پہاڑ پہ اترے۔اماں حوا عرب میں تھیں۔آپ نے تین سو سال مجاہدہ کیا،سفر کیا، اللہ کریم سے رو رو کر دعائیں کیں تو  اس میں کتنی جسمانی محنت،کتنی دماغی کاوش اور کتنا دردِ دل شامل ہوا۔آخر عرفات میں جبل ِ رحمت پہ ملاقات ہوئی۔تو کیفیات سالک کو بھی استعداد اور طلب میں خلوص کے مطابق نصیب ہوتی ہے۔وہ عبادات میں مجاہدہ کرنے والا،دنیا کے امور سے واقف اور مشکل ترین کام کرنے کی ہمت پاتا ہے اور ان سب انوارت کے باوجود اس کا رابطہ رب کریم سے رہتا ہے۔مدد بھی طلب کرتا ہے اور کمی یا کوتاہی پر بخشش بھی کہ انسان کا مزاج عجیب شے ہے،کبھی اسے اپنی کاوش میں کامیابی نصیب ہوتی ہے تو تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا کمال ہے مگر جس کا قلب ذاکر ہو اللہ کریم کی طرف متوجہ ہو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہتا ہے اور کامیابی کو اللہ کریم کی عطا سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔نہ صرف کامیابی بلکہ محنت کرنے کا حوصلہ اور توفیق کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے اور اس میں مزید عجز اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ناکامی ہوتی ہے تو ردِعمل میں بیزاری کے ساتھ ساتھ تقدیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتا ہے اور یوں تقدیر کے نام پر دراصل اللہ پر الزام لگاتا ہے۔لیکن اگر قلب ذاکر ہو تو تاثر مختلف ہوتا ہے کہ اپنی کوشش پر تو خوش ہوتا ہے اور پھر یہ سوچتا ہے کہ کہیں کوئی کمی مجھ سے ہی رہ گئی جو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے اور اگر کوشش بھی درست تھی تو یہ شے یا نتیجہ،اپنے نتیجہ اور مال کے اعتبار سے یقینا میرے حق میں بہتر نہ تھا ۔جب بھی میرے مالک نے بدل دیا۔

اسے یقین ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا اجرا سے اللہ کریم سے ضرور نصیب ہو گا۔لہذا ناکامی میں بھی ایک کامیابی نظر آتی ہے اور یوں کبھی مایوس نہیں ہوتا،نہ اس کی  آس ٹوٹتی ہے۔وہ محنت ومشقت کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے    اور آرام وسکون کو بھی اس کی بخشش۔چنانچہ اس کی زندگی پر سکون اور آرام دہ ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے جنت میں کسی کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔ اس بات کا ہلکا سا شائبہ ذاکرین کی حیاتِ دنیا میں بھی موجود ہے۔ اس عالم کی زندگی بھی پر لطف ہو جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔

یوں صرف قلب کا ذاکر ہو جانا ایسا ہے جیسے ان بے شمار نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیے گئے ہوں اور وہ ایک ایسے بڑے دربار میں پہنچ چکا ہوجہاں ہر طرف ،ہر قسم کی نعمتیں اس کی منتظر ہوں۔دیکھیں کہ وہ اس میں کیا کیا حاصل کرتا ہے۔

یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں، کرنے کے کام ہیں کہ مشتِ غبار میں وہ انوارات اثر پزیر ہوں جو اولوالعزم کے قلوب پہ وار ہوتے ہیں،تو وہ کیا بن  سکتے ہیں۔مزید بے شمار چیزیں ہوں گی جو سب میں جانتا بھی نہیں اور یہاں لکھنا ممکن بھی نہیں۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 36،37- شیطان کی بھول کر بھی پیروی کرنے کے دو خطرناک نتائج ۔ شیطان کے پیروکاروں کا انجام

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ(36) فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ  إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)

پھر شیطان نے ان کو اس سے بہکایا تو جس (عیش و عشرت) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔ اور ہم نے فرمایا یہاں سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے۔(36) پھر آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس نے انہیں معاف فرما دیا بے شک وہ (اللہ)بڑے معاف فرمانے والے (اور ) رحم کرنے والے ہیں ۔(37)

سابقہ آیتِ کریمہ میں بیان کردہ آدم علیہ السلام کے جنت میں قیام کے واقعہ کا تسلسل چل رہا ہے ۔ آدم علیہ السلام کو جنت میں شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے سے روکا گیا بلکہ حکم ہوا کہ اس کے قریب بھی مت جانا وگرنہ آپؑ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ شیطان یعنی ابلیس لعین جو پہلے ہی آدم علیہ السلام کی عظمت کا انکاری ہو چکا تھا اور آدم ؑ کی تعظیم بجا لانے سے انکار کر کے، اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کا واضح انکار کے صورت میں مردور ٹھہر ایا  جا چکا تھا۔ آدمیت و انسانیت سے اپنی دشمنی کی باقاعدہ ابتدا اس نے یوں کی  کہ جب آدم ؑ کو منع فرمایا گیا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا تو شیطان نے مختلف حیلوں بہانوں سے آپ کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دل میں یہ وسوسہ و خیال ڈالا کہ اس درخت کا  پھل کھانے سے آپ ابد الآبادجنت میں رہیں گے اور ہمیشہ کی حیات پائیں گے، اس کے لئے اس نے  مختلف حربے استعمال کیے اور قسمیں کھائیں  تو اس کی ان قسموں پہ آدم ؑ یقین کر بیٹھے اور اس درخت کا پھل چکھ لیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیسے ہوا ؟ مفسرین کرام نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں سب سے معتبر صورت جو مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے کہ اس نے آپ کے دل میں وسوسہ اور خیال ڈالا جس پہ اسے قدرت حاصل ہے۔

دوسرا سوال کہ کیسے شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکا لیا حالانکہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ اس کی ایک وجہ تو تقدیری معاملہ ہے  کیونکہ آدم علیہ السلام کا اصل قیام جنت میں نہیں تھا  بلکہ انہیں زمین پہ خلیفۃ الارض  بنا کے بھیجا جانا تھا اور ان کا اصل قیام تو زمین پہ تھا سو یہ معاملہ اس کا سبب ٹھہرا۔ دوسری وجہ اس سارے واقعے کی یہ ہے کہ اس سے بنی نوعِ انسان کو سبق سکھایا جا رہا ہے کہ جب  بھی کسی کام کی ممانعت اللہ کی طرف سے ہو گی تو شیطان جو تمہارا ازلی  اور سب سے بڑا دشمن ہے وہ ضرور تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا  اور کوشش کرے کا کہ کسی طرح تم  سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کروا لے۔ اس واقعے میں بھی اس نے آدم ؑ سے یہ فعل ،یہ ممنوعہ کام کروانے کی کوشش کی اور بالآخر ان سے یہ فعل ،یہ خطا ، یہ بھول سرزد ہو گئی جیسا کہ سورۃ طہٰ آیت نمبر  115 میں ارشاد فرمایا گیا :  فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا  ان سے بھول ہوئی اس میں ان کا ارادہ نہ تھا۔

 یہ آیتِ کریمہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام پہ بھی دلالت کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام سے گناہ و نافرمانی نہیں ہوئی بلکہ بھول ہوئی کیونکہ گناہ و نافرمانی ارادتاً  ہوتی ہے جو غیر ارادی ہو وہ بھول یا خطا ہوتی ہے گناہ نہیں۔

اس بھول کا نتیجہ کیا ہوا فرمایا:  فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ پس جس میں وہ تھے یعنی جنت جہاں وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے اس سے انہیں نکال دیا گیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقربین کی بھول بھی گرفت کا سبب ہوتی ہے اور انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے  اور پھر یہ تو سبب اور بہانہ تھا اصل مقام تو آدم علیہ السلام کا تھا ہی زمین ،جہاں انہیں نیابتِ الٰہی عطا فرما کر بھیجا جا رہا تھا۔

وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ

 اور ہم نے فرمایا چلے جاؤ تمہارے بعض بعض کے  دشمن ہیں  یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن ہو

ان کی اس بھول کے سبب پہلے تو انہیں جنت سے بے دخل کر دیا گیا اب دوسرا نتیجہ جو ان کی بھول سے مرتب ہوا وہ بیان کیا جارہا ہے  کہ نہ صرف یہاں سے چلے جاؤ بلکہ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   تم ایک دوسرے کے دشمن ہو

اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جب بھی کوئی انسان شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے چاہے وہ بھول کر ہی کیوں نہ ہو اس کے دو نتائج مرتب ہوتے ہیں پہلا کہ وہ اس نعمت سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے پاس ہوتی ہے جیسے آدم و حوا علیہم الصلوۃ والسلام جنت سے محروم کر دیئے گئے۔دوسرا  شیطان کی بات ماننے اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے انسان انسان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ سارے نہیں بلکہ فرمایا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   تم میں سے کچھ کچھ کے دشمن ہونگے یعنی صرف وہ جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ اللہ کے واضح احکامات کے ہوتے ہوئے ، شارع اعظم ﷺ کے بتائے جانے کے باوجود خیر کے بجائے شر کا راستہ اختیار کریں گے تو اس سے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ اور یہ حال ہمیں اپنے معاشرے میں عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے ، ہر کوئی ایک دوسرے سے دست و گریبان ہے ، پورے معاشرے میں ایک فساد کی سی کیفیت ہے ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات سے ، اسوہ محمد الرسول اللہ ﷺ سے ، شریعتِ مطہرہ سے روگردانی اختیار کر رکھی ہے اور نفس و شیطان کے پیروکار بنے ہوئے ہیں ، حرس وہوس ، طمع و لالچ، حسدو بغض کے اسیر ہو چکے ہیں۔

مزید فرمایا گیا: وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِينٍ اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے۔

یعنی اب جب تمہیں  آسمان سے زمین پہ بھیج دیا گیا ہے ، جنت سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور تمہارا  ٹھکانہ زمین کو بنا دیا گیا ہے اور اس میں تمہارے لئے روزی رکھ دی گئی ہے تو یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ مستقل ٹھکانہ ہے اور یہاں ہمیشہ رہنا ہے  بلکہ اِلٰى حِينٍ ایک مقررہ وقت کیلئے۔

آدم  علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی ہیں  حقیقت میں ظاہراً خطاب ان سے ہے لیکن بنی آدم کو فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ہزاروں سال گزر چکے، کتنی دنیا آئی اور چلی گئی تو تم بھی یہ بات یاد رکھو کہ اس زمین کو تمہارے لئے عارضی قیام گاہ بنایا گیا ہے ،یہاں تمہاری روٹی روزی محدود ہے ۔ ایک دن آخر کار تمہیں لوٹنا ہے ۔

اگلی آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوا :  فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ  إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)

پھر  آدم (علیہ السلام ) نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس (اللہ)نے انہیں معاف فرما دیا  بے شک وہ(اللہ) بڑے معاف فرمانے والے( اور) رحم کرنے والے ہیں۔

اس بھول کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خود کچھ کلمات سکھائے۔ یہ کلمات کیا تھے؟ اس میں مفسرین و محدثین کی مختلف آراء ملتی ہیں ،  کچھ نے فرمایا کہ وہ کلمات تھے: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ کچھ نے کہا کہ انہوں نے عرش کے پائے پہ  مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ لکھا ہوا دیکھا  تو انہوں نے  ان کلمات کے ذریعے سے سفارش طلب کی تو ان کی سفارش قبول ہو گئی۔

جو بھی کلمات تھے اس سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی بھول معاف فرما دی  کیونکہ وہ ذات معاف فرمانے والی اور رحم فرمانے والی ہے۔

اس سے ہمیں یہ سبق دیا جارہا ہے  کہ جب بھی کوئی غلطی، گناہ یا بھول سرزد ہو جائے تو فوراً رجوع الی اللہ ہونا چاہیئے، اللہ کے حضور آہ و زاری کرنی چاہیئے، توبہ کرنی چاہیئے تو اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور معاف فرما دیتے ہیں  کیونکہ خود اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں بتلا رہے ہیں إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ بے شک وہ برے معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔

اللہ بڑے غفور ہیں ، اللہ بڑے رحیم ہیں ، وہ کسی پہ سختی یا تنگی کا معاملہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ معافی قبول کرنے والی اور رحم کرنے والی ذات ہے اللہ تبارک  وتعالیٰ کی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری خطائیں اور گناہ معاف فرمائے اور ہمارے ساتھ اپنے رحم و کرم والا معاملہ فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی