پانچواں لطیفہ، اخفاء - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

 حصہ اوّل                                                    حصہ دوم

اس کا مقام سینے کے درمیان ہے۔جہاں سینے کی ہڈی پیٹ سے ملتی ہے گویا پہلے لطائف کے درمیان۔اس پر آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کا فیض اور انوارات آتے ہیں۔یہ پانچویں آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سبز ہوتا ہے۔سبحان اللہ ! کوئی کیا کیا شمار کر سکتا ہے کہ اول و آخر تمام انبیاء کرامؑ کو جو نعمتیں ،برکات، علوم اور معجزات نصیب ہوئے وہ سب آپﷺ کے واسطے ہوئے کہ آپﷺ نبیوں کے بھی نبی اور امام الانبیاء ہیں۔

حسنِ      یوسف،دمِ    عیسیٰ،یدِ     بیضاداری

آنچہ    خوباں    ہمہ     دارند   تو     تنہا   داری

 تو  آپﷺ سے جو برکات نصیب ہوتی ہیں وہ ان تمام کمالات کو حاوی ہوتی ہیں۔یہ بات کہ آدمی کی فطری استعداد خا ص ہوتی ہیں اس میں وہ زیادہ ترقی کر جاتا ہے مگر دوسری خصوصیات سے محروم نہیں رہتا۔

سب سے پہلے اور سب سے قیمتی بات!کہ عقائد میں تمام انبیاؑء ایک ہیں۔سب   عقیدہ توحید،رسالت،کتاب،آخرت،ملائکہ،حساب کتاب،جنت و دوزخ پر متفق ہیں۔تو گویا سالک کی اصلاح،عقیدہ کے متعلق بہت اعلیٰ اور یقینی ہو جاتی ہیں۔فقیر نے پچیس برس اپنے شیخ کے ساتھ گزارے حالانکہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ)قلزمِ فیوضات حضرت مولانا اللہ  یار خان ؒ)  نہ صرف متبحر عالم تھے بلکہ بہت ہی بلند پایہ مناظر بھی تھے اور مناظر حضرات کا مزاج ہوتا ہے کہ ہر معاملہ میں کرید بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی۔مگر حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے آنے والے سے کبھی نہیں پوچھا کہ عقیدہ کیا ہے؟اعمال میں کتنی پابندی کرتے ہو؟یا کس ماحول میں رہتے ہو؟

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لطائف پہ توجہ دی اور پابندی کی تلقین کر دی۔فقیر کا مشاہدہ ہے کہ بندے کے اندر جستجو پیدا ہو جاتی اور وہ اپنی اصلاح خود کرتا۔فرائض کا پابند بلکہ  تہجد گزار بن جاتا اور کلبوں  اور ناچ گھروں  سے نکل کر مساجد کی آبادی کا سبب بن جاتا۔ یہ برکات حضور اکرمﷺ کی توجہ اور انواراتِ مبارکہ کی ہوتی ہیں۔ حضور اکرمﷺ ساری انسانیت،سارے زمانوں اور سارے معاملات کے امام اور رسول ہیں۔امورِدنیا میں،زندگی کے ہر شعبے میں    آپﷺ کے نقوشِ کفِ پائے مبارک موجود ہیں جو نہ صرف راہنمائی فرماتے ہیں بلکہ زندگی کو سہل بناتے ہیں اور سو فیصد کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں اور دنیاوی کاموں پر آخرت اور اُخروی کامیابی بطورِ انعام نصیب ہوتی ہے  لہٰذا  جو بندہ زندگی کے شعبے سے متعلق ہو اس میں اُسے بہت کامیابی نصیب ہوتی ہے کہ اسے کام کرنے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے اور وہ ہر کام پورے خلوص سے بھی کرتا ہے۔ایک بات اور ! کہ نہ صرف کام کرنے کا سلیقہ اور شعور نصیب ہوتا ہے بلکہ استعداد دِکار بھی نصیب ہو جاتی ہے۔یعنی: گلشن   میں   علاجِ   تنگی     داماں بھی     ہے

طالب کو کام کرنے کی صلاحیت بھی ربِ کریم عطا فرما دیتا ہے اور یہ لوگ دُنیا و آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہوتے ہیں۔

حضور اکرمﷺ کی برکات گنوانا  ناممکن ہے اور اللہ کی عطا کو شمار کرنا بھی ناممکن۔لیکن سب سے عجیب بات کہ پھر اس کے دعویداروں کو بھی بھٹکتے دیکھا۔وجہ یہ  ہے کہ تمام برکات کے حصول کی بنیاد خلوص پر ہے اور یہ نعمت دل کے فیصلے پر رکھ دی گئی ہے۔وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   شوریٰ۔13

یعنی جو خلوصِ دل سے آرزو کرتا ہے اللہ کریم اُسے ہدایت نصیب فرماتے ہیں۔اب یہ خلوص ایسی دولت ہے جو عظمت میں پہاڑوں سے بلند تر مگر نزاکت میں شیشہ دل سے بھی نازک تر ہے۔درست ہو تو طلبِ حق پیدا ہوتی ہیں۔اللہ کریم اپنے اُن بندوں سے ملا دیتے ہیں جہاں سے برکاتِ رسالت نصیب  ہو کر دل روشن ہوتے ہیں اور یہ نور بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن انسان  پھر انسان ہے۔ نفس اور شیطان تاک میں ہیں جو پہلے تو اس نعمت سے دور رکھنے میں لگے رہے لگر جب  بندے کو احساس ہوتا ہے ،وہ اس طرف آتا ہے اور یہ دولت نصیب ہوتی ہے تو وہ بھی پہلو بدل لیتے ہیں اور پھر گمان پیدا کرنے لگتے ہیں کہ اب تم بہت  پارسا ہو گئے ہو،تمہارا مقام بہت بلند ہو گیا ہے،تمہاری  دُعا تو دُعا،تم جو کہہ دیتے ہو وہ ہو جاتا ہے۔پھر ان کے ساتھ باقی  کمی کالانعام پوری کر دیتے ہیں۔جو ہاتھ چومنا شروع  کر دیتے ہیں اور کبھی گھٹنے چھونے لگتے ہیں اور ہمہ وقت دعاؤں کے طالب اور ان کے  بدلے روپیہ پیسہ نچھاور کرنے لگتے ہیں۔

 اب  یہ معاملہ بہت نازک اور صرف اور صرف عظمتِ الہٰی کا تقاضا کرتا ہے اور لاشے محض ہونے کے یقین پہ اس کی بنیاد ہے۔جب بندہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے کی طرف آنا چاہتا ہے،جس کا سبب نفس،شیطان اور عوام بنتے ہیں تو اس پہاڑوں سے عظیم مگر شیشہ دل سے نازک رشتے میں بال آجاتا ہے اور پھر راستہ قدرو منزلت کی طرف بدل جاتا ہے۔اللہ کریم اس سے محفوظ رکھے۔آمین۔

چنانچہ اس کا دولت و سرمایہ یقین اور خلوص ہے۔جو فقیر کے مطابق ایک ہی کیفیت کے دو نام ہے۔اگر یہ دولت نصیب ہو تو کیا ہوتا ہے؟یہ صرف جانا جا سکتا ہے، بیان کرنا یا لکھنا نا ممکن ہے ۔جسے شوق ہو وہ کر کے دیکھے۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے اور  بلاِخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ایسا طالب جسے لطائف خمسہ نصیب ہو جائیں دنیا وآخرت کے ہر شعبے میں کامیاب ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اللہ کے رسول ﷺ کا ہے کہ جن کی برکات کا پرتو  لوہے کو کندن بنا دیتا ہے۔

 ذرا حیات طیبہ ﷺ پہ غور کیجیے  تو بچپن سے یعنی دنیاوی آسرایا کوئی ظاہری سبب نہیں۔پھر لڑکپن میں حضرت عبدالمطلب کی رحلت  اور آپﷺ کا اپنے چچا ابو طالب کے زیرِ کفالت آنا، وہ آپﷺ کی مدد کیا فرماتے خود آپﷺ اُجرت پر بکریاں چراتے اور اُجرت اپنے چچا کو عطا کرتے۔ پھر آپﷺ کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے شادی  ہوئی تو آپﷺ نے چچا سے فرمایا کہ ایک بیٹا مجھے دے دیں میں اس کی پرورش  کروں گا اور آپ کا بوجھ بانٹ لوں۔پھر اعلان نبوت پر روئے زمین کے کفر و شرک اور ظلم و جور کے مقابل صرف اللہ کریم کی مدد سے کھڑا ہو جانا اور پھر ہجرت فرمانا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ   سورۃ النور ۔54

" کہ میرے رسول کی ذمہ داری تو میرا پیغام پہچانا ہے اور بس۔"

مگر جوں جوں پیغام قبول ہوتا گیا۔ان لوگوں کو آگے کی راہنمائی فرماتے گئے حتیٰ کہ ضرورت پیش آئی کہ اتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے کہ اب آزاد زمین اور آزاد ریاست کا وجود چاہیے تو مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔گھر بار ،دوست،رشتہ دار،مال و دولت،جاگیر جائیداد تمام مہاجرین نے قربان کی اور مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے اور ایک آزاد ریاست کی ابتدا ہوئی۔ اور پھر مدینہ منورہ کے دس سال ایک جہدِ مسلسل ہیں یہ صرف اور صرف آپﷺ کی شان کو زیبا ہے کہ ان دس سالوں کے تمام امور،صرف غزوات و سرایا کی تعداد اسی (80) سے زیادہ ہے۔ پھر ریاست کے تمام امور، قوانین اور ضابطے اور ان پر عمل۔نہ صرف اس ریاست کے لیے بلکہ روئے زمین پر  بسنے والوں کے لیے۔قیامت تک کے لیے ہمیشہ سند کا درجہ رکھتے ہوں۔ اور پھر پورا جزیرہ نمائے عرب کا ریاست میں شامل ہو کر قیصر و کسریٰ کے مقابل اور روئے زمین کے تمام ظالمانہ نظام کے مقابل،عادلانہ نظام کا اجراء۔ یہ محنت نہ ہو تو  وہ پیر سمجھ  سکتا ہے جو مریدوں کی کمائی پہ پلتا ہے اور نہ صرف  وہ سیاستدان جو آج نظام کو کیا بدلے گا اپنا حلیہ تک اسلامی نہیں بنا سکتا کہ کفر نا راض نہ ہو جائے۔

آپﷺ نے امانت اُن جاں نثاروں کے سپرد فرمائی جو خود آپﷺ نے تیار فرمائے تھے اور انھوں نے ربع صدی میں روئے زمین پر نہ صرف پیغامِ حق کو عام کر دیا بلکہ ایسی اسلامی ریاست بنا دی جو ہسپانیہ سے مغربی ہند اور چین تک اور روس سے افریقہ تک اسلامی نظا مِ حکومت کی روشن مثال تھی۔

 یہ لطیفہ روشن ہو جائے تو سالک دنیاوی آسروں کا محتاج نہیں رہتا۔  دن رات دین کی عملی تعبیر کے لیے کوشاں اور ایک انقلاب آفرین ہستی بن جاتا ہے۔نہ صرف خود دینِ حق پر عامل ہوتا ہے  بلکہ ایک عالم کو اس سے برکات نصیب ہوتی ہیں اور لوگ عملاً دینِ حق پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

 ان پانچ لطائف کا نصیب ہونا  بھی اللہ کریم کا بہت بڑا احسان اور نعمت غیر مترقبہ ہے۔ حضرت جی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک نکاح کے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کیلئے قصبہ لیٹی(تلہ گنگ) بلایا گیا چونکہ  متعلقہ خاتون سے بھی حقائق جاننا ضروری تھا لہذا جب خاتون سے تنہائی میں استفسار کرنا تھا تو میں نے کہا کہ کوئی ایک صالح اور عمر رسیدہ بندہ میرے ساتھ کر دو جس کے سامنے بات جان سکو تو انہوں نے قاضی صاحب کو ساتھ بٹھا دیا ۔بات ہوئی، فیصلہ ہو گیا جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو قاضی صاحب بھی ساتھ تھے کہ مجھے بس  کے اڈے تک   پہنچا کر آئیں ، راستے میں کہنے لگے کہ حضرت اللہ ،اللہ کرتا ہوں ، دندہ شاہ بلاول  والے حضرت صاحب جو حضرت شاہ بلاول کی اولاد میں سے تھے، نے مجھے لطائف پہ اسباق شروع کرائے ،غالباً دو سال میں ایک لطیفہ کراتے تھے لہٰذا میں دس سالوں میں پانچ لطائف سیکھ سکا مگر الحمد للہ میرے پانچوں لطائف منور ہیں اور مسلسل محنت کر رہا ہوں مگر عالم یہ ہے کہ میرے رہائش گاؤں سے باہر ڈیرے پر ہے جب کبھی گاؤں جانا ہو اور اونچی جگہ سے گاؤں پر نظر پڑے تو لگتا ہے کہ گاؤں درندوں، سانپوں  اور اژدہوں سے بھرا پڑا ہے ۔حضرت ؒ فرماتے تھے کہ میں سمجھ گیا کہ یہ تو مراقبہ رویتِ اشکال ہے جو باقاعدہ کرایا جاتا ہے مگر ان کے لطائف اس قدر روشن ہیں کہ انہیں اس کی جھلک گاہے بگاہے نظر آجاتی ہے انسان گناہ کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی روح کی شکل بدل کر حیوانی ہو جاتی ہے اگر ایمان باقی رہے تو حلال جانور کی شکل ہوتی ہے ، مگر مسلسل گناہ سے اگر ایمان بھی ضائع ہو جائے تو پھر موذی جانور وں اور درندوں جیسی شکل ہو جاتی ہے اور عموماً جس درندے یا جانور سے عادات کی مشابہت ہو ویسی شکل بنتی ہے ، بظاہر وجود تو انسانی رہتا ہے مگر کردار ویسا ہی ہو جاتا ہے چنانچہ حضرت  جی ؒ فرماتے کہ جب میں نے بات سمجھائی (اور طالب کو بھی کمال درجے کا پایا) تو قاضی صاحب عرض کرنے لگے کہ میرے حضرت کا وصال ہو گیا مگر وہ مجھے بتایا کرتے تھے کہ لطائف سات ہیں کاش کوئی ایسا اللہ کا بندہ مل جاتا جو مجھے سات لطائف تو کرا دیتا حضرت ؒ نے فرمایا : قاضی صاحب اگر میں ہی وہ بندہ بن جاؤں تو؟ حضرت جیؒ کی شہرت عالمِ دین ، مفتی اور مناظر کی تھی اور کجا تصوف! تو قاضی صاحب کو بہت حیرت ہوئی اور فوراً دامن سے وابستہ ہو گئے قاضی صاحب کے شیخ کے منازل فنا بقا سے آگے سالک المجذوبی تک تھے جو بہت اعلیٰ منازل تھے لیکن قاضی صاحب جس چشمہ فیض  سے وابسطہ ہوئےــ بحمدللہ۔۔۔ فنا بقا ، سالک المجذوبی ،عرش حتیٰ کہ نو عرشوں سے بالا عالمِ امر کے کتنے ہی دوائر کو طے کرتے ہوئے انتہائی بلند منازل پہ ان کا وصال ہوا  جو صدیوں میں گنتی کے حضرات کو نصیب ہوتے ہیں ۔ یہاں آج کے طالب یوں نہ سوچیں کہ ہمیں تو ایک ہی نشست میں ساتوں لطائف کرا دیں گے مگر یہ احوال تو نصیب نہیں ۔ گزارش ہے کہ احوال کا مدار مجاہدہ پر ہے ۔ اوّل ، اکلِ حلال   دوم ، صدقِ مکال اور سوم ذکرِ دوام  بھلا کوئی کر  کےدیکھے تو پتہ چلے ۔ ہم چوبیس گھنٹوں میں شاید  چوبیس منٹ بھی ذکر کو دے نہیں پاتے تو کیفیات کیا خاک ہوں گی یاں یہ مقامِ شکر ہے کہ کم از کم عقیدہ  تو درست رہتا ہے اور ایمان قائم  مگر اس پہ مجاہدہ ضرور کرنا چاہیئے کہ یہی وقت جسے ہم محض دنیا کمانے میں صرف کر رہے ہیں آخرت کمانے کا بھی ہے ۔ اللہ کریم توفیق ارزاں فرمائے ۔ آمین

آپ ﷺ کے معجزات کا شمار ہو سکتا ہے نہ برکات کا مگر ایک بات جو میں عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ عنداللہ ایک جذبہ مطلوب و محبوب ہے اور وہ ہے محبت، محبت بظاہر ایک بہت عام سا لفظ ہے اور بات بات پہ استعمال ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو بہت کمیاب ہے لوگ ذاتی مفاد کیلئے جو تعلقات بناتے ہیں عموماً انہیں محبت کا نام دیتے ہیں ۔ مثلا اولاد  سے محبت ہے  لیکن اگر اولاد کما کر نہ دے تو محبت کا فور ہو جاتی ہیں۔اگر والدین اور اولاد کی محبت کا یہ حال ہے تو باقی محبتوں کی بحث فضول ہے۔ہاں اگر کہیں واقعی کوئی ذرہ محبت کا ہو تو وہاں محبت کرنے والا اپنا نہیں محبوب کا خیال رکھتا ہے اور ہر حال میں اس کی خوشنودی کا طلب گار رہتا ہے۔محبت کرنے والا محبوب کا غلام ہو جاتا ہے۔اور اپنی  تمناوں اور آرزوں کو محبوب کی رضا پر قربان کر دیتا ہے۔اگرچہ نجات کے لیے ایمان و اطاعت کافی ہے مگر قربِ ذات کے لیے محبت شرط ہے اور اس کا راستہ اطاعت ہے۔

إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ  آل عمران۔31

کا ارشاد کافی ہے کہ خلوصِ دل سے اطاعتِ رسول ﷺ محبتِ الہیٰ  پیدا کرتی ہے۔

 محبت ایک کیفیت کا نام ہے اور کیفیات دیکھنے،سننے،جاننے سے پیدا ہوتی ہیں مگر اللہ کی ذات علومِ انسانی سے بلند ہے تو جب انسان کے علوم کی رسائی ہی نہیں تو محبت کیسے ہو گی؟فرمایا:

 تم میرا اتباع کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور محبتِ الٰہی کے جواب میں تمہارے دل میں بھی اللہ کریم سے محبت پیدا ہو جائے گی جو مطلوب ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ  سورۃ البقرہ۔165  کہ مومنین اللہ سے شدید محبت کرتے  ہیں۔

یہ تو ایک راستہ ہے۔دوسرا راستہ ہے آپﷺ سے دلی محبت۔جو تعلق سے پیدا ہوتی ہیں اور نبی سے ایسا تعلق جو صرف خلوصِ قلبی پہ منحصر ہو،سینے میں دل  رکھتا ہے،مسجد نبوی کا ستون جس سے حضورﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اُس کا تعلق تو محض وجودِ اقدس سے مس ہونے کا تھا مگر اُس جسم اطہر کے ساتھ مس ہونے نے اس میں اِس قدر جذباتِ محبت کی دوری  برداشت نہ کر سکا اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔

اُستنِ       حنانہ    در    ہجرِ     رسول

نالہ   ہائی    زدچوں     اصحابِ عقول

حنانہ ستون کا نام تھا تو فرمایا حنانہ ستون فراقِ رسولﷺ میں زندہ انسانوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔آپﷺ نے دستِ مبارک پھیرا،تسلی دی۔صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دم سے چپ نہ ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ہچکیاں لیتے ہوئے خاموش ہوتا ہے،چپ  ہوا۔ خشک لکڑی تھی،لکڑی ہی رہی مگر دردِ محبت سے لبریز  ہو گئی۔انسان  تو مکلف مخلوق ہے اور استعداد رکھتا ہے۔اگر واقعی دامنِ پاک وابستہ ہو جائے تو کس قدر درد سمیٹے گا۔

سالک کو پانچویں لطیفہ سے ان سب نعمتوں سے حصہ ملتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ شیخ ِ کامل ہو جو توجہ دے سکے۔اور سالک خلوص اور صدق دل سے توجہ  قبول کرے۔پھر وہ یقینِ محکم،عملِ پیہم،محبت فاتحِ عالم کا مصداق بن جاتا ہے۔اور یہ رب جلیل کا عظیم احسان ہے۔

چوتھا لطیفہ، خفی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

 اس کا مقام سینے پر دوسرے لطیفے کے اوپر ہے اور اس پر حضرت  عیسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام کے انوارات آتے ہیں۔جو چوتھے آسمان سے آتے ہیں اور ان کا رنگ گہرا نیلا ہوتا ہے۔اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی مثال آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام جیسی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف تخلیق میں بلکہ بہت سے کمالات میں بھی مماثلت ہے اور برکات میں بھی۔

 جیسے ان کی ولادت قدرت سے ہوئی بظاہر کوئی سبب نہ تھا۔ایسے ہی سالک کے بہت سے امور قدرتی طور پر حل ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح انھوں نے بچپن میں توحید باری،اپنی نبوت،امورِ دنیا و آخرت کا اظہار فرمایا۔ایسے ہی سالک کو اللہ کریم کی طرف سے علوم عطا ہوتے ہیں۔اگرچہ بظاہر کوئی سبب نہیں ہوتا۔آپ کی بے شمار کرامات تھیں جو قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں۔سالک کو ان کیفیات سے حصہ نصیب ہوتا ہے اور حق بات پہچانے کی جرات نصیب ہوتی ہیں۔دشمنانِ حق سے اللہ کی حفاظت اور عبادات واذ کار کی توفیق عطا ہے اور سب سے بڑی بات کہ سالک کو حق کی تائید اور نا حق کو مٹانے کا جذبہ و توفیق بخشے جاتے ہیں کہ کائنات کا نظام عدل پر قائم ہے۔یہ قدرتِ باری ہے کہ عدل ہر کام اور ہر شے میں ضروری ہے۔ آپ  دال روٹی ہی دیکھ لیں۔نمک،مرچ یا کسی چیز میں کمی بیشی ہو جائے تو کھانا بے مزہ ہو جاتا ہے۔دوا کے نسخے میں اجزاء کی کمی بیشی ہو جائے تو نفع کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ایسے ہی امور دنیا میں نور اور ظلمت میں بھی توازن رہتا ہے۔اگر صرف ظلمت غالب آجائےتونظامِ کائنات تباہ ہو جائے۔جیسے اگر ہمیشہ کے لیے رات ہو جائے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔یونہی دن رات کی طرح ہر شےمیں ایک توازن رہتا ہے اور جہاں لاکھوں لوگ برائی کرتے ہیں وہاں اللہ کریم ایسے بندے بھی پیدا فرما دیتا ہے جو ایک ایک بندہ ایسے کردار اوربرکات کے ایسے معیار کا حامل ہوتا ہے کہ ان کی ظلمتِ گناہ کا مقابلہ اس پر وارد ہونے والے انوارات کرتے ہیں اور نبوت کے بعد آپﷺ کے صحابہ،تابعین،تبع تابعین اور ان کے  بعداولیاءِ امت یا علمائے ربانی ہی اس کی  سعادت سے سرفراز فرمائے گئے۔لہٰذا یہ نظام اسی طرح سے رواں دواں ہے مگر عجیب بات ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و  السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا لیا گیا اور آخری عہد میں پھر زمین پر جلوہ گر ہو کر غلبہ حق کا سبب بنیں گے۔ فقیر کی سمجھ میں اس کی ایک حکمت یہ آئی کہ ایسا دور آئے گا کہ ظلمت گناہ اس قدر بڑھ جائے گی کہ انواراتِ ولایت اس کا مقابلہ نہ کر سکیں گے تو نورِ نبوت کی ضرورت ہو گی اور نبوت تو مکمل ہو چکی،کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہو گا۔ اللہ کریم رب ہے سب ضرورتوں سے آگاہ بھی ہے اور انھیں پوری بھی کرتا ہے چنانچہ اس نے اپنے کرم سے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو آسمان پر اٹھایا۔ضرورت کے وقت نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدیﷺ کا اجراء کریں گے۔ان کی قوت اور انوارات نبوت کے ہوں گے جو اس ظلمت  کو شکست دیں گے۔

چوتھا لطیفہ کرنے سے یہ برکات سالک پر بھی وارد ہوتی ہیں اور وہ کفر و شرک اور گناہ کی تاریکیوں کے مقابلے میں مینارہ نور ثابت ہوتا ہے اور یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ہاں رزقِ حلال،صدقِ مقال اور خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے۔پھر عطائے باری کا تماشا دیکھے۔

میاں! لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے مگر محض کتاب کا حجم بڑھانا مقصود نہیں،بات سمجھانا مقصود ہے اور باتوفیق الٰہی فقیر کا خیال ہے کہ سمجھنے کے لیے لکھا گیا کافی ہے۔

ماہِ مبارک ربیع الاوّل --- میلادالنبیﷺ ، بعثتِ رحمتِ عالمﷺ اور وصال نبویﷺ کا مہینہ

0 Comments

ماہِ مبارک ربیع الاوّل تین اہم واقعات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت و عظمت والا مہینہ ہے۔

اول:  کہ اس ماہِ مبارک میں نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

دوم:  اسی ماہِ مبارک میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو نبوت کے منصبِ جلیلہ سے سرفراز فرمایا گیا۔

سوم:  اسی ماہِ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس جہانِ فانی سے پردہ فرمایا۔

اب قابلِ غور و فکر بات یہ ہے کہ ماہِ مبارک ربیع الاوّل کو کس طرح سے منایا جائے اور اس میں کیا اعمال کئے جائیں۔

دورِ حاضر میں جو ایک رواج چل نکلا ہے کہ بڑے بڑے جلسے اور جلوس نکالے جاتے ہیں اور جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منایا جاتا ہے کیا یہ درست ہے؟  اس کی تاریخی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ماہِ ربیع الاوّل کو کس انداز سے گزارا جائے۔

حقیقت میں  اس انداز اور طور طریقے سے ربیع الاوّل منانے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں چند دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے ہم نے خود اپنے بڑوں  سے سنا اور انہیں کرتے بھی دیکھا کہ وہ اس ماہ کی بارہ تاریخ کو بارہ وفات کے نام سے یاد کرتے تھے۔  اور حسبِ توفیق کچھ پکا کر غرباء ، اقرباء اور  ہمسائیوں میں تقسیم کرتے اور مرحومین کیلئے دعا کرتے۔ چونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات پر تمام ائمہ دین متفق ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی  تو اس  دن کو دعا کرنا اور  حسبِ توفیق کھانا پکا کر غرباء میں تقسیم کرنا بظاہر کچھ ایسا غیرشرعی عمل نہیں تھا البتہ اس عمل کی بھی قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے کوئی دلیل  نہیں ملتی۔ میں سمجھتا ہوں چونکہ یہ عمل بھی اپنا  بنایا گیا یا ایجاد کردہ تھا  اور دین میں جب بھی کوئی نئی بات یا نیا  طریقہ  کوئی اپنی مرضی سے ایجاد کرتا ہے تو وہ رکتا نہیں بلکہ دن بدن اس میں بگاڑ آتا رہتا ہے اور یہی معاملہ اس عمل کے ساتھ ہوا کہ وہ سادگی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی  اور دکھاوے کیلئے اسی دن کو میلاد النبی کے نام سے منایا جانے لگا پھر کچھ عرصے بعد اسے عید میلاد النبی  کا نام دے دیا گیا  اب چونکہ مسلمانوں کی تو عیدیں بھی شرعی حدود و قیود کی پابند ہوتیں ہیں تو یار لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے جشن کا نام دیا جائے کیونکہ جب  نام ہی جشن ہو گا تو جشن تو کسی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا ۔ جشن میں تو جس کا جو دل چاہے کرے اور جس طرح سے مرضی منائے ۔ سو اب یہ دن یعنی بارہ ربیع الاوّل ، جشن ِ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے منایا جاتا ہے  حالانکہ آپ ﷺ کی ولادت کی مختلف روایات ہیں جن میں اکثریت ائمہ دین کے نزدیک 9 ربیع الاوّل کی روایات زیادہ معتبر ہیں  جبکہ آپ ﷺ کی وفات پہ تو تمام ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ بارہ ربیع الاوّل کے دن ہوئی اور وفات کا دن غم کا دن ہوتا ہے جبکہ دورِ حاضر میں جس دن نبی رحمتﷺ کا وصال ہوا  اس دن جشن منایا جاتا ہے ۔ العیاذ باللہ

تیسری اور سب سے اہم بات  جو   خود اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے۔ فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ(164)

بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو انہیں  اس کی آیات سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے  کھلی گمراہی میں تھے۔

یعنی قرآن کریم کی زبانی جو سب سے اہم اور بڑی سعادت مؤمنین کیلئے ہے وہ ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ان کی طرف رسول مبعوث فرمایا جانا ۔

ولادتِ باسعادت تو تمام جہانوں کیلئے سعادت بنی لیکن بندہ مومن کی لئے سعادت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت عالی ہے ۔  کیونکہ جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو بندہ مومن تک اللہ کا پیغام پہنچا، آپ ﷺ نے اللہ کی آیات، اللہ کے احکامات لوگوں تک پہنچائے اور انہیں پاک کیا ہر قسم کے شرک و کفر سے ، ان کے دلوں میں نورِ ایمان بھر دیا ، انہیں برکاتِ نبوت عطا کیں  پھر انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی  جو لوگ اس سے پہلے واضح طور پر گمراہی میں تھے۔ آپ ﷺ کا دنیا میں بھیجا جانا اور نبی مبعوث کئے جانے کا مقصد اس آیت میں بڑی و ضاحت سے بیان فرما دیا گیا لیکن دورِ حاضر میں  ہمارے علمائے دین بجائے اس کے کہ لوگوں کو آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد بتاتے اور لوگوں تک تعلیمات و برکاتِ نبوت پہنچاتے انہیں جلسوں اور جلوسوں میں لگا دیا ، امتِ مسلمہ کو  جشن منانے پہ لگا دیا ۔ کیونکہ  جب بات ولادتِ باسعادت کے بجائے بعثتِ رحمتِ عالم کی آئے گی تو پھر بات قرآن کریم کی آئے گی، پھر حدیث و سنت کا معاملہ آئے گی، پھر اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا پڑے گا، پھر اتباعِ محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے ہم بعثتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف غور ہی نہیں کرتے اور سال میں ایک بار ولادتِ باسعادت کی خوشی  منا کر خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ شاید عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی تقاضہ ہے جو ہم نے پورا کر دیا۔

میرے بھائی ایسا نہیں ہے عشقِ مصطفیٰ تو اطیعواللہ واطیعوا لرسول سکھاتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو صحابہ کرام جیسا ایمان عطا کرتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو زندگیوں میں انقلاب لے کر آتا ہے اور زندگی کے ہر عمل کو شریعتِ اسلامیہ کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ہم نے ولادت کی خوشی کو ایک تہوار کی شکل دے دی کہ سال میں ایک دفعہ دل کھول کے خرچ کر دیا اور پھر سارا سال مسجدوں کا منہ نہیں دیکھتے ، زندگی ویسی کی ویسی خلافِ شرع گزارتے رہتے ہیں ۔ حتی ٰ کہ شکل سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ مسلمان ہے بھی کہ نہیں کیونکہ  نبی رحمت ﷺ کا امتی تو دور سے دکھائی دیتا ہے  کہ یہ باریش چہرہ ضرور مسلمان کا ہے، یہ جو چہرے پہ داڑھی سجائے ہوئے ہے یہ آپ ﷺ کا امتی ہے۔ عشقِ مصطفیٰ کا اولین تقاضا یہ ہے کہ زندگی سنت کے مطابق گزاری جائے ، اسلام کو اپنے روز مرہ کے امور میں شامل کیا جائے ، کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ سوچا جائے کہ آپ ﷺ کا طریقہ کیا ہے۔ کیونکہ  سنت سے اچھا کوئی طریقہ، کوئی اسلوب نہیں ہو سکتا۔

عرض یہ ہے کہ اس ماہِ مبارک کو ولادتِ باسعادت، وصال نبویﷺ یا بعثتِ عالی جس بھی  وجہ کو دیکھ کے منایا جائے  طریقہ اور اسلوب قرآن و سنت سے لیا جائے گا ، کام اور عمل صرف وہی کئے جائیں جن کی اسلام نے اجازت و حکم دے رکھا ہے اور درود و تلاوت کی محافل منعقد کی جائیں، مسجدوں میں شور و غل مچا کے مسجدوں کی بے حرمتی کے بجائے  سیرت النبی ﷺ  پہ بیانات ہوں، عوام کو تفرقہ بازی کے بجائے سنتِ خیر الانام اور اسوہ حسنہ سے متعارف کرایا جائے  ، آواز کا جادو جگانے کے بجائے ادب و احترا م سے آپ ﷺ کی شان ِ اقدس میں نعتیہ کلام پیش کیا جائے تو  کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر بڑے بڑے جلوسوں، جلسوں، کھانوں اور چراغاں پہ بے دریغ خرچ کرنا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ لینے والے نام نہاد علماء لا کر خود کو عاشقِ رسول سمجھنا ہے  تو یہ خود فریبی ہے  ایسی کوئی رہنمائی نہ تو قرآن و حدیث سے ملتی ہے نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کوئی عمل کیا اور نہ ہی چودہ سو سال میں کسی مکتبہ فکر کے ائمہ دین سی ایسی کوئی بات ثابت ہے۔ تمام ائمہ دین نے اس ماہ مبارک کو انتہائی ادب و احترام سے منانے کا حکم دیا  اور اس کی حدود و قیود بھی بتلائیں اور کیا اعمال کئے جائیں یہ بھی بتلایا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تادمِ آخر صراطِ مستقیم پہ قائم رہنے کی توفیق  و ہمت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

طالبِ دعا : ابو محمد زبیر اویسی

تیسرا لطیفہ،سِرّی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

لطیفہ سری کا مقام پہلے لطیفے کے اوپر ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ  و السلام کا فیض آتا ہے جو تیسرے آسمان سے آتا ہے۔اس کے انوارات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔کبھی لگاتار سفید روشنی اور کبھی گالوں کی بارش،کبھی سفید بادلوں کا جھرمٹ ،غرض اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہر کوئی مشاہدہ کرتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام   کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو ولادت کے ساتھ ہی دریا میں ڈال دیے گئے۔عجیب آزمائش شروع ہو گئی مگر اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ ان کے طفیل ان کی والدہ ماجدہ کو بھی شرف ہمکلامی سے نوازا گیا۔

ارشاد ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى ۔ القصص: 7    ہم نے والدہ موسیؑ سے بات کی۔

سبحان اللہ! گویا یہاں سالک کو تو نصیب ہوتا ہے الحمد اللہ مگر اس کے طفیل  اس کے متعلقین کو بھی برکات پہنچتی ہیں۔

پھر دریا سے شاہی محل میں پہنچ گئے اور فرعون کے ہاں بچپن،لڑکپن اور جوانی تک مقیم رہے۔کہا جاتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول انسان کو بدل دیتا ہے مگر فرعون کا شاہی محل اور اس کا ماحول موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو تو نہ بدل سکا۔چنانچہ ان برکات کا انعکاس سالک پر بھی ہوتا ہے اور وہ ماحول میں ڈھلنے کی بجائے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت سے نوازا جاتا ہے۔

جوانی میں ایک قبطی کا حادثاتی طور پر عدل کی حمایت میں ان کے ہاتھوں مارا جانا،فرعون کا ان کے قتل کا قصد اور ان کا ہجرت فرمانا اور مدین چلے جانا،وہاں شعیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بچیوں سے ملاقات،پھر ان کے ہاں شادی بھی ایک عجیب مرحلہ ہے کہ جب کنویں پہ پہنچے تو دیکھا کہ چروا ہے ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو بچیاں الگ سے کھڑی ہیں۔پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ضعیف ہیں،کوئی اور ہے نہیں جو ریوڑ لے کر آئے۔ جب دوسرے لوگ چلے جائیں گے تو ہم ریوڑ کو پانی  پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام نے آگے بڑھ کے ڈول کھنچا اور ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ وہ چلی گئیں تو ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ گئے اور دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ  ۔ القصص: 24

یا اللہ نہ گھر بار،نہ واقف کار،سخت احتیاج کا عالم ہے۔خیر عطا فرما۔تو ان  بچیوں میں سے ایک،جس کے چلنے کے انداز سے بھی حیا ٹپک رہی تھی،انھیں بلا نے آئی۔گویا عورت ہر سوال کا جواب تھی۔رشتہ داری بھی ہو گئی،ٹھکانا بھی مل گیا،روزگار بھی کہ باحیا عورت تمام نعمتیں  ساتھ لاتی ہیں۔

پھر روانگی،طور پہ تجلیاتِ باری کا مشاہدہ اور کلامِ الٰہی اور پھر فرعون کو دعوتِ حق دینے کا حکم۔ایک ایسے سرکش بادشاہ کو جو اپنی خدائی کا دعویدار تھا، دعوتِ الی اللہ ۔پھر جادو گروں سے مقابلہ۔ان دونوں مقامات پر توکل علی اللہ کی عظیم مثال اور پھر برسوں قبطیوں اور فرعون سے مقابلہ و مجادلہ۔ پھر بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت،سمندر سے راستہ ملنا،کوہ طور پر حاضری،کلامِ الٰہی اور کتاب کا عطا ہونا،پھر آگے سفرِ جہاد،غرض ایک جہدِ مسلسل ہے۔بظاہر ہر کام، کی ابتداء مشکلات سے ہوتی ہے اور انتہا عطائے الٰہی پر۔ آپ علیہ السلام کی حیات بے شمار عجائبات کی طویل داستان ہے جسے  یہاں سمونا ممکن نہیں۔

جب سالک کے لطیفہ پر ان کے انوارات آتے ہیں تو ان میں وہ سب طرح کی برکات ہوتی ہیں۔اپنی حیثیت کے مطابق ہر سالک ان سے مستفید ہوتا ہے ۔اللہ کریم پر بھروسہ نصیب ہوتا  ہے۔حق بات سے بڑے سے بڑے جابر کے سامنے کہنے کا حوصلہ پاتا ہے اور حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔نیز دمِ واپسیں تک غلبہ حق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔یہ بات اور ہے کہ نقلی صوفی نکمے ہوتے ہیں ورنہ جنھیں یہ نعمت نصیب ہوتی ہے وہ انقلاب آفرین شخصیات بن جاتی ہیں اور شاید میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ ہر سالک کو اس کی استعداد کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ سب ایک سا حصہ نہیں پاتے۔ ہر ایک کے خلوص اور مجاہدہ،دونوں کا مقام اپنا اپنا ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے برکات سے حصہ نصیب ہوتا ہے۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 43 - اجتماعیت کی اہمیت - عبادات کی قبولیت کا معیار و طریقہ - دینِ اسلام میں ذاتی پسند و ناپسند کا دخل

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ(43)

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

اس رکوع میں براہِ راست مخاطبین تو اولادِ یعقوبؑ  یعنی بنی اسرائیل ہیں جو نزول وحی کے وقت یہودِ مدینہ کی شکل میں موجود تھے، انہیں حکم دیا جارہا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، کیونکہ یہود و نصاری بھی عبادت  تو  کرتے تھے لیکن انہی پرانے مروجہ طریقوں کے مطابق کرتے تھے اب چونکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہو چکے تھے شریعتِ مطہرہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا تو اب عبادت کا کوئی اور طریقہ یا کسی کی اپنی مرضی یا پسند کے مطابق عبادت نہیں ہو گی، دونوں طرح کی عبادتوں یعنی مالی اور جسمانی عبادت کا ذکر کر کے فرما دیا گیا  کہ اب نماز ویسی ہو گی جیسی محمد الرسول اللہ ﷺ تعلیم فرمائیں گے ، اب زکوٰۃ و صدقات کا وہ طریقہ قابلِ قبول ہو گا جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو گا۔

 فرمایاگیا  وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ رکوع کرو،  رکوع کرنے والوں کے ساتھ

یہود جو عبادت کرتے تھے اس میں رکوع بھی نہیں تھا اور دوسرا وہ انفرادی عبادت کرتے تھے  اس لئے رکوع کا ذکر فرمایا اور اجتماعی رکوع کا فرمایا گیا ۔ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ویسی عبادت کرو جیسے دوسرے لوگ کر رہے ہیں  یعنی اب تمہارا طریقہ عبادت  قابلِ قبول نہیں ہو گا  اب عبادت ویسے ہو گی جیسی   نبی رحمتﷺ تعلیم فرمائیں گے اور جیسے  آپﷺ کے اصحاب کریں گے، جیسے تمام مسلمان کریں گے  اس لئے فرمایا گیا کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ، یعنی ایسے عبادت  کرو ، ایسے نماز ادا کرو جیسے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کر رہے ہیں، رکوع و سجود کے ساتھ اور اجتماعی طریقے سے نہ کہ انفرادی طور پہ۔

 اس آیتِ کریمہ میں جو واضح  حکیمانہ پہلو میں سمجھ سکا ہوں  وہ یہ ہے کہ  اگر کوئی اپنے طریقے سے یا آباء و اجداد سے رائج طریقے پہ عبادت کرتا ہے  یا پھر جمہور کے مذہب سے مختلف انفرادی طور پہ یا کچھ لوگ مل کر بدنی یا مالی عبادت کا کوئی طریقہ اختیار کر لیتے ہیں  اور وہ طریقہ امت کی اکثریت سے مختلف ہے تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا، خلاف ِ شرع، خلاف ِ سنت  اور جمہور سے ہٹ کے کوئی طریقہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ وہی طریقہ ، وہی عمل ، عبادت کا وہی اسلوب  قابلِ قبول ہو گا جو قرآن و سنت کے مطابق ہو گا ، جس پہ آپ ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر اب تک اور تاقیامت امت مسلمہ قائم ہے اور قائم رہے گی۔

دورِ حاضر پہ غور کیا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ نہ صرف بدنی عبادات یعنی نماز وغیرہ بلکہ  مالی عبادات یعنی عشر و زکوٰۃ میں بھی ہم نے اپنے اپنے طریقے گھڑ لئے ہیں ۔ اذان  کو سنیں  تو مختلف قسم کی اذانیں سننے کو ملتی ہیں اصل کو تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے تھے اور کیا بھی نہیں لیکن اذان سے پہلے اور بعد میں ہم نے اپنی طرف سے اضافہ کر رکھا ہے  اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ الفاظ برے نہیں تو اذان کے ساتھ پڑھنے میں کیا حرج ہے، سادہ سی بات ہے کہ دینِ اسلام میری اور آپ کی پسند و ناپسند کا معاملہ نہیں ، دینِ اسلام علماء اور اہلِ علم حضرات کی ذاتی رائے پہ قائم نہیں۔ دینِ اسلام وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے اللہ کے نبی ﷺ نے خود بھی  کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم فرمایا اور انہوں نے نہ صرف آپ ﷺ کے  زمانے میں آپﷺ کی موجودگی میں اس پہ عمل کیا بلکہ اس کو تین چوتھائی   دنیا پہ  نافذ بھی کیا ۔ آج بھی ، کل بھی اور قیامت تک ویسے ہی کرنا ہے جیسا سنت سے ثابت ہے ، جیسا خلفائے راشدین نے عمل فرمایا، جیسے چودہ سو سال سے امت کی اکثریت کرتی آرہی ہے۔

اسی طرح نماز پہ غور کرو تو اس  کی بھی اصل میں تو کوئی تبدیلی نہیں  لائی جا سکی  تو فروع میں نماز سے پہلے اور بعد میں  ایسے رواجی قسم کے اضافے کر دیئے ہیں کہ جس مسجد میں جاؤ  نماز کی ایک الگ صورت نظر آتی ہے۔

لباس میں ذاتی پسند و ناپسند اور انفرادیت  والے پہناووں کو سنت کا نام دے رکھا ہے ۔

مالی عبادت میں زکوٰۃ و عشر جو فرض ہیں ، انہیں چھوڑ کر محض دکھاوے کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، بڑی بڑی محافل,جلسے جلوسوں اور ذاتی نمائش کیلئے کھانوں کا اہتمام کر کے لاکھوں روپے کا ضیاع کیا جاتا ہے اور فرض مالی عبادت یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ دیا  ہی نہیں جاتا۔ دینی معاملات کے نام پہ بے دریغ خرچ کرنے والوں سے جب زکوٰۃ و عشر کے بارے میں دریافت کیا تو اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں زکوٰۃ و عشر کے احکامات کا پتہ ہی نہیں اور اگر پتہ ہے تو کبھی زندگی  میں اپنے مال کا حساب ہی نہیں کیا ، تخمینہ ہی نہیں لگایا کہ مال کتنا ہے اور اس پہ زکوٰۃ کتنی بنتی ہے۔عشر کے معاملے میں اکثریت  ایسے لوگوں کی ہی جو بالکل عشر دیتے ہی نہیں اور بہت تھوڑی تعداد وہ ہے جو تھوڑا سا غریبوں کو دے کر  خود کو عشر سے بری الذمہ  سمجھ لیتے ہیں۔ سادہ سی اور عام فہم بات ہے کہ اگر کسی کے پاس وقت کم ہے اور مصروفیات بہت زیادہ ہیں  اور وہ چار رکعت فرض نماز کی بجائے دو یا تین پڑھ لے  اور کہے کہ وقت کی کمی کیوجہ سے میں نے چار کی بجائے دو یا تین پڑھ  لیں تو کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائے گی۔ ہر گز نہیں ہو گی بلکہ گناہ گار ہو گا۔

اسی طرح زکوٰۃ و عشر کا بھی جو نصاب ہے  اگر کوئی اس کا حساب لگائے بغیر  پورا پورا ادا نہیں کرتا اور اپنی مرضی اور پسند سے کچھ نہ کچھ دے کر بری الذمہ سمجھتا ہے  تو زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی نہیں ہو گی  یعنی اگر  زکوٰۃ اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ پانچ ہزار بنتی ہے  تو کم از کم رقم پانچ ہزار ہی دینی ہو گی ہاں اگر کوئی احتیاطاً  اضافی دیتا ہے تو زیادہ بہتر ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ غریبوں کی مدد کرتا رہتا ہوں  تو مجھے زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں تو ایسا نہیں ہے یہ اس کے صدقات و خیرات شمار ہوں گے اور نفلی مالی عبادت ہو گی ۔ فرض تب ہی ادا ہو گا کہ جب حساب لگا کے مقررہ مقدار ادا کرے گا۔

یہی بات اس آیتِ کریمہ میں سمجھائی جا رہی ہے کہ نماز و زکوٰۃ چونکہ فرض عبادتیں ہیں  اس میں تمہاری مرضی اور پسند و ناپسند نہیں چلے گی  بلکہ  جیسے سب کر رہے ہیں جو رہنمائی قرآن و سنت سے ملتی ہے، جیسا آپﷺ نے تعلیم فرمایا، جو طریقہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہے اور جیسا جمہور علماء کے نزدیک معتبر ہے ، وہ ہی قابل قبول ہو گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 42 - حق و باطل کو ملانا اور حق کو چھپانا - دورِ حاضر کی فرقہ واریت کا بنیادی سبب

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ)42(

اور حق کو باطل سے نہ ملاؤ اور تم حق کو نہ چھپاؤ اور یہ تم جانتے ہو۔

بنی اسرائیل یعنی یہود کو مخاطب کر کے جو کچھ سابقہ آیات میں فرمایا جا رہا ہے  اسی تسلسل کے ساتھ فرمایا گیا کہ حق و باطل کو غلط ملط نہ کرو، حق و باطل کی آمیزش نہ کرو، سچ اور جھوٹ کو آپس میں ملاوٹ نہ کرو اور دوسری بات جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی گئی وہ ہے حق کو چھپانا۔ یہود علماء جو مشرکین و کفار کو بڑے فخر سے بتلاتے تھے کہ ہماری کتابوں میں نبی آخر الزمان کی بشارتیں ہیں  اور جب وہ آئیں گے تو ہم ان پہ ایمان لائیں گے لیکن جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے اور اعلانِ نبوت فرمایا تو انکار کرنے لگے اور انہی بشارتوں اور پیش گوئیوں کو مختلف رنگ دینے لگے جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ وہ اپنے پاس سے من گھڑت دلیلیں دیتے اور کہتے کہ نبی تو مبعوث ہونگے لیکن وہ بنی اسرائیل سے ہوں گے نہ کہ بنی اسماعیل ؑ سے اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات کرتے جن کا ذکر قرآن ِ کریم میں موجود ہے اور طرح طرح کے اعتراضات اٹھاتے۔ دوسری بات  جو فرمائی گئی کہ حق کو نہ چھپاؤ کیونکہ حقیقت جو خود انہیں معلوم تھی اور وہ جانتے تھے کہ آپﷺ ہی اللہ کے آخری  اور بر حق نبی ہیں  جس کہ گواہی  تورات و انجیل میں موجود تھی لیکن یہ بات وہ عام لوگوں سے چھپاتے حالانکہ وہ بخوبی اس بات سے آگاہ تھے، انہیں علم تھا کہ شریعتِ مطہرہ ہی حقیقی شریعت ہے  اور نبی کریم ﷺ ہی وہ نبی ہیں جن کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی  گئیں  پہلی: حق کو باطل کے ساتھ ملانا،  دوسری: حق کو چھپانا اور یہ دونوں کام جانتے بوجھتے ہوئے کرنا  نہ کہ لا علمی کیوجہ سے۔

عام عوام کو اصل سے ،حقانیت سے ،دینِ حق سے دور  رکھنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، پہلا: یہ کہ حق و باطل کی آمیزش کر دی جائے، سچ اور جھوٹ کو باہم ملا دیا جائے تاکہ عام لوگ حق کی شناخت ہی نہ کر سکیں ، سچائی تک پہنچ ہی نہ پائیں ،دوسرا: یہ کہ حق کو چھپایا جائے اور حقیقت کو  ان تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ یہ دونوں کام ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جانتے بوجھتے ہیں  یعنی علماء اور اہلِ علم لوگ، دین کا علم رکھنے والے لوگ۔

دور ِحاضرمیں اگر ہم غور کریں  تو جو فساد برپا ہے ، جس پر  فتن دور سے ہم گزر رہے ہیں جو تفرقہ بازی کا ماحول بنا ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔ موجودہ دور میں علماءِ ظاہر نے لوگوں کو قصوں اور کہانیوں پہ لگایا ہوا ہے ۔ اصل حقیقت ، اصل احکامِ دین اور علوم ِ شریعت لوگوں تک پہنچائے ہی نہیں جاتے۔اور تو اور ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں جو  کہ اسلام کے نام پہ لوگوں سے ووٹ لیتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس غیر اسلامی نظام ِ حکومت کو سپورٹ کر رہی ہوتی ہیں۔ا س مغربی جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل کا خود بھی حصہ بن جاتی ہیں۔ جس میں نظامِ عدل، نطامِ معیشت، نظامِ تعلیم الغرض سب کچھ ہی غیر اسلامی ہے۔

تو ایک بہت بڑا گروہ علماء کا وہ ہے جو اصل امورِ دین ، احکامِ دین اور اسلامی فلسفہ حیات بیان ہی نہیں کرتا۔ قرآن و حدیث کی تعلیم لوگوں تک پہنچے ہی نہیں  دے رہا  یعنی حق کو چھپائے بیٹھا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق و باطل کی اس حد تک  آمیزش کر دی ہے  کہ آج کے دور کا مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور  اور کئی قسم کے فتنہ و فسادات میں پھنس چکا ہے ۔ امتِ مسلمہ گروہ در گروہ کئی جماعتوں ، گروپوں اور گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اپنی دکانداری چمکانے کیلئے، لوگوں سے  داد وصول کرنے کیلئے، لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کیلئے فروعی اختلافات کو اس حد تک ہوا دی جاتی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو کافر سمجھتا ہے اور اس کی جان کے درپے ہوتا ہے۔ امتِ مسلمہ تک دین کی اصل تعلیمات پہنچانے کی بجائے انہیں مختلف رواجات، رسومات اور بدعات میں الجھایا ہوا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے فرمایا جا رہا کہ انہوں نے حق و باطل کو  ملا دیا ہے ، سچ اور جھوٹ کی آمیزش کر دی ہے  اور یہ سب وہ جانتے بوجھتے ہوئے، اپنے ذاتی مقاصد و فوائد اور جھوٹی داد وصول کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو اصل دین ِ اسلام پہ لے آئیں تو یہ گروہ، یہ جماعتیں ،یہ مختلف مذہبی گروپس ختم ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ان کی دکانداریاں  جو انہوں نے پیر خانوں ، آستانوں، اور جماعتوں کی شکل میں بنائی ہوئی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 41 - انکار کرنے والوں میں پہل کرنا - اللہ کی آیات کو بیچنے کا مطلب ۔ ایصال ثواب کیا ہے اور اس کا صحیح طریقہ

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ(41)

اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے اور اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو اور میری آیات کو معمولی قیمت(دنیا) کے بدلے مت بیچو اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔

سابقہ آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب یعنی یہود کو مخاطب کرکے انعامات کی یاد دہانی کرائی گئی ،اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا کہا گیا تاکہ جزا کے طور پہ اللہ ان سے اپنا وعدہ پورا کرے اور صرف اللہ سے ڈرنا کا حکم ہوا   فرمایا گیا کہ صرف میرا ڈر رکھو ، صرف مجھے خاطر میں لاؤ۔

اب فرمایا جا رہا ہے  وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ ۔ اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے۔

یعنی قرآن ِ کریم پہ ایمان لاؤ اور دلیل کے طور پہ ارشاد ہوا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی تمہارے لئے کوئی نرالی یا انوکھی بات ہے  بلکہ یہ قرآن نہ صرف سابقہ کتب  بلکہ سابقہ انبیاء ، ملائکہ،صفات باری تعالیٰ، آخرت کا عقیدہ، روزِ جزا کا معاملہ، جنت و دوزخ اور تمام وہ الہامی احکامات و عقائد جو سابقہ انبیاء اور شریعتوں میں موجود تھے،  یہ قرآن ان کی تصدیق کر رہا ہے۔اور جو تک بنیادی عقائد کا تعلق ہے تو وہ تو تمام شریعتوں میں وہی ہیں ، دعویٰ تو ہمیشہ وہی رہا یعنی لا الہ الا اللہ۔ قرآن ِ کریم نہ صرف اقوامِ سابق ، انبیاءِ سابق ، احکاماتِ سابقہ کی تصدیق کر رہا ہے بلکہ اس کی  بشارت و اطلاع بھی سابقہ کتب میں موجود تھی۔

پھر فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ ۔اور اس کا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو۔

اس کو جھٹلانے والوں میں، اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو یعنی اس کا انکار کرنے میں پہل نہ کرو۔

انکار تو انکار ہی ہوتا ہے لیکن جو پہل کرتا ہے اس کا معاملہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بعد میں آنے والوں کا بار بھی اس پہل کرنے والے کی گردن پہ ہوتا ہے۔ دوسری خاص وجہ جو انہیں  انکار میں پہل سے منع فرمایا جا رہا ہے کہ تم پہل کرنے والے نہ بنو ۔ اس کی وجہ ان کا الہامی دین ، انبیاء ِ سابقہ کی پیروی  اور اللہ تعالیٰ کی خاص لاڈلی قوم ہونا اور ان کے پاس اس کی دلیل کا موجود ہونا جو سابقہ انبیاء اور کتابوں کے ذریعے ان کے پاس تھی، جیسے عموماً ہماری کسی بات کا کوئی انکار کرے تو ہم کہتے ہیں کہ تم تو انکار نہ کرو، اس کی وجہ اس سے ہماری قربت ، ہماری محبت ہوتی ہے یا پھر چونکہ اس کے پاس اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا ۔  جس کی وجہ سے ہم اسے کہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بے شک انکار کرتا ہے تو کرتا رہے تم تو انکار نہ کرو یا تمہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ بنی اسرائیل کا تھا کہ ان کی کتابوں  میں نبی آخرالزمان ﷺ اور دین ِ محمدی کی بشارتیں موجود تھیں ، آپﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کی نشانیاں موجود تھیں اسی لیے انہیں فرمایا جا رہا ہے کہ پہل کرنے والے نہ بنو ۔انتظار کرو ، دیکھو ، سمجھو ، تحقیق کرو تو تم خود بخود ایمان لے آؤ گے،سچائی تمہارے سامنے آجائے گی ، حق تمہارے سامنے آشکار  ہو جائے گا۔

پھر فرمایا وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا اور میری آیات کو معمولی قیمت کے بدلے مت بیچو

یہود علماء جن کے پاس علم تھا وہ دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے تھے اور اپنی مرضی سے اپنے فائدے اور مقصد  کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو من گھڑت معانی و مفاہیم پہناتے تھے اور عوام جو اصل احکامات تو جانتی ہی نہیں تھی، ان کو حجت مانتی تھی، جو علماء کہ دیتے اسی کو اللہ کا حکم تصور کرتے۔

دورِ حاضر میں تقریباً یہی صورت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ دینی علوم کو  ایک خاص طبقے تک محدود  کیا جا  چکا ہے  اور جو وہ بتا دیں اسی بات کو حق اور سچ سمجھا جاتا ہے۔اور  المیہ یہ کہ انہوں نے قرآن و حدیث کو مرضی کے معانی و مفاہیم پہنانے کی کوشش کی اور دینی احکامات کو اپنے مقاصد و فوائد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بلکہ دورِ حاضر میں ایک اصطلاح عام ہو چکی ہے  ککہ فلاں مذہب   کارڈ  کھیل رہا ہے  یعنی مذہب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا " الگ ہو دین سیاست سے  تو رہ جاتی ہے چنگیزی" جبکہ ہم سمجھتے   ہیں کہ دین کا دنیاداری سے بھلا کیا تعلق  ۔ حالانکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یا کوئی بھی نظام ہو سب سے بہترین صورت دین ِ اسلام میں ہی پائی جاتی ہے،امورِ دنیا اگر دین کے بغیر چلائے جائیں تو  بقول علامہ ؒ وہ چنگیزی ہوتی ہے یعنی ظلم و جبر ہو گا، ظالمانہ نظام ہو گا۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے، ملکی  نظام سے لے کر خاندانی نظام تک، ملکی معیشت سے لے کر ذاتی کاروبار و تجارت تک ہر طرف ظلم ہی ظلم دکھائی دیتا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں بڑا  حکیمانہ نکتہ یہ بھی  بیان ہو ا فرمایا: ثَمَنًا قَلِيلًا تھوڑی سی قیمت یعنی اگر اللہ کی آیات کے بدلے  تم دنیا جہاں کی دولت بھی لے لو ، تم دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ بھی لے لو تو اس کی قدر و قیمت  ، اسکی اہمیت و وقعت اللہ کے احکامات کے بدلے ، اللہ کی آیات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگی۔

آج کل ایک عام رواج چل پڑا ہے  کہ ہم پیسے دے کر یا کھانا وغیرہ کھلا کر ایصالِ  ثواب کیلئے  قرآن پڑھواتے ہیں ۔

حضرت ؒ اکرم التفاسیر میں  مفتی محمد شفیع ؒ کی بحث ذکر فرماتے ہیں جو انہوں نے معارف القرآن میں اس حوالے سے فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ برکت کیلئے اجرت لینا جائز ہے ، لیکن جہاں تلاوتِ قرآن ِ پاک کا ثواب چاہیے وہاں اجرت  آج بھی حرام ہے ۔ مثلاً ہم کسی مرنے والے کیلئے ختم پڑھواتے ہیں کہ اس کو ایصالِ ثواب ملے اور پڑھنے والے کو پیسے دیں یا کھانا دیں، دونوں حرام ہیں ۔فقہ کی چوٹی کی کتابوں  میں یہ مسئلہ موجود ہے اور مفتی صاحب نے معارف القرآن میں بھی درج کر دیا ہے کہ وہاں قرآن ِ کریم کے ثواب کی ضرورت ہے، ثواب تب ہی ہو گا جب پڑھنے والا اللہ کی رضا کیلئے پڑھے گا، جب پڑھنے والا فی سبیل اللہ پڑھے گا۔ اور پڑھانے والا فی سبیل اللہ پڑھوائے گا ۔ تو جب ہم ختم میت کیلئےکرواتے ہیں تو کھانا دینا بھی جائز  نہیں ہے اور جو اجرت کیلئے پڑھتا ہے اس سے نہ پڑھوایا جائے، جب پڑھنے والے کو ثواب کے بجائے گناہ ملا تو میت کو کیا ملے گا، رسمِ دنیا ہے لیکن قرآنِ کریم اسے حرام فرما رہا ہے کہ معمولی اجرت کیلئے میری کتاب کو، میری آیات کو مت بیچو ، یہ بیچنے کی چیز نہیں ہے۔

وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو ، کسی اور معامے کو کسی اور خوف کو ، کسی اور کی ناراضگی کو خاطر میں مت لاؤ  بلکہ صرف مجھ سے ہی حیا کرو، صرف مجھ سے ہی ڈرو، صرف میری ناراضگی کی فکر کرو۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی