کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


ذکرِ قلبی اور لطائفِ روحانی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 ذکرِ قلبی

ارشاد نبویﷺ ہے کہ جسم کے اندر گوشت  کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست اور صالح ہے تو  سارا  بدن  صالح  ہے، اگر   وہ  فساد زدہ  ہے تو  سارا  بدن فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ (ألَا اِنَّ فِی الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ ، الَاَ وَہِیَ الْقَلْبُ) تو قلب سے مراد،گوشت کے لوتھڑے یعنی دل( جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے) کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اور عالم امر سے ہے۔

لطائف

جس طرح بدن کے اعضاء رئیسہ ہیں اسی طرح روح کے اعضاء رئیسہ ہیں۔بدن مادی ہے،اعضاء بھی مادی ہیں۔مگر روح عالم امر سے ہے لہٰذا     اس کے اعضائےرئیسہ بھی عالم امر سے ہیں ان کو لطائف کہا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں  کہ انسان  پانچ نہیں دس چیزوں سے بنا ہے۔پانچ اجزائے بدن ہیں اور پانچ لطائف روحانی۔بدن کے اجزاءمٹی، آگ،ہوا،پانی اور ان کے ملنے سے نفس بنا۔جبکہ روح کے پانچ لطائف ہیں۔قلب،روح،سری،خفی اور اخفا۔یہ پانچوں لطائف ہر روح میں موجود ہیں  اور انھیں میں انوارات کو قبول کرنے،محسوس کرنے اور کیفیات پانے کی استعداد ہے۔

یہ پانچویں لطائف تو بنیاد ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تو ان پروارد  ہونے والے انوارات کے رنگ بھی تحریر فرمائے ہیں۔نیز مختلف سلاسل  میں ان پانچویں کو بنیاد  مانا جاتا ہے۔اپنے اپنے ذوق کے مطابق بعض نے لطائف بیان فرمائے کہ سات ہیں اور بعض کے نزدیک گیارہ بھی ہیں۔یہ تو جیہات ذوقی ہیں۔یعنی کشف ومشاہدہ اپنا اپنا ہے۔لیکن سب کی بنیاد یہی پانچ ہیں اور پھر پانچ کا حاصل بھی ایک ہے لطیفہ قلب۔کہ سب اذکار کا حاصل آخر اسی کی روشنی اور جلا ہے۔

ہمارے ہاں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پہ ذکر کیا جاتا ہے۔جن میں چھٹا لطیفہ نفس ہے،ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار۔نیز ان کے مقامات بیان ہوئے ہیں اور یہ اختلاف اپنے اپنے ذوق اور مشاہدے پر مبنی ہے ورنہ منزل سب کی ایک ہے اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رائے  کا  اختلاف باعث برکت ہوا کرتا ہے ۔ الحمدللہ۔ہر آدمی کی اپنا مزاج اور اپنا ذوق ہوتا ہے۔کسی کو ایک طریقہ زیادہ مفید ہے تو کسی کو دوسرا۔یہی وجہ ہے کہ بعض شیوخ طالب کو دوسرے شیخ کے پاس  بھیج دیتے تھے کہ تمہارا حصہ وہاں ہے۔اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ ولایت کوئی جاگیر ہے اور مختلف لوگوں کے پاس اس کے مختلف حصے ہیں بلکہ  وہ ان کا ذوق دیکھ کر اندازہ فرماتے تھے کہ انھیں وہاں سے فائدہ ہو گا۔وگرنہ تو ہر مومن ولی اللہ ہے۔یہ رسید ہے اس بات کی کہ اللہ ہر مومن کا دوست ہے اور اسے ایک درجہ ولایت کا حاصل ہے ہاں مشائخ اسے پالش فرماتے ہیں اور مزید قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔مزید توفیق عمل نصیب ہوتی ہے تو قرب الہی میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور درجہ احسان یعنی حضور حق کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ 

ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔

ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ - کیا تصوف اسلامی ہندو یوگیوں، عیسائیوں یا یہودیوں کی ایجاد ہے؟ کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

پیشتر اس کے کہ قلب یا ذکرِ قلبی کا ذکر کیا جائے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ تصوف ہندو یوگیوں سے حاصل کیا گیا ہے ہو یہود و نصاریٰ کی ایجاد رہبانیت سے لیا گیا ہے اور یوں ایک ملغوبہ وجود میں آیا جس نے عقائد کو تو نقصان پہنچایا ہی ، ساتھ میں لوگوں کو عمل سے بھی بیگانہ کر دیا۔ یہ بات میں نے اچھے اچھے دانشوروں کی تحریروں میں  بھی پائی بلکہ زوالِ امت کے اسباب میں تصوف کو بھی شامل کیا گیا۔ دراصل یہ تصوف کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوا کہ ہمارے دانشور حضرات نے بغیر  پڑھے اور بغیر سمجھے یہ فیصلہ دے دیا ۔

            اسلام میں تصوف کیا ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میرے نزدیک لفظ تزکیہ کا ترجمہ ہے جس سے مراد دل کی صفائی ہے اور صفائے دل کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عقائد نتھر کر صاف ہو جاتے ہیں ۔ عظمتِ باری کا یقین ، رسالت پر ایمان اور ضروریاتِ دین کے ساتھ پختہ تر ایمان نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترتیبِ قرآن کریم سے ظاہر ہے:

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ            کہ دعوت کے بعد پہلا کام ، جو قبول کرے اس کا تزکیہ ہے اور اس کے بعد تعلیمِ کتاب و حکمت ہے۔ تو واضح ہے کہ بغیر تزکیہ کے بندہ کتاب و حکمت سے استفادہ کی اہلیت ہی نہیں پاتا اور اس درجہ یقین نصیب نہیں ہو سکتا  جو اتباع  اور اطاعت پر مجبور  کر دے اور نافرمانی سے روکنے کی  طاقت  رکھتا  ہو ،  جو مطلوب ہے۔ بھلا ہندوؤں کی تعلیمات سے یہ نعمت نصیب ہونا  کیسے ممکن ہے ؟  ہاں ہندوؤں کے ہاں بھی  بڑی  شدید  چلہ کشیاں  پائی  جاتی ہیں  مگر یاد رہے کہ اگر بھوکے رہ کر اور نیند نہ لے کر ارتکازِ توجہ کا ایک درجہ حاصل بھی کر لیا جائے تو اس سے ایمان نصیب نہیں ہوتا ، نہ کشفِ الٰہیات نصیب ہوتا ہے کہ برزخ منکشف ہو ،  بالائے آسمان کا مشاہدہ ہو ۔  یہ ناممکن ہے۔  ہاں جو چیزیں  مادی آلات سے  دیکھی جا  سکتی  ہیں اس کا نظر آنا ممکن ہے جیسے ٹی وی وغیرہ سے دور کے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں  بلکہ یہ بھی کتب میں ملتا ہے کہ افریقہ میں جنگلیوں کا  ایک ایسا قبیلہ پایا گیا  جو دور سے آپس میں بات بھی کر لیتے تھے ۔ اگر کوئی  گھر سے باہر جاتا تو وقتِ مقررہ پر وہ متوجہ ہوتا ، دوسرا گھر میں متوجہ ہوتا تو بات کر لیتے تھے۔ اس پر روس کی حکومت نے کوشش شروع کی تھی کہ ایسا طریقہ فوجی مقاصد کیلئے اختیار کیا جائے ۔ پھر ان سے ہو سکا یا نہیں ، اللہ کریم جاننے والے ہیں ۔ اسی طرح ایک ہندو یوگی حضرت استاذالمکرم(قلزم فیوضات حجرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے بتایا کہ اس نے بہت محنت کی ہے جس کے نتیجے میں اسے یہ کمال حاصل ہے کہ جب وہ متوجہ ہوتا ہے تو ایک شکل ظاہر ہو جاتی ہے  جسے وہ جہاں کہے پہنچا دیتی ہے۔ تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ تمہیں اس شکل سے اُنس محسوس ہوتا ہے یا ڈر لگتا ہے ؟تو اس نے کہا ڈر لگتا ہے مگر وہ میری بات مانتی ہے ۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وہ شیطان ہے کہ شیطان ، انسان کا دشمن ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور دشمن سے ڈر ہی لگے گا۔

            تو اس سب کا اسلامی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں  کہ تصوف اسلامی میں اس طرح کی چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں بلکہ  یہ زندگی بھر کا مجاہدہ ہے کہ ہر کام شریعت کے مطابق کیا جائے اور یہ ایسا چلہ ہے جو نہ تو آسان ہے ، نہ ہی اس کا کوئی بدل ہو سکتا ہے۔

            عہدِ رسالت مآب ﷺ میں ایمان کے بعد جس کو ایک نگاہ نصیب ہوئی اس کا تزکیہ ہو گیا ۔ جس نے آپﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی نگاہ ِ پاک جس پہ پڑ گئی وہ درجہ صحابیت پہ فائز ہوا جو بعد نبوت اعلیٰ ترین مقام ہے مگر یہ یاد رہے کہ ذکرِ اسم ِ ذات کا حکم ان سب کیلئے بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان مردو خاتون کیلئے ہے۔

            دوسری بات کہ خلافِ اسلام چلہ کشہ خواہ ہندو فلسفہ سے ہو یا یونانی، انسان کو  دنیوی اعتبار سے ناکارہ بنا دیتی ہے اور اس کی استعدادِ کار ختم ہو جاتی ہے ، مگر تزکیہ جہاں ایمان ِ کامل عطا کرتا ہے وہاں استعدارِ کار بہت بڑھ جاتی ہے اور ایک آدمی زندگی میں کئی آدمیوں جتنا کام کر جاتا ہے ۔ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر چودہ صدیوں کے حقیقی صوفیاء اور علماء ربانیین کو دیکھئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ ا س پر کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ ایک عام مسلمان کلمہ گو  دنیوی امور میں بھی کافر کی نسبت زیادہ استعدادِ کار رکھتا ہے چہ جائیکہ صوفی۔ یہ حضرات نکمّے نہیں،  نِچَلّے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کام کرتے چلے جاتے ہیں کہ کام کرنا اور شریعت کے مطابق کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور دوسری عجیب بات یہ بھی  ان حضرات میں پائی جاتی ہے  کہ ایک وقت میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ہر شعبے میں کامیاب رہتے ہیں جو سوائے صوفیاء کے کہیں نہیں ملتا۔ بڑے بڑے لوگ ایک اور صرف ایک شعبے میں نام کماتے ہیں جبکہ صوفیاء زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی راہنمائی  فرماتے ہیں ۔ پھر یہ حکم لگانا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے  کس قدر ناانصافی کی بات ہے ۔ لوگ دماغ سے کام کرتے ہیں جو دوسرے آلات سمع و بصر وغیرہ کا محتاج اور حالات و واقعات سے متاثر ہوتا ہے مگر صوفیاء دِل سے کام کرتے ہیں  جو صرف جذبات پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ دِل خارجی اثرات سے بالاتر ہوتا ہے اور جب اس کے اندر اللہ کا ذکر مقیم ہوتا ہے تو اس کا ہر فیصلہ اطاعتِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔ نیز حسبِ استطاعت کبھی بیکار نہیں رہتا  بلکہ دماغ، دِل کے تابع اور اعضاء و جوارح دماغ کے تابع ہو کر، اس کی ساری قوت بہترین کام پہ لگی رہتی ہے۔

            ہاں جن لوگوں کو شیخِ کامل نہ ملا اور انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کے  کمالات یا شہرت و دولت پانے کے لیے وطیفے پڑھے اور چلے کاٹے ان کی بات دوسری ہے ۔ ایسے لوگوں پہ یہ حکم  لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو ازم یا کسی اور سے متاثر ہوئے اور انھیں صوفی کہنا یا سمجھنا بھی ہرگز  درست نہیں۔

            جہاں تک صوفیاء اور اہل اللہ کا تعلق ہے تو ساری محنت رضائے باری کے لیے کرتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی سے توفیق عمل بھی نصیب ہوتی ہے اور گناہ سے بچنے کی توفیق بھی ۔ رضائے باری کے حصول کا واحد ذریعہ اتباعِ رسالت اور اجتناب عن المعاصی یعنی گناہ سے پرہیز ہے۔ صوفیاء کو بھی کشف و مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل باتوں پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

اوّل۔    کشف و مشاہدہ مقصد نہیں ہوتا۔ ہاں کشف و مشاہدہ ہو جائے تو اللہ کریم کی عطا ہے۔

دوم۔     کشف قدرتِ باری پہ ایمان کو اور مستحکم کرتا ہے اور احکام کی بنیاد سمجھ آتی ہے نیز وضاحت بھی نصیب ہوتی ہے۔

سوم۔    یہ امورِ دنیا یا لوگوں سے اپنا آپ منوانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے عجز کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔

چہارم۔  اگر کشف شریعت کے مطابق ہو تو درست، اگر خلاف ہو تو پھر صاحبِ کشف کو غلطی لگی  ہے ۔ وہ قابلِ عمل نہیں ہو گا۔

پنجم۔     اگر کشف میں کوئی بات ظاہر ہو یا کوئی کام کرنے کا اشارہ ملا تو صرف وہ خو د، جو صاحبِ کشف ہے۔ اس پر عمل کرے دوسرا کوئی فرد اس کے کشف کا مکلّف نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہے لہٰذا امورِ دنیا میں تو اس کی ضرورت نہ رہی۔

مقصدِ تصنیف رموزِ دل شرح کنوزِ دل - تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی  حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

بندہ نے چند سطور رموزِ دل کے نام سے طالبین کی راہنمائی کیلئے سپردِ قلم کیں۔ مقصد یہ تھا کہ سلوک و تصوف ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے اور اس میں ایک لفظ اور ایک بات کی کئی تعبیرات ہو سکتی ہیں لہٰذا شیخ کے ارشادات یا توجہ اور مراقبات کی  تعبیرات میں یکسوئی رہے اور ہر کوئی اپنی الگ تعبیر نہ سمجھے۔ اگرچہ اس میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا ۔ اصولی بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ فروعی طور پر اپنی سمجھ ، علم اور استعداد کے مطابق کچھ فرق آ سکتا ہے ۔ یہ فرق بھی خطرے سے خالی نہیں کہ شیطان کچھ بھی القا ء کر کے اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تو اگر تعبیرات بھی  سمجھ میں  آجائیں تو اللہ کریم اس خطرے سے بچنے کا سبب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مختصراً ایک کتابچہ تحریر کر دیا گیا ہے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذکر اذکار یا سلوک و تصوف کا سرے سے انکار اور اسے ثابت کرنے پہ زورِ قلم صرف کرنا اب علم کی شان سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب سے صرف نصف صدی پہلے تک بر صغیر کے علماء کے حالات پڑھیں تو ملتا ہے کہ فلاں مدرسے سے تحصیلِ علم کے بعد اتنا عرصہ فلاں بزرگ کی خدمت میں رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرات میدانِ عمل میں قدم رکھتے تھے ۔ مگر آج سارا زورِ قلم ذکر اذکار کے انکار پر صرف کیا جارہا ہے اور اسس کی خاطر  بڑے خوبصورت جال بنے جاتے ہیں ۔ جیسے بندہ نے کل ایک مضمون دیکھا جس میں فاضل مصنف نے سارا زورِ قلم یہ ثابت کرنے پہ صرف فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے قرآن ِ کریم ہی مراد ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں۔ بہت اچھی بات ہے ۔ قرآن کریم ذکر ہے ، مگر یہ کہنا بے دلیل ہو گا کہ صرف قرآن ہی  ذکر ہے۔ کیا حدیث شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تسبیحات یا درود شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تبلیغ ذکر نہیں ہے؟ کیا عبادات، نماز ،روزہ ، حج،زکوٰۃ ذکر نہیں ہیں؟

قرآن ِ کریم میں جہاں جہاں ذکر کا حکم ہوا ہے کیا ہر جگہ تلاوتِ قرآن کریم مراد لی جا سکتی ہے؟ جیسے لڑائی میں حکم  ہے:

فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔  الانفال:٤٥

کہ ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ۔

تو کیا ممکن ہے کہ حالتِ جنگ میں لڑائی بھی جاری رکھیں اور تلاوت بھی؟

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ۔          آل عمران: ١٩١

تو کیا کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہوئے تلاوت ممکن ہے؟ یا

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔               سورۃالجمعہ:١٠

سورۃ  جمعہ میں ہے کہ نماز کے بعد اپنے کام پہ جاؤ، مزدوری کرو، رزقِ حلال کماؤ اور اللہ کا ذکر کثرت سے جاری رکھو۔ ذکر کو اگر قرآنِ کریم مانا جائے تو کیا یہ عمل ممکن ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ قرآنِ کریم ذکر ہے، افضل ترین ذکر ہے مگر یہاں 'قرآن بھی ذکر ہے' تو درست ہے، یہ درست نہیں کہ 'قرآن ہی ذکر ہے'۔

ذکر میں اور بھی بہت سے چیزیں ، حتیٰ کہ عقائد سے ایمان اور اعمال تک شامل ہیں۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 33- کیا انبیاء و اولیاء کا علم علمِ غیب ہوتا ہے۔۔۔علمِ غیب کیا ہے - علمِ غیب کس کے پاس ہے اور عالم الغیب کون ہے؟

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ

 فرمایا (اے آدم) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں پھر جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے فرمایا کیا  میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو وہ (سب ) بھی جانتا ہوں۔

جو  معاملہ سابقہ آیات میں بیان فرمایا جا رہا تھا اس آیتِ کریمہ میں اسی معاملے کو یعنی دلیلِ علمِ آدم کو مزید تقویت دی گئی۔ سابقہ آیات میں علمِ آدم ؑ کو فرشتوں پہ دلیل کے طور پہ پیش کیا تو فرشتوں نے مان لیا کہ آپ کی ذات پاک ہے،ہمیں آپ کی عطا کے علاوہ کچھ علم نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہی علم و حکمت والی ہے۔

فرشتوں کے اس  اقرار پہ اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس  کے بعد علم ِ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا ثبوت پیش کیا گیا جو اس آیتِ کریمہ میں  بیان ہوا:

 قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ  فرمایا (اے آدم ؑ) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں۔

فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ    پھر جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے۔ 

قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں  اور زمین کی تمام پوشیدہ   باتیں جانتا ہوں ۔

وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ

اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔

اس آیتِ کریمہ میں بہت سی حکمتیں بیان ہوئیں۔ قرآن ِ کریم میں جہاں ایک طرف واقعات و حالات بیان ہو رہے ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف اگر غور کیا جائے تو اس واقعے کے بہت سے حکیمانہ پہلو بھی ہوتے ہیں۔شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان
مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ قرآنی آیات پہ غور کرنے سے ہر دفعہ ایک نیا مثبت پہلو سمجھ میں آتا ہے۔اسی طرح سابقہ چاروں آیات سے بھی بہت سے قیمتی نکات اور حکیمانہ باتیں سمجھی جا سکتی ہیں۔

اس فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات چونکہ واقف و آگاہ تھی اس بات سے کہ آدم علیہ السلام  کو جو خلافت سونپی جا رہی تھی  اس پہ فرشتوں اور جنات  جن کا سردار ابلیس تھا، ان سابقہ دونوں مخلوقوں کو ان کی افضلیت و فوقیت تسلیم کرنے میں تردّد ہو گا ،جس کا اظہار فرشتوں نے کر دیا جبکہ ابلیس ابھی اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا۔ تو اللہ تبارک وتعالی ٰ نےان کا یہ اعتراض و شبہ دور فرمایا حالانکہ اللہ کی ذات ِ بر حق محتاج نہیں تھی  انہیں قائل کرنے  کی  جبکہ فرشتوں کے پاس حکم عدولی کا تصور بھی نہیں تھا۔ اس سے یہ نکتہ سمجھ آتا ہے کہ باوجود طاقت و اختیار کے جب آپ کسی پہ کچھ پیش کرو، کوئی دعویٰ کرو تو آپ کے ذمہ ہے فریقِ ثانی کے شبہات و اعتراضات دور کرنا۔ اور پھر شبہات و اعتراضات کو دور کرنے کا طریقہ و سلیقہ بھی سمجھا دیا کہ دعویٰ پیش کرنے کے بعد جب فریقِ ثانی اپنے شبہات کا اظہار کرے تو اس پہ اپنی دلیل پیش کرو  اور جب وہ دلیل پہ قائل ہو جائے تو دلیل کو صرف زبانی کلامی نہ رکھو بلکہ ساتھ ثبوت بھی پیش کرو یعنی دلیل کو عملی طور پہ ثابت کر کے دکھاؤ تاکہ فریقِ ثانی کے دل میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے۔جیسے اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ باوجود اختیار و طاقت کے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں کے شبہات کو دلیل سے دور فرمایا۔ سو جب وہ قائل ہو گئے  تو اس پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے شبہات کو دور کرنے کے لئے ان پہ علم آدمؑ کو ثابت بھی کر دیا گیا اور فرمایا کہ آدم ؑ ان کو ان چیزوں کے نام بتائیے تا کہ ان میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے ۔ا سکے بعد انہیں یہ بات یاد دلائی جا رہی ہے  کہ  قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں  اور زمین کی تمام پوشیدہ   باتیں جانتا ہوں ۔اور مزید فرمایا کہ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔ یعنی نہ صرف ان چیزوں کو جو تم ظاہر کرتے ہو  بلکہ ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو۔ ظاہر کیا تھا ؟ ظاہر وہ شبہات تھے جن کا اظہار انہوں نے برملا کر دیا اور چھپانے والی باتیں تھیں جو انہوں نے برملا بیان نہیں کیں لیکن ان کے اندر موجود تھیں مثلاً یہ کہ ہم پاکیزگی و عبادت کی وجہ سے افضل مخلوق ہیں جبکہ خلافتِ ارضی آدم ؑ کو سونپی جا رہی ہے۔یا وہ باتیں جو شیطان نے اپنے اندر رکھی ہوئی تھی جن کا اظہار اس کے انکار کی صورت میں ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو سجدے کا حکم دیا تو اس کا غرور و تکبر سامنے آگیا اور اس نے سجدے سے انکار کر دیا۔

ایک اور اہم بات جو قاسمِ فیوضات حضرت مولانا  محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں بیان فرمائی ۔ فرماتے ہیں : لوگوں میں یہ بحث چلتی رہتی ہے اور میرے خیال میں یہ فضول بحث ہے کہ علمِ غیب کیا ہے ؟ اور آدم علیہ السلام کو کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بتا دیا گیا تو وہ بھی عالم الغیب ہو گئے۔ یہ درست نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ " علمِ غیب وہ ہوتا ہے جو بغیر کسی سبب کے جانا جائے اور جو جانتا ہو وہ عالم الغیب ہوتا ہے، یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جو بغیر کسی کے بتائے جانتا ہے ، بغیر کسی کے دکھائے دیکھتا ہے، کسی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں، ہر چیز کو ہر وقت ہر آن جانتا ہے، یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے۔انبیاء علیہم السلام کو اللہ کے مقرب بندوں کو علوم عطا کیے جاتے ہیں ۔اب جس کی خبر دی جائے، بتایا جائے وہ غیب نہیں رہتا،بتانے والے نے بتا دیا تو غیب ختم ہو گیا ۔ ہاں آپ کہ دیں کہ اس بندے کو اللہ تعالیٰ نے غیب پر مطلع کر دیا  یا غیب کی خبر دے دی تو قہ انبیاء علیہم السلام کی شان ہے کہ بے شمار ایسے غیب ہیں جو انبیاء اور رسولوں کو بتائے جاتے ہیں۔

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ        سورۃ آل عمران-179

لوگو! اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ تم سب کو غیب پر اطلاع دے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہیں منتخب فرما لیتے ہیں۔

یعنی انبیاء علیہم السلام کو ، اپنے رسولوں کو ، اور یہ بات طے شدہ بات ہے کہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جتنے ضروری علوم دیئے گئے ان سب سے زیادہ علوم آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کو عطا فرمائے۔ ہر نبی کو اس کی اپنی ضرورت اور اس کی اپنی امت کی ضرورت کے  مطابق احکامِ شریعت اور دنیا و آخرت کے علوم عطا فرمائے گئے۔ نبی کریم ﷺ چونکہ سارے انبیاء کے بھی نبی ہیں۔ ساری امتوں کے بھی ان انبیاء کے واسطے سے نبی ہیں۔امام الانبیاء ہیں اور بعثت سے ہمیشہ کےلئے آپ کی نبوت جاری و ساری ہے تو ان ساروں زمانوں میں جو ہونا چاہئے تھا ،جو درست ہے ،جو غلط ہے وہ سارے علوم نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گئے۔ لیکن وہ علم غیب نہیں ہے وہ اطلاع علی الغیب ہے، غیب پر مطلع فرما دیا گیا۔

یہ بحث فضول ہے کہ علم ِ غیب کسے  ہوتا ہے؟ علمِ غیب خاصہ ہے اللہ تعالیٰ کا ۔ وہ بغیر کسی کے بتائے، بغیر کسی ذریعے کے، بغیر کسی واسطے کے جانتا ہے اور جو غیب نبی جانتے ہیں وہ اطلاع علی الغیب ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں غیب پر مطلع فرما دیتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کو ،اولیاء کرام کو مطلع فرما دیتا ہے اس کی اپنی مرضی جسے چاہے عطا فرما دے جسے چاہے بتا دے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 31،32- علمِ آدم علیہ السلام کو بطورِ دلیل پیش کیا جانا - قرآن و حدیث کو اپنے عقل سے سمجھنے والوں کا معاملہ - سر سید کا انکار ملائکہ

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)31( قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ)32(

اور آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر وہ (چیزیں ) فرشتوں کے سامنے کر دیں تو (فرشتوں سے) فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام(مع خواص) بیان کرو۔

سابقہ آیات میں آدم  علیہ السلام کو خلیفۃ الارض بنائے جانے کا بیان ہوا تو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں حمد اور پاکی بیان کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم ؑ کے علم کو فرشتوں پر دلیل کے طور پر پیش کیا آدم ؑ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام حاضر و غائب چیزوں کے نام مع خواص بتا دیئے اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے کہ آدم ؑ کو کیا سکھایا گیا اور کن چیزوں کے نام و خواص سکھائے گئے۔

امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ،قتادہ، مجاہد اور ابنِ جبیررحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو تمام بڑی چھوٹی چیزوں کے نام سکھا دیئے۔   

 میں سمجھتا ہوں اس بات پہ بحث و تحقیق بے مقصد ہے کہ آدم ؑ کو کتنا  علم عطا کیا گیا  اور کن چیزوں کا علم عطا کیا گیا کیونکہ یہاں اس معاملے کے بیان کی غرض و غایت فرشتوں پر آدم ؑ کی افضلیت و فوقیت ثابت کرنا تھی۔ فرشتوں کا گمان کہ ہم افضل مخلوق ہیں اور خلافت ہمارے بجائے آدم ؑ کو دی جا رہی ہے تو ان پہ اس کی وجہ ظاہر کرنا مقصود تھا۔پھر جب فرمایا گیا کہ  أَسْمَاءَ كُلَّهَا تمام چیزوں کے نام تو مزید بحث و گفتگو بے مقصد ہے۔

یہاں جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو علم یا کچھ بھی عطا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کے دستِ قدرت میں ہے وہ جب ،جہاں،جتنا چاہے کسی کو واسطہ یا بلا واسطہ عطا کر دے۔ وہ کسی سبب وسیلے یا ذریعے کا محتاج نہیں۔ جیسے اس نے  آدمؑ کو بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے سب کچھ سکھا دیا ۔ اسے اصطلاح میں علم لدنّی کہا جاتا ہے،یعنی جس نے کسی مدرسے یا استاد سے تو نہ پڑھا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے علوم کے خزانے عطا فرما دے۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے نام و احوال  تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں جو خود تو پڑھے لکھے نہ تھے یا معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے لیکن بڑے بڑے علماء ان کی مجلس میں حاضر ہو کر ان سے علوم و معارف سیکھتے تھے۔

حضرت عبدالعزیز دباغ رحمتہ اللہ علیہ جو بارھویں صدی ہجری کے مشہور صوفیاء میں سے ہیں۔ امّی تھے،لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدنّی سے فیض یاب فرمایا۔لوگ ان سے احادیث سنا اور پوچھا کرتے تھے کہ کیا یہ قولِ رسول ﷺ ہے تو آپ من گھڑت کا بھی بتلا دیتے اور یہ بھی بتلا دیتے کہ اس حدیث میں یہ الفاظ زائدہ ہیں اور یہ زبانِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے جاری نہیں ہوئے۔ فرماتے تھے کہ الفاظ سے نکلنے والے انوارات بتا  رہے ہوتے ہیں کہ یہ الفاظ آپ ﷺ کے ہیں یا کسی اور کے شامل کردہ۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جس کو جتنا چاہے عطا کر دے۔

آدم علیہ السلام کو تما م نام مع خواص سکھانے کے بعد  ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ  پھر وہ اشیاء فرشتوں کے سامنے کر دیں یعنی ان کو وہ تمام اشیاء جن کا علم آدم علیہ السلام کو القاءکیا گیا دکھا دی گئیں اسکے بعد فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ تو فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے اسماء(مع خواص) بتلاؤ۔

یعنی اگر تم سمجھتے ہو کہ تم آدم ؑ سے افضل ہو ،تم ان سے بہتر ہو  جس کی وجہ سے تم آدم علیہ السلام کو خلیفۃ الارض بنانے پہ شبہات  کا اظہار کر رہے ہو تو اگر تم اپنے ان شبہات میں کوئی سچائی رکھتے ہو ، اپنی ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہو، اپنے قول میں وزن رکھتے ہو تو ان اشیاء کے نام جن کا علم ہم آدم علیہ السلام کو دے چکے تم بھی اگر جانتے ہو تو ان کے نام بتاؤ جبکہ یہ تمہارے سامنے ہیں تم ان کو دیکھ سکتے ہو تو بتلاؤ ان کے نام و خواص۔

قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

انہوں نے کہا آپ پاک ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے علاوہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔بےشک آپ جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔

اپنی کم علمی اور کم مائیگی انہیں سمجھ میں آگئی تو انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکی بیان کی اور اعتراف کیا کہ ہم نہیں جانتے۔ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں دیا ہے۔ بےشک علیم و حکیم تو  اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آپ ہی علم والے اور تخلیقِ آدم کی حکمتوں سے آگاہ ہیں۔

یہاں پہ بڑا اہم اور خاص نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کو کسی چیز پہ  اعتراض ہے اور اس اعتراض پہ آپ کے سامنے دلیل پیش کیجائے۔ ایسی دلیل جو آپ کو لاجواب کر دے اور آپ کے پاس اعتراض کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہ رہے تو اپنی غلطی و نادانی کو مان لینا چاہیے بجائے اسکے کہ ہٹ دھرمی دکھائی جائے اور خواہ مخواہ کی ضد اور انانیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ جیسے یہاں پہ  جب فرشتوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تو انہوں نے مان لیا کہ ہم کم علم اور محدود علم رکھتے ہیں ،حقیقی علم و حکمت تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے پاس ہے۔اور حکم خداوندی پہ آدم علیہ السلام کے سامنے سر بسجود ہو گئے۔ جس کا ذکر اسی رکوع میں آگے آئے گا جبکہ شیطان واضح دلیل دیکھنے کے بعد  بھی ہٹ دھرمی اور ضد و انانیت پہ قائم رہا جس کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا۔

ایک  اور ضروری بات عرض کرتا چلا کہ اس آیت کی تفسیر میں سر سید احمد خان  کافی تفصیل سے فرشتوں کے بارے میں اپنا عقیدہ لکھتے ہیں جس کا مختصراً حوالہ پیش کر رہا ہوں۔ موصوف اپنی تفسیر القرآن میں رقم طراز ہیں کہ: عرب کے بت پرست فرشتوں کو ایک مجسم  اور متحیر چیز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کھاتے پیتے نہیں اور نہ کچھ بشری ضرورت ان کو ہے وہ آسمانوں پہ رہتے ہیں اور زمین پہ آتے جاتے ہیں، وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان بھی فرشتوں کو زمین پہ رہتے چلتے پھرتے دیکھ سکتا ہے، اسی خیال سے وہ آنحضرتﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ اگر وہ پیغمبر ہیں تو فرشتے ان کے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔

مزید لکھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے جو عرب کے بت پرستوں کا تھا۔وہ فرشتوں کو ہوا کی مانند لطیف اجسام سمجھتے ہیں اور مختلف شکلوں میں ان کے بن جانے کی قدرت جانتے ہیں۔ایسی خلقت کی در حقیقت موجود ہونے کی بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس بات کا ثبوت کہ ایسی خلقت ہے ،نہیں ہے۔قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا کہ مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ بر خلاف اس کے پایا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک

سر سید احمد خان کا حوالہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دورِ حاضر میں بھی کچھ نادان اپنی عقل و دانش پہ بھروسہ کرکے قرآن و حدیث کے من پسند معانی و مفاہیم تراشتے ہیں جو نہ صرف جمہور ائمہ دین کی رائے کے بر عکس ہوتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث سے بھی ٹکراؤ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تفاسیر اور احادیث پہ کی گئی تحقیق اگر ظاہراً  ہماری اپنی کم علمی کیوجہ سے ہمیں اچھی بھی لگ رہی ہو  تو بھی ایسے لوگوں سے بچنا چاہیئے۔ کیونکہ یہ اپنی خود پسندی  اور شہرت کے جال میں نہ صرف خود پھنس چکے ہوتے ہیں بلکہ اوروں کی بھی گمراہی کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ ایسی لوگوں کی واضح شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو بڑا عالم و فاضل ظاہر کرنے کیلئے اور اپنی علمی دھاک بٹھانے کیلئے  ائمہ دین ،اولیاء کرام ،فقہاء کرام،مفسرین و محدثین پہ  نہ صرف تنقید کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ان کی شان میں انتہائی گستاخانہ الفاظ بول رہے ہوتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی