ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں
اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّٓا إِبْلِيسَ أَبٰى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔
اور جب ہم نے فرشتوں کو
حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب سجدے میں گر گئے اس
نے (غرور میں آکر) انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ (علم الٰہی میں) تھا ہی کافروں
میں سے۔
سابقہ آیات میں آدم علیہ
الصلوۃ و لسلام کی افضلیت و فوقیت ثابت کی گئی اب جب کسی پہ کچھ ثابت کیا جا چکا
ہوتا ہے تو اس کا امتحان لیا جاتا ہے کہ کیا واقعتاً اس نے دل و جان سے اس بات کو تسلیم بھی کر لیا ہے
یا ابھی اس میں شک و تردّد باقی ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی ٰ نے موجود دونوں
مخلوقوں یعنی فرشتے اور جنات کا امتحان لیا۔ اور امتحان کیسے لیا؟
ارشاد ہوتا ہے: وَإِذْ
قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ
اسْجُدُوا لِاٰدَمَ اور جب ہم نے فرشتوں کو
حکم دیا ہے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو
یہاں
پر الفاظ سے لگتا ہے کہ شاید یہ حکم فرشتوں کو دیا جا رہا ہے لیکن آیت کا اگلا حصہ
اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی
تھا،ابلیس چونکہ جنات کی نمائندگی کرتا تھا اور فرشتوں کے ساتھ آسمانوں پہ مقیم
تھا اور اس مجلس کا حصہ تھا تو حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی تھا۔
پھر
فرمایا: فَسَجَدُوا
إِلَّٓا إِبْلِيسَ تو
ابلیس کے علاوہ سب سجدہ ریز ہو گئے۔
آیتِ کریمہ کے یہ الفاظ
واضح طور پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ حکم صرف ملائکہ کےلئے نہیں بلکہ جنات کے لئے بھی
تھا جن کی نمائندگی اس وقت اس مجلس میں ان کا سردار ابلیس کر رہا تھا۔
ایک اور بات جو اکثر
مفسرین کے درمیان موضوعِ بحث رہی کہ کیا یہ سجدہ تعظیمی تھا یا سجدہ عبودیت اور
چونکہ سجدہ عبودیت تو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کیلئے ہے تو کیا یہ شرعی سجدہ
تھا یا تعظیمی؟
اس بات کو قاسمِ فیوضات
حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں انتہائی وضاحت کے
ساتھ بیان فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں: سجدہ اصطلاحِ شریعت میں قبلہ رو ہو کر دونوں
گھٹنے ،دونوں پاؤں،دونوں ہاتھ،ناک اور پیشانی زمین پہ رکھنے کا نام ہے جیسے ہم
عبادت کرتے ہیں۔ عرفاً احترام و تعظیم کو بھی سجدہ کہا جاتا ہے جیسے شاہی دربار
میں جھک کر سلام بجا لاتے ہیں تو اصطلاحاً اس کو بھی سجدہ کہ دیا جاتا ہے۔ اب یہ
اللہ جانے کہ فرشتوں سے یہ سجدہ کرایا گیاہے جس طرح نماز میں ہوتا ہے تو بھی کوئی
مشکل نہیں، آج بھی ہم بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرکے یا بیت اللہ شریف کے سامنے
سجدہ کرتے ہیں۔ بیت اللہ تو قبلہ سجود ہے ،سجدہ تو اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے،بیت
اللہ ایک مرکز ہے، ایک قبلہ ہے جو اللہ نے مقرر فرما دیا۔ اب ایک جگہ کو اللہ نے
مقرر فرما دیا تو وہی پتھر ،وہی گارا جو بیت اللہ شریف میں لگا ہوا ہے وہ تو ہمارا
مسجود نہیں، اگر پتھر وہاں سے اکھیڑ لئے جائیں اور اسی گارے اور پتھروں کو کسی اور
جگہ لگاتے ہیں تو کوئی اسے سجدہ کرے گا؟ پتھروں کو ،گارے کو سجدہ مقصود نہیں ہے۔
وہ گارا پتھر تو اس جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اللہ نے سجدے کیلئے مرکز بنا دیا
جو اس کی تجلیات کا مرکز ہے، لیکن سجدہ تو اللہ کو ہوتا ہے۔ اسی لئے حکم ہے کہ آپ
کہیں کسی جنگل میں کھو جائیں اور پتہ نہ چلے کہ شمال جنوب کدھر ہے، کوئی سمجھ نہیں
آتی ،رات ہو گئی، نماز پڑھنی ہے تو اندازہ کر لیں
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ- اگر
غلط بھی ہو گیا تو جدھربھی ہوا، وہ قبول کرے گا۔ اگر فرشتوں کا یہ حکم ہوا کہ آدم
علیہ الصلوۃ و السلام کو قبلہ سمجھ کر سجدہ کرو تو وہ آدم علیہ السلام کی عظمت ہے،
سجدہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ علمائے کرام نے دونوں باتیں لکھی ہیں ۔ ضروری
نہیں کہ یہ عبادت کا سجدہ ہو ،یہ تو تعظیم تھی یعنی آدم ؑ کی عظمت اپنے اوپر قبول
کرو۔ یعنی آدم ؑ کو قبلہ بنا کر سجدہ کرایا گیا تو بھی سجدے اللہ کی لئے ہے اور
آدم ؑ کی عظمت کا اقرار کرانا مقصود تھا اور یہی مقصد تعظیمی سجدے کا بھی تھا،
اَبیٰ اس نے یعنی ابلیس نے انکار کیا سجدہ
کرنے سے وَسْتَکْبَرَ اور تکبر کیا ، غرور میں مبتلا ہوا۔ یہاں پہ ابلیس کے دو
گناہ بتلائے جا رہے ہیں پہلا گناہ کہ حکم خداوندی سے انکار کیا اور صرف یہی نہیں بلکہ تکبر و غرور بھی
کیا اور تکبر کیا تھا کہ میں اس سے بہتر
ہوں۔ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ ۔یہ
تکبر و فساد کی بنیادی وجہ ہے۔
قاسمِ
فیوضات حضرت مولونا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں
کہ آج بھی اگر ہم دیکھیں ذاتی اور گھریلو زندگی سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک تو
ہر فساد کی جڑ میں یہ بات موجود ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ یہ میرے خلاف کیسے جا
سکتا ہے میں اس سے تگڑا ہوں۔گھروں میں جتنے جھگڑے ہوتے ہیں بھائی بھائی سے لڑتے
ہیں ،دوست دشمن بن جاتے ہیں ، رشتہ دار برادری لڑتی ہے اگر اس بات کو پیچھے چلایا
جائے تو بنیادی وجہ وہی ہوتی ہے کہ میں اس کی بات نہیں مانتا اس لئے کہ میں اس سے
اچھا ہوں۔ میں ا کی کیوں مانوں ، میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ، میں اس سے زیادہ
امیر ہوں یہ فقیر ہے۔ میں زیادہ طاقتور ہوں ،یہ کمزور ہے ،یہ میری بات مانے میں اس
کی کیوں مانوں۔ کسی بھی جھگڑے کو آپ پیچھے لے جائیں تو بنیاد میں آج بھی وہی بات
ملتی ہے جو شیطان نے اس وقت کہی تھی کہ میں نہیں مانوں گا کیونکہ میں اس سے بہتر
ہوں ۔
فرمایا
: وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور تھا ہی کافروں میں سے۔
یہ
نہیں کہ اللہ کی ذات جانتی نہیں تھی اور ابلیس کے انکار پر یہ معاملہ واضح ہوا
بلکہ علم ِ الٰہی میں یہ بات موجود تھی کہ یہ انکار کرے گا اس لئے فرمایا کہ تھا
ہی کافروں میں سے کیونکہ اس کا انکار کرنا اللہ تبارک و تعالی ٰ کو معلوم تھا ۔ اس
سارے معاملہ میں انسان کو اللہ کریم یہ بتلا رہے ہیں کہ میں نے نہ صرف تمہاری
تخلیق کی بلکہ تم سے پہلے جو مخلوق موجود تھی اس پر تمہیں عظمت دی اور تمہاری عظمت
کا اقرار تم سے کروایا۔میں نے تمہارے سامنے سجدہ ریز کر کے ان سے تمہاری عظمت کا
اقرار کروایا۔ تمہیں اپنی نیابت عطا کی یعنی تمہیں دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا۔ میں
نے تمہارے سینے کو علوم سے بھر دیا ، آج دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں یہ انسان کو
آدم علیہ السلام سے وراثت میں ملے ہیں ،تمہیں میں نے مسجودِ ملائکہ بنایا ۔ اور
ابلیس جس نے میرا حکم نہیں مانا اور تمہاری افضلیت و فضیلت کا اقرار نہیں کیا
،تمہاری عظمت کو نہیں مانا تو میں نے اسے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا دیا۔
کائنات
میری ہے ، زمینو آسمان میرے ہیں ،تمام چیزوں کا مالک میں ہوں ،تجھے میں نے اتنی
عزت دی کہ تو انہیں اپنی مرضی سے اور اپنی آسانی
اور آسائش کیلئے جیسے چاہے استعمال کرے۔ اور تو میرے احکام سے روگردانی کر
کے اس کی بات سنتا ہے جو نہ صرف میرے حکم کا نکاری ہوا بلکہ اس نے تیری عظمت کا
بھی انکار کیا۔ جس شیطان نے تجھے حقیر جانا تو اس کا پیروکار بنا ہوا ہے ۔ تجھ میں
اگر انسانی غیرت ہوتی تو کبھی شیطان کی بات نہ سنتا بلکہ اپنے حقیقی خالق و مالک
کے احکامات پہ عمل کرتا ۔
یہ
سارا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ازلی دشمن کو پہچانے اور اسے اپنی
عظمت و حقیقت کا ادراک ہو اور شیطان کی
راہ پہ چلنے کے بجائے نیابتِ الٰہی کا حق ادا کرے ۔
اللہ
تبارک و تعالیٰ ہماری شیطان مردود سے حفاظت فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)





.jpg)