تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 35- آدم علیہ السلام کا قیام کونسی جنت میں تھا اور درخت کونسا تھا ؟

0 Comments

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَقُلْنَا يَاٰدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظّٰلِمِينَ[35]

اور ہم نے آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے فرمایا آپ ؑ اور آپ ؑ کی بیوی جنت میں رہیں اور اس میں سے جہاں سے چاہیں مزے سے کھائیں( پئیں ) اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

 سابقہ تفاسیر میں اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں چند اختلافی مسائل ملتے ہیں مفسرین نے ان پہ کافی بحث فرمائی اور عقلی و نقلی دلائل پیش کئے کسی کو مطالعے کا شوق ہو تو وہ اکابرین کی تفاسیر میں مطالعہ کر سکتا ہے ،ہم اس بحث میں نہیں جائیں گے اختصار کے ساتھ وہ باتیں آُ کے گوش کزار کیے دیتا ہوں۔

پہلی بات  کہ وہ جنت کونسی تھی جس میں آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کا قیام رہا اور پھر وہ سے زمین کی طرف نکالے گئے کیا یہ وہی جنت تھی جس کا مومنین سے وعدہ فرمایا گیا اور ہم قرآن و حدیث میں اس کا تذکرہ پاتے ہیں یا آسمانوں پہ کوئی اور مقام جسے جنت کہا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ قرآن و حدیث میں صراحت کے اس جنت کا بیان نہیں ملتا  تو ہمیں بھی اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ جنت کونسی تھی۔

دوسری بات  کہ وہ درخت کونسا تھا جس سے آدم علیہ السلام کو منع فرمایا گیا اور آپ علیہ السلام نے اس  کا پھل کھا لیا۔ اس کے بارے میں علمائے تفسیر کی مختلف رائے ملتی ہیں بعض نے  فرمایا  گندم ، بعض نے انجیر جبکہ بعض کے نزدیک انگور۔ لیکن اس درخت کی قسم کے بارے میں بھی قرآن و حدیث میں کوئی واضح الفاظ موجود نہیں تو ہمیں بھی اسے موضوعِ بحث نہیں بنانا چاہیئے کہ وہ درخت کونسا تھا جب اللہ تبارک وتعالی ٰ اور اس کے نبی ﷺ نے نہیں بتایا تو اس بحث میں پڑنا وقت کا ضیاع ہو گا۔

تیسری اور اہم بات ظالمین کی تشریح و تفسیر سے متعلق ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر کچھ اس طرح کی کہ نعوذ باللہ آدم علیہ السلام نے ظلم کیا اور گناہ و نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور سزا کے طور پہ جنت سے نکالے گئے۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں : ظلم ہوتا ہے کسی بھی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا ، کسی چیز کو ایسی جگہ رکھ دینا جو اس کا مقام نہ ہو ، کرسی کو الٹا کر دو تو یہ ظلم ہو  جائے گا یعنی جیسے ہونی چاہیئے تھی ویسی نہیں ہے۔ ا ب یہ الفاظ جب انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان سے اسم ِ فاعل بنانا شرعاً حرام ہے ، کوئی بھی شخص اس سے صیغہ نکال کر  آدم ؑ کو ظالم کہے گا تو حرام کار ہو گا اور یہ سخت گناہ ہے۔ یہ اللہ کا اور اس کے نبی ؑ کا معاملہ ہے ، نبی معصوم ہوتے ہیں ،نبی سے گناہ نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں اللہ کریم جسے ظلم قرار دے رہے ہیں اس سے مراد لغوی معنی نہیں ہو گا ۔ عجیب بات ہے یہ معاملہ جنت کا ہے جہاں خود گناہ ہوتا ہی نہیں ، گناہ کا صدور کسی صورت ممکن ہی نہیں، تو یہ وہ گناہ نہیں جو میں اور آپ کرتے ہیں  اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ نعوذ باللہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہماری طرح گناہ گار تھے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے درمیان ہے اور تربیت کا حصہ ہے  کہ زمین پہ آُ مکو بے شمار نعمتیں کھانے کو ملیں گی ، رہنے کو جگہ ملے گی ، بستر ہوں گے ، کپڑے ہوں گے ، گھر ہوں گے لیکن اس میں جا کر آپ نے میرے احکامات کو نافذ کرنا ہے۔

جمہور ائمہ تفسیر و حدیث نے عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام پہ  بے شمار دلائل پیش کیے ہیں  اکابرین کی تفاسیر میں ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمتِ انبیاء   ہمارے عقیدے و ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ میں یہاں اس واقعہ کو بیان کرنے کا جو مقصد ہے اور اس سے عامتہ المسلمین کو جو درس دینا مقصود ہے اس پہ بات کروں گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب جنت کو آدم ؑ اور انکی زوجہ محترمہ کا مسکن بنایا تو اول تو یہ عارضی قیام گاہ تھی کیوں کہ اس رکوع کے ابتداء میں بتایا جا چکا ہے کہ ان کی اصل منزل زمین تھی انہیں خلافتِ ارضی سونپی گئی تھی۔ پھر جب ان کو اس عارضی قیام گاہ میں سب کچھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی تو کیونکر اس ایک درخت سے منع فرما دیا گیا اور نہ صرف پھل کھانے سے منع فرمایا گیا بلکہ الفاظ استعمال ہوئے وَلاَ تَقرَباَ اس کے قریب نہ جانا۔ یہاں معاملہ ظاہراً تو آدم و حوا  علیہم الصلوۃ والسلام کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن اگر ہم اس کے عمومی مفہوم و درس کو سمجھیں تو بنی نوع انسان کو سمجھایا جا رہا  کہ اللہ ربارک وتعالیٰ جب تمہیں کسی چیز سے منع فرما دیں ، کسی کام کے کرنے سے روک دیں تو شیطان جو پہلے ہی اللہ کے حکم کا انکار کر کے مردور ہو چکا ہے اور تمہارا دشمن بن چکا ہے تو وہ ضرور آدم علیہ السلام کی طرح تمہارے دل میں بھی وسوسے ڈالے گا، ضرور تمہیں بہکانے کی کوشش کرے گا ، ضرور تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی پہ اکسائے گا تو جب وہ ایسا کرے تو تم اس کے بہکاوے سے تبھی بچ سکتے ہو جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی منع کردہ حرام و مکروہ  چیزوں کے قریب بھی نہ جاؤ، کیونکر اگر تم قریب بھی گئے، تمہارے دل میں شیطان نے شک و تردد  پیدا کر لیا تو تمہارے لئے خطرہ اور بڑھ جائے گا ، نافرمانی کا معاملہ جو شیطان کروانا چاہتا ہے اس کے لئے مزید آسان ہو جائے گا ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدیں مقرر کر دی ہیں ، جن چیزوں سے روک دیا ہے ان کا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا، ان کے قریب بھی نہیں جانا جیسے یہاں اصل معاملہ تو شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا ہے لیکن فرمایا اس  درخت کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ اگر قریب گئے تو عین ممکن ہے کہ تم اس کا پھل کھا بیٹھو جیسا کہ آدم علیہ السلام  بعد میں ہوا۔

اگر ہم عمومی زندگی میں دیکھیں تو بہت سی چیزیں بذاتِ خود گناہ نہیں ہوتیں لیکن گناہ کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں تو ان سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ بذاتِ خود گناہ کے کاموں سے۔جیسے آج کل ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور جھوٹ عام ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارا الیکٹرانک و سوشل میڈیا ہے۔ آپ حالات سے اور اپنے گردو پیش سے آگاہی کیلئے خبریں سننا چاہتے ہیں لیکن جب آپ ایسا کرتے ہیں تو سب سے پہلے تو آپ کا واسطہ بے حیائی سے پڑتا ہے ، ایک بے حیا و بے پردہ عورت آپ کو دیکھنے کو ملتی ہے پھر سب سے زیادہ جھوٹ آج کل ہمارے الیکٹرانک و سوشل  میڈیا پہ بولا جاتا ہے ، سچ کو تلاش کرنے کے لئے کئی گھنٹے جھوٹ سننا پڑے گا پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ جسے آپ سچ سمجھ رہے ہیں وہ واقعتاً سچ ہے بھی کہ نہیں۔

بے حیائی و بے پردگی تو اتنی عام ہے کہ اسلامی پروگرام بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

تو فرمایا گیا کہ جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما دیں اس کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ قریب جانے سے تم خطرے میں آجاؤ گے ، تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

اللہ تبارک و تعالی ٰ ہمیں ظالمین سے محفوظ فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 34- آدم علیہ السلام کو ملائکہ کا سجدہ تعظیمی تھا یا حقیقی--ابلیس کا انکار

0 Comments

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں 

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّٓا إِبْلِيسَ أَبٰى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب سجدے میں گر گئے اس نے (غرور میں آکر) انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ (علم الٰہی میں) تھا ہی کافروں میں سے۔

سابقہ آیات میں آدم علیہ الصلوۃ و لسلام کی افضلیت و فوقیت ثابت کی گئی اب جب کسی پہ کچھ ثابت کیا جا چکا ہوتا ہے تو اس کا امتحان لیا جاتا ہے کہ کیا واقعتاً اس  نے دل و جان سے اس بات کو تسلیم بھی کر لیا ہے یا ابھی اس میں شک و تردّد باقی ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی ٰ نے موجود دونوں مخلوقوں یعنی فرشتے اور جنات کا امتحان لیا۔ اور امتحان کیسے لیا؟

ارشاد ہوتا ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا ہے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو

یہاں پر الفاظ سے لگتا ہے کہ شاید یہ حکم فرشتوں کو دیا جا رہا ہے لیکن آیت کا اگلا حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی تھا،ابلیس چونکہ جنات کی نمائندگی کرتا تھا اور فرشتوں کے ساتھ آسمانوں پہ مقیم تھا اور اس مجلس کا حصہ تھا تو حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی تھا۔

پھر فرمایا: فَسَجَدُوا إِلَّٓا إِبْلِيسَ تو ابلیس کے علاوہ سب سجدہ ریز ہو گئے۔

آیتِ کریمہ کے یہ الفاظ واضح طور پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ حکم صرف ملائکہ کےلئے نہیں بلکہ جنات کے لئے بھی تھا جن کی نمائندگی اس وقت اس مجلس میں ان کا سردار ابلیس کر رہا تھا۔

ایک اور بات جو اکثر مفسرین کے درمیان موضوعِ بحث رہی کہ کیا یہ سجدہ تعظیمی تھا یا سجدہ عبودیت اور چونکہ سجدہ عبودیت تو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کیلئے ہے تو کیا یہ شرعی سجدہ تھا یا تعظیمی؟

اس بات کو قاسمِ فیوضات حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں: سجدہ اصطلاحِ شریعت میں قبلہ رو ہو کر دونوں گھٹنے ،دونوں پاؤں،دونوں ہاتھ،ناک اور پیشانی زمین پہ رکھنے کا نام ہے جیسے ہم عبادت کرتے ہیں۔ عرفاً احترام و تعظیم کو بھی سجدہ کہا جاتا ہے جیسے شاہی دربار میں جھک کر سلام بجا لاتے ہیں تو اصطلاحاً اس کو بھی سجدہ کہ دیا جاتا ہے۔ اب یہ اللہ جانے کہ فرشتوں سے یہ سجدہ کرایا گیاہے جس طرح نماز میں ہوتا ہے تو بھی کوئی مشکل نہیں، آج بھی ہم بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرکے یا بیت اللہ شریف کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ بیت اللہ تو قبلہ سجود ہے ،سجدہ تو اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے،بیت اللہ ایک مرکز ہے، ایک قبلہ ہے جو اللہ نے مقرر فرما دیا۔ اب ایک جگہ کو اللہ نے مقرر فرما دیا تو وہی پتھر ،وہی گارا جو بیت اللہ شریف میں لگا ہوا ہے وہ تو ہمارا مسجود نہیں، اگر پتھر وہاں سے اکھیڑ لئے جائیں اور اسی گارے اور پتھروں کو کسی اور جگہ لگاتے ہیں تو کوئی اسے سجدہ کرے گا؟ پتھروں کو ،گارے کو سجدہ مقصود نہیں ہے۔ وہ گارا پتھر تو اس جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اللہ نے سجدے کیلئے مرکز بنا دیا جو اس کی تجلیات کا مرکز ہے، لیکن سجدہ تو اللہ کو ہوتا ہے۔ اسی لئے حکم ہے کہ آپ کہیں کسی جنگل میں کھو جائیں اور پتہ نہ چلے کہ شمال جنوب کدھر ہے، کوئی سمجھ نہیں آتی ،رات ہو گئی، نماز پڑھنی ہے تو اندازہ کر لیں
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ- اگر غلط بھی ہو گیا تو جدھربھی ہوا، وہ قبول کرے گا۔ اگر فرشتوں کا یہ حکم ہوا کہ آدم علیہ الصلوۃ و السلام کو قبلہ سمجھ کر سجدہ کرو تو وہ آدم علیہ السلام کی عظمت ہے، سجدہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ علمائے کرام نے دونوں باتیں لکھی ہیں ۔ ضروری نہیں کہ یہ عبادت کا سجدہ ہو ،یہ تو تعظیم تھی یعنی آدم ؑ کی عظمت اپنے اوپر قبول کرو۔ یعنی آدم ؑ کو قبلہ بنا کر سجدہ کرایا گیا تو بھی سجدے اللہ کی لئے ہے اور آدم ؑ کی عظمت کا اقرار کرانا مقصود تھا اور یہی مقصد تعظیمی سجدے کا بھی تھا،

اَبیٰ  اس نے یعنی ابلیس نے انکار کیا  سجدہ کرنے سے وَسْتَکْبَرَ اور تکبر کیا ، غرور میں مبتلا ہوا۔ یہاں پہ ابلیس کے دو گناہ بتلائے جا رہے ہیں پہلا گناہ کہ حکم خداوندی سے انکار کیا  اور صرف یہی نہیں بلکہ تکبر و غرور بھی کیا  اور تکبر کیا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ ۔یہ تکبر و فساد کی بنیادی وجہ ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولونا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ آج بھی اگر ہم دیکھیں ذاتی اور گھریلو زندگی سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک تو ہر فساد کی جڑ میں یہ بات موجود ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ یہ میرے خلاف کیسے جا سکتا ہے میں اس سے تگڑا ہوں۔گھروں میں جتنے جھگڑے ہوتے ہیں بھائی بھائی سے لڑتے ہیں ،دوست دشمن بن جاتے ہیں ، رشتہ دار برادری لڑتی ہے اگر اس بات کو پیچھے چلایا جائے تو بنیادی وجہ وہی ہوتی ہے کہ میں اس کی بات نہیں مانتا اس لئے کہ میں اس سے اچھا ہوں۔ میں ا کی کیوں مانوں ، میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ، میں اس سے زیادہ امیر ہوں یہ فقیر ہے۔ میں زیادہ طاقتور ہوں ،یہ کمزور ہے ،یہ میری بات مانے میں اس کی کیوں مانوں۔ کسی بھی جھگڑے کو آپ پیچھے لے جائیں تو بنیاد میں آج بھی وہی بات ملتی ہے جو شیطان نے اس وقت کہی تھی کہ میں نہیں مانوں گا کیونکہ میں اس سے بہتر ہوں ۔

فرمایا : وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ  اور تھا ہی کافروں میں سے۔

یہ نہیں کہ اللہ کی ذات جانتی نہیں تھی اور ابلیس کے انکار پر یہ معاملہ واضح ہوا بلکہ علم ِ الٰہی میں یہ بات موجود تھی کہ یہ انکار کرے گا اس لئے فرمایا کہ تھا ہی کافروں میں سے کیونکہ اس کا انکار کرنا اللہ تبارک و تعالی ٰ کو معلوم تھا ۔ اس سارے معاملہ میں انسان کو اللہ کریم یہ بتلا رہے ہیں کہ میں نے نہ صرف تمہاری تخلیق کی بلکہ تم سے پہلے جو مخلوق موجود تھی اس پر تمہیں عظمت دی اور تمہاری عظمت کا اقرار تم سے کروایا۔میں نے تمہارے سامنے سجدہ ریز کر کے ان سے تمہاری عظمت کا اقرار کروایا۔ تمہیں اپنی نیابت عطا کی یعنی تمہیں دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا۔ میں نے تمہارے سینے کو علوم سے بھر دیا ، آج دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں یہ انسان کو آدم علیہ السلام سے وراثت میں ملے ہیں ،تمہیں میں نے مسجودِ ملائکہ بنایا ۔ اور ابلیس جس نے میرا حکم نہیں مانا اور تمہاری افضلیت و فضیلت کا اقرار نہیں کیا ،تمہاری عظمت کو نہیں مانا تو میں نے اسے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا دیا۔

کائنات میری ہے ، زمینو آسمان میرے ہیں ،تمام چیزوں کا مالک میں ہوں ،تجھے میں نے اتنی عزت دی کہ تو انہیں اپنی مرضی سے اور اپنی آسانی  اور آسائش کیلئے جیسے چاہے استعمال کرے۔ اور تو میرے احکام سے روگردانی کر کے اس کی بات سنتا ہے جو نہ صرف میرے حکم کا نکاری ہوا بلکہ اس نے تیری عظمت کا بھی انکار کیا۔ جس شیطان نے تجھے حقیر جانا تو اس کا پیروکار بنا ہوا ہے ۔ تجھ میں اگر انسانی غیرت ہوتی تو کبھی شیطان کی بات نہ سنتا بلکہ اپنے حقیقی خالق و مالک کے احکامات پہ عمل کرتا ۔

یہ سارا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ازلی دشمن کو پہچانے اور اسے اپنی عظمت و حقیقت کا ادراک ہو اور  شیطان کی راہ پہ چلنے کے بجائے نیابتِ الٰہی کا حق ادا کرے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری شیطان مردود سے حفاظت فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


ذکرِ قلبی اور لطائفِ روحانی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 ذکرِ قلبی

ارشاد نبویﷺ ہے کہ جسم کے اندر گوشت  کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست اور صالح ہے تو  سارا  بدن  صالح  ہے، اگر   وہ  فساد زدہ  ہے تو  سارا  بدن فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ (ألَا اِنَّ فِی الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ ، الَاَ وَہِیَ الْقَلْبُ) تو قلب سے مراد،گوشت کے لوتھڑے یعنی دل( جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے) کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اور عالم امر سے ہے۔

لطائف

جس طرح بدن کے اعضاء رئیسہ ہیں اسی طرح روح کے اعضاء رئیسہ ہیں۔بدن مادی ہے،اعضاء بھی مادی ہیں۔مگر روح عالم امر سے ہے لہٰذا     اس کے اعضائےرئیسہ بھی عالم امر سے ہیں ان کو لطائف کہا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں  کہ انسان  پانچ نہیں دس چیزوں سے بنا ہے۔پانچ اجزائے بدن ہیں اور پانچ لطائف روحانی۔بدن کے اجزاءمٹی، آگ،ہوا،پانی اور ان کے ملنے سے نفس بنا۔جبکہ روح کے پانچ لطائف ہیں۔قلب،روح،سری،خفی اور اخفا۔یہ پانچوں لطائف ہر روح میں موجود ہیں  اور انھیں میں انوارات کو قبول کرنے،محسوس کرنے اور کیفیات پانے کی استعداد ہے۔

یہ پانچویں لطائف تو بنیاد ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تو ان پروارد  ہونے والے انوارات کے رنگ بھی تحریر فرمائے ہیں۔نیز مختلف سلاسل  میں ان پانچویں کو بنیاد  مانا جاتا ہے۔اپنے اپنے ذوق کے مطابق بعض نے لطائف بیان فرمائے کہ سات ہیں اور بعض کے نزدیک گیارہ بھی ہیں۔یہ تو جیہات ذوقی ہیں۔یعنی کشف ومشاہدہ اپنا اپنا ہے۔لیکن سب کی بنیاد یہی پانچ ہیں اور پھر پانچ کا حاصل بھی ایک ہے لطیفہ قلب۔کہ سب اذکار کا حاصل آخر اسی کی روشنی اور جلا ہے۔

ہمارے ہاں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پہ ذکر کیا جاتا ہے۔جن میں چھٹا لطیفہ نفس ہے،ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار۔نیز ان کے مقامات بیان ہوئے ہیں اور یہ اختلاف اپنے اپنے ذوق اور مشاہدے پر مبنی ہے ورنہ منزل سب کی ایک ہے اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رائے  کا  اختلاف باعث برکت ہوا کرتا ہے ۔ الحمدللہ۔ہر آدمی کی اپنا مزاج اور اپنا ذوق ہوتا ہے۔کسی کو ایک طریقہ زیادہ مفید ہے تو کسی کو دوسرا۔یہی وجہ ہے کہ بعض شیوخ طالب کو دوسرے شیخ کے پاس  بھیج دیتے تھے کہ تمہارا حصہ وہاں ہے۔اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ ولایت کوئی جاگیر ہے اور مختلف لوگوں کے پاس اس کے مختلف حصے ہیں بلکہ  وہ ان کا ذوق دیکھ کر اندازہ فرماتے تھے کہ انھیں وہاں سے فائدہ ہو گا۔وگرنہ تو ہر مومن ولی اللہ ہے۔یہ رسید ہے اس بات کی کہ اللہ ہر مومن کا دوست ہے اور اسے ایک درجہ ولایت کا حاصل ہے ہاں مشائخ اسے پالش فرماتے ہیں اور مزید قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔مزید توفیق عمل نصیب ہوتی ہے تو قرب الہی میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور درجہ احسان یعنی حضور حق کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ 

ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔

ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ - کیا تصوف اسلامی ہندو یوگیوں، عیسائیوں یا یہودیوں کی ایجاد ہے؟ کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

پیشتر اس کے کہ قلب یا ذکرِ قلبی کا ذکر کیا جائے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ تصوف ہندو یوگیوں سے حاصل کیا گیا ہے ہو یہود و نصاریٰ کی ایجاد رہبانیت سے لیا گیا ہے اور یوں ایک ملغوبہ وجود میں آیا جس نے عقائد کو تو نقصان پہنچایا ہی ، ساتھ میں لوگوں کو عمل سے بھی بیگانہ کر دیا۔ یہ بات میں نے اچھے اچھے دانشوروں کی تحریروں میں  بھی پائی بلکہ زوالِ امت کے اسباب میں تصوف کو بھی شامل کیا گیا۔ دراصل یہ تصوف کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوا کہ ہمارے دانشور حضرات نے بغیر  پڑھے اور بغیر سمجھے یہ فیصلہ دے دیا ۔

            اسلام میں تصوف کیا ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میرے نزدیک لفظ تزکیہ کا ترجمہ ہے جس سے مراد دل کی صفائی ہے اور صفائے دل کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عقائد نتھر کر صاف ہو جاتے ہیں ۔ عظمتِ باری کا یقین ، رسالت پر ایمان اور ضروریاتِ دین کے ساتھ پختہ تر ایمان نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترتیبِ قرآن کریم سے ظاہر ہے:

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ            کہ دعوت کے بعد پہلا کام ، جو قبول کرے اس کا تزکیہ ہے اور اس کے بعد تعلیمِ کتاب و حکمت ہے۔ تو واضح ہے کہ بغیر تزکیہ کے بندہ کتاب و حکمت سے استفادہ کی اہلیت ہی نہیں پاتا اور اس درجہ یقین نصیب نہیں ہو سکتا  جو اتباع  اور اطاعت پر مجبور  کر دے اور نافرمانی سے روکنے کی  طاقت  رکھتا  ہو ،  جو مطلوب ہے۔ بھلا ہندوؤں کی تعلیمات سے یہ نعمت نصیب ہونا  کیسے ممکن ہے ؟  ہاں ہندوؤں کے ہاں بھی  بڑی  شدید  چلہ کشیاں  پائی  جاتی ہیں  مگر یاد رہے کہ اگر بھوکے رہ کر اور نیند نہ لے کر ارتکازِ توجہ کا ایک درجہ حاصل بھی کر لیا جائے تو اس سے ایمان نصیب نہیں ہوتا ، نہ کشفِ الٰہیات نصیب ہوتا ہے کہ برزخ منکشف ہو ،  بالائے آسمان کا مشاہدہ ہو ۔  یہ ناممکن ہے۔  ہاں جو چیزیں  مادی آلات سے  دیکھی جا  سکتی  ہیں اس کا نظر آنا ممکن ہے جیسے ٹی وی وغیرہ سے دور کے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں  بلکہ یہ بھی کتب میں ملتا ہے کہ افریقہ میں جنگلیوں کا  ایک ایسا قبیلہ پایا گیا  جو دور سے آپس میں بات بھی کر لیتے تھے ۔ اگر کوئی  گھر سے باہر جاتا تو وقتِ مقررہ پر وہ متوجہ ہوتا ، دوسرا گھر میں متوجہ ہوتا تو بات کر لیتے تھے۔ اس پر روس کی حکومت نے کوشش شروع کی تھی کہ ایسا طریقہ فوجی مقاصد کیلئے اختیار کیا جائے ۔ پھر ان سے ہو سکا یا نہیں ، اللہ کریم جاننے والے ہیں ۔ اسی طرح ایک ہندو یوگی حضرت استاذالمکرم(قلزم فیوضات حجرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے بتایا کہ اس نے بہت محنت کی ہے جس کے نتیجے میں اسے یہ کمال حاصل ہے کہ جب وہ متوجہ ہوتا ہے تو ایک شکل ظاہر ہو جاتی ہے  جسے وہ جہاں کہے پہنچا دیتی ہے۔ تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ تمہیں اس شکل سے اُنس محسوس ہوتا ہے یا ڈر لگتا ہے ؟تو اس نے کہا ڈر لگتا ہے مگر وہ میری بات مانتی ہے ۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وہ شیطان ہے کہ شیطان ، انسان کا دشمن ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور دشمن سے ڈر ہی لگے گا۔

            تو اس سب کا اسلامی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں  کہ تصوف اسلامی میں اس طرح کی چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں بلکہ  یہ زندگی بھر کا مجاہدہ ہے کہ ہر کام شریعت کے مطابق کیا جائے اور یہ ایسا چلہ ہے جو نہ تو آسان ہے ، نہ ہی اس کا کوئی بدل ہو سکتا ہے۔

            عہدِ رسالت مآب ﷺ میں ایمان کے بعد جس کو ایک نگاہ نصیب ہوئی اس کا تزکیہ ہو گیا ۔ جس نے آپﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی نگاہ ِ پاک جس پہ پڑ گئی وہ درجہ صحابیت پہ فائز ہوا جو بعد نبوت اعلیٰ ترین مقام ہے مگر یہ یاد رہے کہ ذکرِ اسم ِ ذات کا حکم ان سب کیلئے بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان مردو خاتون کیلئے ہے۔

            دوسری بات کہ خلافِ اسلام چلہ کشہ خواہ ہندو فلسفہ سے ہو یا یونانی، انسان کو  دنیوی اعتبار سے ناکارہ بنا دیتی ہے اور اس کی استعدادِ کار ختم ہو جاتی ہے ، مگر تزکیہ جہاں ایمان ِ کامل عطا کرتا ہے وہاں استعدارِ کار بہت بڑھ جاتی ہے اور ایک آدمی زندگی میں کئی آدمیوں جتنا کام کر جاتا ہے ۔ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر چودہ صدیوں کے حقیقی صوفیاء اور علماء ربانیین کو دیکھئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ ا س پر کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ ایک عام مسلمان کلمہ گو  دنیوی امور میں بھی کافر کی نسبت زیادہ استعدادِ کار رکھتا ہے چہ جائیکہ صوفی۔ یہ حضرات نکمّے نہیں،  نِچَلّے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کام کرتے چلے جاتے ہیں کہ کام کرنا اور شریعت کے مطابق کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور دوسری عجیب بات یہ بھی  ان حضرات میں پائی جاتی ہے  کہ ایک وقت میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ہر شعبے میں کامیاب رہتے ہیں جو سوائے صوفیاء کے کہیں نہیں ملتا۔ بڑے بڑے لوگ ایک اور صرف ایک شعبے میں نام کماتے ہیں جبکہ صوفیاء زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی راہنمائی  فرماتے ہیں ۔ پھر یہ حکم لگانا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے  کس قدر ناانصافی کی بات ہے ۔ لوگ دماغ سے کام کرتے ہیں جو دوسرے آلات سمع و بصر وغیرہ کا محتاج اور حالات و واقعات سے متاثر ہوتا ہے مگر صوفیاء دِل سے کام کرتے ہیں  جو صرف جذبات پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ دِل خارجی اثرات سے بالاتر ہوتا ہے اور جب اس کے اندر اللہ کا ذکر مقیم ہوتا ہے تو اس کا ہر فیصلہ اطاعتِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔ نیز حسبِ استطاعت کبھی بیکار نہیں رہتا  بلکہ دماغ، دِل کے تابع اور اعضاء و جوارح دماغ کے تابع ہو کر، اس کی ساری قوت بہترین کام پہ لگی رہتی ہے۔

            ہاں جن لوگوں کو شیخِ کامل نہ ملا اور انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کے  کمالات یا شہرت و دولت پانے کے لیے وطیفے پڑھے اور چلے کاٹے ان کی بات دوسری ہے ۔ ایسے لوگوں پہ یہ حکم  لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو ازم یا کسی اور سے متاثر ہوئے اور انھیں صوفی کہنا یا سمجھنا بھی ہرگز  درست نہیں۔

            جہاں تک صوفیاء اور اہل اللہ کا تعلق ہے تو ساری محنت رضائے باری کے لیے کرتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی سے توفیق عمل بھی نصیب ہوتی ہے اور گناہ سے بچنے کی توفیق بھی ۔ رضائے باری کے حصول کا واحد ذریعہ اتباعِ رسالت اور اجتناب عن المعاصی یعنی گناہ سے پرہیز ہے۔ صوفیاء کو بھی کشف و مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل باتوں پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

اوّل۔    کشف و مشاہدہ مقصد نہیں ہوتا۔ ہاں کشف و مشاہدہ ہو جائے تو اللہ کریم کی عطا ہے۔

دوم۔     کشف قدرتِ باری پہ ایمان کو اور مستحکم کرتا ہے اور احکام کی بنیاد سمجھ آتی ہے نیز وضاحت بھی نصیب ہوتی ہے۔

سوم۔    یہ امورِ دنیا یا لوگوں سے اپنا آپ منوانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے عجز کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔

چہارم۔  اگر کشف شریعت کے مطابق ہو تو درست، اگر خلاف ہو تو پھر صاحبِ کشف کو غلطی لگی  ہے ۔ وہ قابلِ عمل نہیں ہو گا۔

پنجم۔     اگر کشف میں کوئی بات ظاہر ہو یا کوئی کام کرنے کا اشارہ ملا تو صرف وہ خو د، جو صاحبِ کشف ہے۔ اس پر عمل کرے دوسرا کوئی فرد اس کے کشف کا مکلّف نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہے لہٰذا امورِ دنیا میں تو اس کی ضرورت نہ رہی۔

مقصدِ تصنیف رموزِ دل شرح کنوزِ دل - تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی  حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

بندہ نے چند سطور رموزِ دل کے نام سے طالبین کی راہنمائی کیلئے سپردِ قلم کیں۔ مقصد یہ تھا کہ سلوک و تصوف ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے اور اس میں ایک لفظ اور ایک بات کی کئی تعبیرات ہو سکتی ہیں لہٰذا شیخ کے ارشادات یا توجہ اور مراقبات کی  تعبیرات میں یکسوئی رہے اور ہر کوئی اپنی الگ تعبیر نہ سمجھے۔ اگرچہ اس میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا ۔ اصولی بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ فروعی طور پر اپنی سمجھ ، علم اور استعداد کے مطابق کچھ فرق آ سکتا ہے ۔ یہ فرق بھی خطرے سے خالی نہیں کہ شیطان کچھ بھی القا ء کر کے اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تو اگر تعبیرات بھی  سمجھ میں  آجائیں تو اللہ کریم اس خطرے سے بچنے کا سبب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مختصراً ایک کتابچہ تحریر کر دیا گیا ہے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذکر اذکار یا سلوک و تصوف کا سرے سے انکار اور اسے ثابت کرنے پہ زورِ قلم صرف کرنا اب علم کی شان سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب سے صرف نصف صدی پہلے تک بر صغیر کے علماء کے حالات پڑھیں تو ملتا ہے کہ فلاں مدرسے سے تحصیلِ علم کے بعد اتنا عرصہ فلاں بزرگ کی خدمت میں رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرات میدانِ عمل میں قدم رکھتے تھے ۔ مگر آج سارا زورِ قلم ذکر اذکار کے انکار پر صرف کیا جارہا ہے اور اسس کی خاطر  بڑے خوبصورت جال بنے جاتے ہیں ۔ جیسے بندہ نے کل ایک مضمون دیکھا جس میں فاضل مصنف نے سارا زورِ قلم یہ ثابت کرنے پہ صرف فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے قرآن ِ کریم ہی مراد ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں۔ بہت اچھی بات ہے ۔ قرآن کریم ذکر ہے ، مگر یہ کہنا بے دلیل ہو گا کہ صرف قرآن ہی  ذکر ہے۔ کیا حدیث شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تسبیحات یا درود شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تبلیغ ذکر نہیں ہے؟ کیا عبادات، نماز ،روزہ ، حج،زکوٰۃ ذکر نہیں ہیں؟

قرآن ِ کریم میں جہاں جہاں ذکر کا حکم ہوا ہے کیا ہر جگہ تلاوتِ قرآن کریم مراد لی جا سکتی ہے؟ جیسے لڑائی میں حکم  ہے:

فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔  الانفال:٤٥

کہ ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ۔

تو کیا ممکن ہے کہ حالتِ جنگ میں لڑائی بھی جاری رکھیں اور تلاوت بھی؟

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ۔          آل عمران: ١٩١

تو کیا کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہوئے تلاوت ممکن ہے؟ یا

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔               سورۃالجمعہ:١٠

سورۃ  جمعہ میں ہے کہ نماز کے بعد اپنے کام پہ جاؤ، مزدوری کرو، رزقِ حلال کماؤ اور اللہ کا ذکر کثرت سے جاری رکھو۔ ذکر کو اگر قرآنِ کریم مانا جائے تو کیا یہ عمل ممکن ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ قرآنِ کریم ذکر ہے، افضل ترین ذکر ہے مگر یہاں 'قرآن بھی ذکر ہے' تو درست ہے، یہ درست نہیں کہ 'قرآن ہی ذکر ہے'۔

ذکر میں اور بھی بہت سے چیزیں ، حتیٰ کہ عقائد سے ایمان اور اعمال تک شامل ہیں۔