تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 13 - صحابہ کرام کو معیارِایمان قرار دیا گیا اور ان سے بغض و عناد کا نتیجہ بھی بتا دیا

0 Comments


 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ۔ أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جس طرح  اور لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو کہتے ہیں کیا ہم ویسا ایمان لائیں  جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ یاد رکھو ! یقیناً وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے  نہیں۔

 اس آیتِ کریمہ  میں منافقین  کی ایک اور خصلت و عادت بیان فرمائی گئی کہ جب ان پہ دینِ اسلام پیش کیا جاتا ہے ،جب انہیں ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ مومنین کی طرح تم بھی ایمان لے لاؤ تو کہتے ہیں ہم ویسا ایمان نہیں لائیں گے  جیسا یہ بے وقوف لوگ لائے ہیں۔ یہ منافقین  کا طرزِ عمل تھا۔

یہاں پہ جو اہم بات ارشاد  فرمائی جا رہی ہے وہ ہے   اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ ایمان لاؤ جیسا اور لوگ ایمان لائے۔

یہ اور لوگ کون ہیں ؟ کون ہیں جن کے ایمان کو مثال کے طور پہ ،نمونے کے طور پہ پیش فرمایا جا رہا ہے ، جو معیارِ ایمان ہیں دوسروں کے لئے۔ یہ ہستیاں تھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان ؒ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت بتا رہی ہے کہ قرآن کے معیاری مسلمان  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ۔ قرآن کی تفسیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ، نبی کریم کے ارشادات  کا مفہوم  صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ۔ اب اگر کوئی گرائمر کی رو سے ، منطق کا زور لگا کر  اور صرف و نحو  کا زور لگا کر  مختلف  معنی گھڑنا چاہے تو وہ نا قابلِ قبول  ہونگے۔ پوچھا یہ جائے گا  کہ جو مفہوم اس آیت کریمہ کا آپ بتا رہے ہیں  یا اس حدیث مبارکہ سے جو نتیجہ آپ اخذ کر رہے ہیں  کیا صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین   نے بھی یہی سمجھا تھا ۔صرف اس ایک سوال  پہ سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں ۔ صرف یہ ایک سند ہے  کہ اگر اس پہ سارے متفق ہو جائیں تو سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی اختلاف رہتا ہے تو وہ جو باعثِ برکت ہے یعنی اس بات کے دو ، چار، پانچ مثبت پہلو ہوتے ہیں ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے : قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ  کہتے ہیں ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں

  انکی  جاہلیت اور کم عقلی کی انتہا دیکھیں کہ ایک طرف تو ایمان نہیں لاتے جیسا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   لائے اور اس پہ انتہا یہ کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین   کو ،اوّلین مومنین، جن کو قرآن سبقت لے جانے والے فرما رہا ہے ، ان  کو بے وقوف کہ رہے ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کا یمان کیا تھا فرمایا: وَقَالُوْاسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا سنا اور مانا  کوئی حیل و حجت نہیں کی ۔ کوئی عذر، کوئی رشتہ، کوئی تکلیف، کوئی امتحان ان کے رستے کی رکاوٹ نہ بن سکا۔

کوئلوں پہ لٹایا جانا ہو یا  کوڑوں سے مارا جانا، شعبِ ابی طالب کی صعوبتیں ہوں یا اللہ کے دین کیلئے گھر بار چھوڑنا، یہاں تک کہ اللہ کے دین کی سر بلندی کیلئے اپنے سگوں کے مدِ مقابل آگئے، بدر و احد کا میدان سجا تو ایک طرف باپ دوسری طرف بیٹا، ایک طرف چچا تو دوسری طرف بھتیجا، اسلام کی خاطر، اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے ، اطاعتِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں کسی رشتے کی پرواہ نہیں کی۔ ایک صحابی کو ان کے باپ نے کہا کہ تم میری تلوار کی زد میں آئے  لیکن میں نے وار نہیں کیا  تو انہوں نے فرمایا کہ آپ اگر میری تلوار کی زد میں آتے تو میں نہیں چھوڑتا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   کا  ایمان ، انکا عشقِ رسولﷺ، انکی اطاعت ناقابلِ بیان ہے ۔

فرمایا جا رہا ہے کہ ان جیسا ایمان لاؤ، ان کے نقشِ قدم پہ چلو، ان کی پیروی اختیار کرو، قرآن و حدیث کا وہ مطلب جو انہیں سمجھایا گیا ہے ، جو انہوں نے اختیار کیا ، جس پہ انہوں نے عمل کر کے دکھایا تم بھی ویسے اختیار کرو۔

آج کل کہا جاتا ہے کہ وہ تو صحابہ تھے ہم ایسا کرنے سے قاصر ہیں ، ہم میں اتنی صلاحیت نہیں۔شیخ المکرم حضرت  امیر عبد القدیر اعوان مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اس سے بڑا کفر کیا ہو گا ۔ اس سوچ کا اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ شریعتِ  مطہرہ جو قرآن و حدیث کی صورت میں عطا کی گئی ، جس کے مطابق نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کی جماعت تیار کی اور انہوں نے عملاً اسے اختیار کیا  اور تین چوتھائی روئے زمین کے حصے پہ اسے نافذ کر کے دکھایا۔ وہ نعوذباللہ ناقابل عمل ہے  دورِ حاضر میں عملی طور پہ اسے اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

مقامِ صحابہ اتنا بلند ہے  کہ اگر روئے زمین کی تمام عبادتیں ، تمام ریاضتیں  اکٹھی بھی کر لی جائیں  تو ادنیٰ ترین صحابی کی شان کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن عملاً اختیار کرنا ویسے ہی  کرنا  ہو گا جیسے صحابہ نے کیا، معیارِ ایمان صحابہ ہی ہوں گے کیونکہ قرآن نے  ایمان کا معیار، اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معیار صحابہ کو بنایا۔ کوئی کہاں تک پہنچتا ہے   یہ اس کا نصیب ۔ کوئی صحابہ جیسا ایمان تو نہیں پا سکتا لیکن معیار ایمان وہی رہیں گے۔

منافقین جب ان کے بارے کہ رہے ہیں  کہ یہ تو بے وقوف ہیں (نعوذ باللہ ) تو ارشاد فرمایا گیا:

أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ خوب غور سے سن لو یقیناً یہی بے وقوف ہیں لیکن  یہ علم نہیں رکھتے

خود اللہ نے ان  منافقین کا فیصلہ بھی فرما دیا اور کیا ہی خوبصورت فیصلہ فرمایا کہ جو ان کے ساتھ جو معاملہ رکھے گا میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ رکھوں گا  جو بھی ان پہ زبان درازی کرے گا ، جو بھی انکو  تنقید کا نشانہ بنائے گا یا ان کی شان میں گستاخیاں کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا معاملہ فرمائیں گے جیسے اس آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ انہوں نے کہا کہ یہ بے وقوف ہیں تو اللہ فرما رہا ہے یقیناً یہی بے وقوف ہیں  اور پھر صرف بے وقوف نہیں جاہل بھی ہیں  ولکن الا یعلمون وہ اس کا علم بھی نہیں رکھتے کیونکہ اگر کسی کو اپنی بے وقوفی کی سمجھ آجائے، کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ میں غلط ہوں تو وہ درستگی کی کوشش کرے گا، درست راستہ تلاش کرے گا  لیکن اگر کسی کو علم ہی نہیں کہ وہ غلط سمت پہ جا رہا ہے تو  ممکن ہی نہیں کہ وہ درست راہ پہ آئے۔ تو فرمایا کہ یہ علم نہیں رکھتے۔

پھر ایک اور اہم نکتہ یہ سمجھ آتا ہت اس آیتِ کریمہ سے کہ سابقہ آیت میں فرمایا الکن لا تشعرون کہ وہ شعور نہیں رکھتے جبکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے ولکن لا یعلمون وہ علم نہیں رکھتے ۔ شعور علم کے بعد کا درجہ ہے فہم و ادراک علم ہونے کے بعد آتا ہے  جبکہ علم ادنیٰ درجہ ہے اور جس کو علم ہی نہیں وہ سمجھ و عقل اور فہم و ادراک تک تو جا ہی نہیں سکتا تو جب معاملہ اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا آیا، جب  بات اللہ کے پیاروں اور نبی ﷺ کے وفاداروں  پہ آئی، جب انگلی  دین میں اسلام میں سبقت لے جانے والوں پہ اٹھی  تو  جاہلیت کا  شعور سے بھی ادنیٰ درجہ  یعنی لا علمی ارشاد فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی حقیقی سمجھ عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

منافق کا مطلب اور منافقین کی اقسام۔کیا منافقین دورِ حاضر میں بھی موجود ہیں؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ  البقرہ کی آیت نمبر 8 سے 20 تک چونکہ منافقین کے بارے میں ہیں تو ان آیات کی تفسیر و تشریح سے پہلے ہم نفاق اور منافقین کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

منافق کون ہوتا ہے؟

                   جو  شخص ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن وہ دل سے کفریہ عقائد پہ قائم ہو  یا اسلامی عقائد کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو، یعنی دل سے یقین نہ رکھتا ہو ایسے شخص  کو شریعتِ اسلامی میں منافق کہا جاتا ہے۔

نفاق دو طرح کا ہوتا ہے:

1۔ اعتقادی نفاق :

                        اعتقادی نفاق یہ ہے کہ ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن درپردہ کفر پہ  قائم ہو ۔ منافق اعتقادی کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔

 اس قسم کے منافقین کا پہلا اور بڑا گروہ مدینہ میں ظاہر ہوا جن کی اکثریت یہود تھی لیکن وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور نہ صرف اسلام کے خلاف کفر کی مختلف سازشوں کا حصہ ہوتے تھے  بلکہ کئی موقعوں پر انہوں نے مسلمانوں کو نقصان بھی پہنچایا۔

 نفاق چونکہ دل کا معاملہ ہے یہ سب پہ ظاہر تو نہیں ہوتا  لیکن اللہ تعالیٰ دل کے حال جانتا ہے  اور منافقین ِ مدینہ کے معاملے میں بھی  اللہ نے حضورعلیہ الصلوۃ و السلام کو آگاہ فرمایا۔ سورۃ البقرہ کی یہ تیرہ آیات  براہِ راست ان لوگوں کے بارے میں ہی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کا معاملہ واضح اور کھول کر بیان فرما دیا۔

دورِ حاضر میں بھی ایسے لوگوں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے جو حقیقت میں تو کافر ہوتے ہیں  لیکن کئی کئی سال تک مسلمانوں کی صفوں میں گھسے رہتے ہیں  اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑے بڑے نقصانات کا باعث بنتے ہیں البتہ کوئی دوسرا ان کا معاملہ تب تک نہیں جان سکتا جب تک  اللہ ان کا معاملہ ظاہر نہ فرما دیں یا وہ خود کھل کر سامنے نہ آ جائیں۔

2۔ عملی نفاق:

                        اس قسم کا منافق عقیدے کے لحاظ سے تو پکا مسلمان ہوتا ہے  لیکن اس کا عمل منافقین جیسا ہوتا ہے، اس کی عادات و اطوار منافقین سے ملتے جلتی ہوتی ہیں۔ اس قسم کو عملی نفاق کہتے ہیں۔ اور ایسا شخص عملی منافق ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہمارے معاشرے میں کثرت سے ملتےہیں جو باوجود علم و شعور رکھنے کے  اور ایمان و اسلام کے دعویٰ کے بے عمل ہیں۔

مثلاً بے نمازی شخص  جو مانتا بھی ہے، نماز کی اہمیت کو جانتا بھی ہے ، نتائج سے بھی آگاہ ہے  لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ بلکہ میں نے یہاں تک لوگوں سے سنا ہے کہ ہم کمزور ہیں سست ہیں یا وقت نہیں ہمارے پاس مصروفیات بہت زیادہ ہیں، اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ، معاف فرما دے گا۔سو د کی حرمت کا اور اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہے پھر بھی باز نہیں آتے یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلانِ جنگ کرکے یہ لوگ پھر اس کے جائز ہونے کی دلیلیں گھڑ رہے ہوتے ہیں،حق تلفی معاشرہ کا عام وطیرہ بن چکی ہے جس کے پاس طاقت و اختیار ہے وہ دوسرے کی حق تلفی اپنا حق سمجھتا ہے ۔وراثت میں عورتوں کا حصہ نہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے بہنوں ،بیٹیوں کو پہلے ہی بہت کچھ دے دیا ہے کیا یہ کافی نہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی پہ ڈٹ چکا ہے، فکر ہی نہیں اپنی بے عملی کی اور خود کو نفس کے اور شیطان کے اس بہکاوے میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ہماری بے عملی کو معاف فرما دے گا ۔ بلا شبہ مغفرت اس کی رحمت سے ہے وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔ لیکن خود کو اس کی مغفرت کے قابل تو بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے، مقدور بھر اس کے احکامات پہ عمل کرنے کی تو کوشش و جستجو ہو۔ سب کچھ سرے سے چھوڑ کر  بے عملی کی زندگی گزارنا اور پھر اس کی رحمت کی طلب رکھنا تو صرف ایک بہکاوا ہے۔ جو نفس و شیطان ہمارے دل میں ڈالتا ہے۔

یہ عملی نفاق ہے جس سے دورِ حاضر میں بچنا انتہائی مشکل بھی ہےلیکن اتنا ہی ضروری بھی ہے۔ ایسے شخص کو ہم منافق تو نہیں کہیں گے کیونکہ نفاق کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں  لیکن اس طرح کا کردار جو منافق کا ہوتا ہے اگر ہمارا ہو تو ممکن نہیں کہ ایمان سلامت رہے۔

آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا فرمان ِ عالی شان ہے کہ : زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا،  چور چوری کے وقت ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا،شرابی شراب پیتے وقت ایمان کی حالت میں شراب نہیں پیتا، لوگوں کا مال لوٹنے والا مال لوٹتے وات ایمان کی حالت میں مال نہیں لوٹتا  اور تم میں جب کوئی خیانت کرے تو  مومن ہونے کی حالت میں خیانت نہیں کرتا پس تم ان چیزوں سے بچو۔

اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کے  ارتکاب کے وقت  انسان ایمان سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کسی ایسے گناہ میں پھنس جائے یعنی گناہ کو متواتر اختیار کر لے تو پھر ایمان کا باقی رہنا نا ممکن ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 11,12 - فساد کا مفہوم و مطلب - دورِ حاضر کے فسادی اور فساد کیوجہ

0 Comments


 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

قاضی ثناءاللہ مظہری پانی پتی ؒ  تفسیری مظہری میں فرماتے ہیں کہ " فساد ضد ہے صلاح کی اور یہ دونوں لفظ ہر قسم کی ضرر دینے والی اور نفع بخشنے والی چیزوں کو  عام  ہیں یعنی فساد کا لفظ ہر قسم کی  تکلیف اور نقصان دینے والی چیزوں  کیلئے جبکہ صلاح کا لفظ ہر قسم کی مفید اور نفع بخش چیزوں کیلئے ہے۔"

شیخ عبد الحق ھقانی دہلوی ؒ تفسیر ِ حقانی میں فرماتے ہیں " کسی شے کا اعتدال سے باہر ہونا  اور جو نفع کہ اس سے خیال کیا جاتا ہے اسکے قابل نہ رہنا  اور اسکی ضد صلاح ہے یعنی جس طرح فساد کے معنوں میں بگڑنا ہے اسی طرح صلاح کے معنوں میں سنورنا معتبر ہے۔"

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان ؒ اکرم التفاسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ" جو شخص اپنے طریقے سے یا اپنی خیال کے مطابق  اپنی رائے سے اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اسکی رائے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اللہ کے نبی ﷺ کے ارشادات کے خلاف ہوتی ہے، وہ ایک فساد پیدا کرتی ہے۔"

مزید فرماتے ہیں کہ انسان جو چیز بناتا ہے  اس کے استعمال کا ایک قاعدہ ہے۔ ایک مکان بنایا گیا اس میں کھڑکیاں بھی ہیں ، روشن دان بھی ہیں ، دروازے بھی ہیں ۔ اس کے اندر داخلے کیلئے دروازہ رکھا جاتا ہے  اب کوئی کہے کہ روشندان میں بھی جگہ ہے میں سیڑھی لگا کر روشندان سے داخل ہو جاؤں گا اور پھر اس سے نکل جاؤں گا  تو یہ فساد ہو گا ، مصیبت پیدا کرے گا، صحیح طریقہ نہیں ہو گا۔

جس قادرِ مطلق نے کائنات بنائی ہے  اس میں اس میں رہنے سہنے کے، ہر کام کے طریقے اور راستے مقرر  فرمائے ہیں  جو نبی کریم ﷺ نے وضاحت سے ارشاد فرما دیئے ہیں ۔ اسلام کا صرف زبانی فلسفہ ہی نہیں ارشاد فرمایا گیا  بلکہ اللہ کریم نے حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کو  صحابہ کی ایسی مبارک جماعت عطا فرمائی جس نے حضور ﷺ کے سامنے اللہ تعالیٰ کے  احکامات پہ عمل کیا  اور حضورﷺ نے تصدیق فرمائی۔

دورِ حاضر میں ہمیں ہر طرف فساد اور بگاڑ  دکھائی دیتا ہے اس کا بنیادی سبب کیا ہے ؟ بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی عقل اور ناقص رائے پہ  عمل شروع کر دیا ہے ۔ ارشاداتِ الٰہی کو ، ان ضابطوں کو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھائے، انہیں چھوڑ دیا ہے۔

یہاں جو قابلِ غور بات یہ کہ کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی جا رہی ہے  وہ منافقین ہیں کیونکہ کفار کا فساد تو کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں  لیکن جو منافقین کا فساد ہے وہ خطرناک بھی ہے اور اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دورِ حاضر میں ہم کسی کو شرعاً منافق تو نہیں کہ سکتے ، وحی الٰہی کا سلسلہ بند ہو چکا اور نہ اب کوئی نبی آئے گا تو کوئی دوسرا ذریعہ نہیں کہ ہم کسی کی نفا ق کو جان سکیں ، اب ان لوگوں کو منافق نہیں بلکہ فاسق کہا جائے گا جن میں منافقین کی علامات پائی جاتی ہیں۔ اور ایسے لوگ چونکہ اسلام کے لبادے میں ہوتے ہیں اسلام کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ، خود کو مسلمان کہلواتے ہیں  لیکن یہ خصلتیں یہ عادات و اطوار جو ان تیرہ آیات میں بیان ہوئیں اور اس کے بعد اور بھی بہت سے قرآنی آیات اور احادیث میں بیان فرمائی گئیں ، یہ بتائیں گی  یہ نشانیاں ایسے لوگ کی شناخت کریں گی اور یہ ہی واحد ذریعہ ہے ایسے لوگوں کی حقیقت جاننے کا اور ان سے بچنے کا ۔ اور نہ صرف ایسے لوگوں کو پرکھنے کا بلکہ خود کو بھی ان تیرہ آیت کو سامنے رکھ کر پرکھنا چاہیئے کہ جو علامات منافقین کی بیان ہوئیں کہیں وہ ہم میں تو نہیں پائی جاتیں۔

اس آیتِ کریمہ میں جو بات بیان فرمائی گئی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں   تو آپ غور فرمائیں تو آپ کو آسانی سے سمجھ آ سکتا ہے کہ دورِ حاضر میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو دین ِ اسلام میں  اپنے رائے اور پسند و ناپسند کو شامل کر رہے ہوتے ہیں ،  تفرقہ بازی پھیلا کےلوگوں کے درمیان دوریاں اور نفرتیں پیدا کر رہے ہوتے ہیں،  قرآن و احادیث کو اپنی مرضی کے معانی و مفاہیم پہنا کے لوگوں  کے  عقائد و اعمال کو خراب  کر رہے ہوتے ہیں، مزاروں اور پیر خانوں پہ جائیں تو  عقیدت و محبت کہ نام پہ لوگوں کو مختلف قسم کی شرکیہ و کفریہ رسومات میں الجھایا ہوتا ہے ۔ خود ساختہ  اسلامی سکالر  ز کا روپ دھار کے  ایسے مسائل جن پہ اجماعِ امت ہے  اکابریں سے لے اب تک کے علماءِ دین متفق ہیں ، ان کو موضوع بحث بنا کر ، اکابرین اور ائمہ دین کے محققانہ اور فروعی  اختلافات کو تنازعات کا روپ دے رہے ہوتے ہیں اور جعلی پیروں اور عاملوں  کو موضوع بنا کر تصوف و طریقت جیسے بنیادی علوم دین کا انکار کر رہے ہوتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ  آپ فساد پھیلا رہے ہو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کر رہے ہیں ، ہم تو لوگوں کو اصل دین بتا رہے ہیں ، ہم تو لوگوں کو صراطِ مستقیم پہ لا رہے ہیں ۔

حیرانگی کی بات ہے کہ امت جس پہ چودہ سو سال سے متفق ہے اور ایک بندہ چودہ صدیوں بعد پیدا ہوا اور کہتا ہے کہ میں لوگوں کو اصل دین سمجھا رہا ہوں تو کیا چودہ سو سال سے جو علمائے امت، ائمہ دین ، اکابرینِ امت کے درمیان متفق علیہ  ہے وہ غلط ہے ، وہ درست نہیں اور جو تو بتا رہا ہے وہ درست ہے تو کیا ممکن ہے کہ یہ امت چودہ سو سال سے گمراہی پہ تھی اور اب تو اصلاح کرنے آگیا ہے ۔ حقیقت میں انہی لوگوں کے بارے میں فرمای جا رہا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں روزہ رسول ﷺ پہ حاضر ہوا اور میں نے اجتہاد کی اجازت چاہی  تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ شاہ ولی اللہ غور کرو اگر ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ ؒ، امام مالک ؒ، امام شافعی ؒ ، امام حنبل ؒ )نے کوئی کمی چھوڑی ہے تو تمہیں اجازت ہے۔یہ ایک کشفی معاملہ تھا کوئی اس پہ یقین کرے نہ کرے اس کی مرضی لیکن اس کے بعد جو اہم بات وہ فرماتے ہیں کہ میں نے غور کیا کہ کیا کسی معاملے میں کوئی کمی ہے جس پہ میں اپنی اجتہادی رائے پیش کروں تو غور کرنے پہ معلوم ہوا کہ کوئی معاملہ ایسا نہیں جس میں ائمہ اربعہ نے کوئی کمی چھوڑی ہو ۔

شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ جیسی عظیم ہستی جنہوں نے روئے زمین پہ پہلی بارمکمل قرآن کریم کا کسی اور زبان( فارسی) میں ترجمہ کیا پھر ان کے بیٹوں  شاہ عبد القادر ؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ نے  سب سے پہلے اردو ترجمہ کیا ۔ اتنی بڑی بڑی ہستیوں نے بھی جن ائمہ اربعہ کی شان بیان فرمائی ہو۔ انہیں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ فرمایا کہ انہوں نے کسی مسئلے میں  کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تو اگر کوئی دورِ حاضر میں نام نہاد مذہبی سکالر اور  ملّا اتنی بڑی بڑی ہستیوں ، ائمہ  کرام، علمائے کرام ،فقہائے کرام،صوفیائے کرام ، اولیائے کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہماجمعین تک کو معاف نہ کرے اور ان کو تنقید کا نشانہ بنائے یا ان کے علوم کا رد کر کے خود کو بہت بڑا عالم تصور کرے، ان کے فروعی اختلافات کا مذاق اڑائے  اور دعویٰ اصلاح کا کرے تو ایسے لوگوں سے بچنا چاہیئے کیونکہ قرآن ان کے فساد پہ مہر ثبت کر رہا ہے فرمایا گیا :

 أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ

یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔

حسد، بغض و عناد، کینہ پروری،اپنی علمی قابلیت کا گھمنڈ و غرور اور تکبر کا شکار ، اور پھر گستاخانہ طرز تکلم اور انداز  کی وجہ سے ان کا شعور ، انکا فہم و ادراک ، انکی عقل و سمجھ باقی نہیں رہی  ۔ اور یہ دعویٰ اصلاح کا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ فسادی ہیں۔ دینِ اسلام کے وہ پہلے جن پہ چودہ سو سال سے امت کا اجماع ہے اور امت متفق چلی آرہی ہے ، جن کےبارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں، انہی معاملات کے بارے میں یہ اپنی ایک الگ رائے گھڑ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے ہیں حقیقتاً یہ ہی اصل فسادی ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری ان سے حفاظت فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 8،9،10 - منافقین کی علامات - دورِ حاضر میں بکثرت پائی جانے والی علاماتِ منافقین - اللہ اور مومنین سے دھوکہ اور دلوں کی بیماری کا مطلب

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ[8] يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ[9] فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ[10]

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن  پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔

یہاں جو پہلی قابلِ غور بات ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا وَمِنَ النَّاسِ یعنی عام عوام، لوگ ۔کوئی تخصیص نہیں فرمائی  کہ یہود،نصاری، منافقین، کفار، مشرکین  وغیرہ کیونکہ جن لوگوں کا بیان ہو رہا ہے  ان کی تخصیص ہو ہی نہیں سکتی   ان کی شناخت ہی یہ ہے کہ ظاہراً کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا  یا تو ان کے دل کا حال اللہ جانتا ہے یا پھر انکے اعمال اس کی گواہی دیں گے ۔ پھر اس کے بعد کے الفاظ ہیں مَنْ يَقُولُ کہ جو کہتے ہیں یعنی زبان سے اقرار کرتے ہیں،  زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ، زبان سے بڑے بڑے دعویٰ کرتے ہیں  کیا کہتے ہیں آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں  وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ  حالانکہ وہ مومن نہیں ۔کیوں مومن نہیں  ؟ اس لئے کہ ان کا یہ دعویٰ صرف زبانی ہے  ان کا دل اس بات کا قائل نہیں کیونکہ اگر ان کا دل بھی اس بات کا قائل ہوتا تو ضرور یہ اس کے مطابق عمل بھی اختیار کرتے جبکہ ان کے اعمال اس کے بر عکس ہیں۔

ا س آیت کا شان ِ نزول تو بنیادی طور  پہ منافقینِ مدینہ سے متعلق ہے  لیکن ہم اگر غور  کریں تو دور حاضر میں  یہ چیز عام دیکھنے کو ملتی ہے  کہا جاتا   ہے کہ ہمارا اللہ پہ بڑا یقین ہے  اور آخرت بر حق ہے  ضرور ایک دن موت آنی ہے ، قبر اور محشر کی سختیوں کا بھی   اقرار کیا جاتا ہے ، محبتِ رسول ﷺ کے بلند و بانگ دعوے، محافل و مجالس اور جلوسوں پہ کروڑوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، مسجدوں کے احترام کی پرواہ کیے بغیر بڑے بڑے اسپیکر اور ساؤنڈ سسٹم لگا کر محافل منعقد کی جاتی ہیں  لیکن عملی زندگی کو دیکھا جائے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کی ایک معمولی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی، زندگی قرآن و سنت کے منافی گزاری جا رہی ہوتی ہے بلکہ جب تک زبان سے نہ بتایا جائے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ بندہ مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا۔

آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  فرمایا:

من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قوم کی شباہت اختیار کرتا ہے  وہ اسی میں سے ہے)

 کتنا سخت حکم اور قابل فکر معاملہ بیان ہوا ہے اس حدیث ِ مبارکہ میں، یعنی جو زبان سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس کی شکل ، اس کی چال ڈھال، اس کا رہن سہن اور بود و باش، اس کا طرزِ زندگی مسلمانوں جیسا نہیں بلکہ کسی اور قوم کے جیسا ہے تو وہ  مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ اس قوم میں سے ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ہاں بر صغیر پاک و ہند میں ملتی ہے ۔کہ یہاں کے مسلمان مختلف قوموں کا امتزاج ہیں ۔ شکل و لباس میں ہم انگریزوں(یہود و نصاری ) کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ جو اپنے روایتی  اور قومی لباس کو ترک کر کے انگریزی لبادے اوڑھتا ہے اسے جدت پسند اور ڈیسنٹ کہا جاتا ہے ۔ تہذیب ہماری ساری کی ساری ہندوانہ ہے ، مذہبی تہواروں کو بھی ہندوانہ رنگ دے دیا گیا ہے  جس طرح ہندو مت میں ہولی و دیوالی وغیرہ کے تہوار منائے جاتے ہیں اسی طرح ہم نے بھی تہوار ایجاد کر لئے حالانکہ اسلام میں عیدین کے علاوہ کوئی تہوار سنتِ رسولﷺ اور خیر القرون سے ثابت نہیں، بزرگانِ دین کے مزاروں پر طرح طرح کی ہندوانہ رسومات کی جاتی ہیں ،شادی بیاہ اور فوتگی و غمی کی رسومات ساری کی ساری ہندوانہ ہیں  اگر کوئی نہ کرنے کی بات کر ے تو کہا جاتا ہے کہ اس سے ہماری ناک کٹ جائے گی۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا اکرم اعوان رحمتہ اللہ  علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کٹنے دو ایسی ناک کو جو محمد رسول اللہ کی اطاعت کی وجہ سے کٹتی ہے ، ایسی ناک کا کٹ جانا ہی بہتر ہے۔

یہی بات اس آیت ِ کریمہ میں بتائی جا رہی ہے کہ جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں  حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے کیونکہ اگر ایمان رکھتے ہوتے تو  ہر گز اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ چلتے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے، سنتِ محمد الرسول اللہﷺ کو نہ چھوڑتے، اگر اللہ جل جلالہ کے حضور روز ِ آخرت کو پیش ہونے کا یقین ہو  تو  کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی جائے، کیسے اس ذاتِ برحق کے احکامات سے روگردانی کی جائے۔ یہ سارا معاملہ اس وجہ سے ہے کہ یہ صرف زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پہ یقین ہے حقیقت میں انہیں یہ یقین حاصل نہیں اسی لئے فرمایا گیا : وماھم بمومنین یہ ایمان نہیں رکھتے،

پھر ارشاد ہوتا ہے:

 يُخٰدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اللہ کو اور مومنوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر(درحقیقت) وہ سوائےئ اپنے آُ کے کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے۔

یہ لوگ اپنے اس کردار سے ، اپنی اس نقالی سے سمجھتے ہیں کہ ہم  ظاہراً مسلمان بن کر اللہ تعالیٰ کو اور مومنین کو چکما دے لیں گے، تو اللہ تبارک وتعالی  فرماتے ہیں وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ یہ دھوکہ نہیں دے سکتے کسی کو سوائے اپنے آپ کے، یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یہ اپنے لئے جہنم کا ایندھن اکٹھا کر رہے ہیں ، یہ خود اس بہکاوے  اور دھوکے میں پڑے ہیں ۔فرمایا:  وَمَا يَشْعُرُونَ یہ شعور نہیں رکھتے، یہ سوجھ بوجھ اور سمجھ نہیں رکھتے۔یہ کم فہمی اور کم عقلی کا شکار ہیں۔ اور اس کی  وجہ کیا ہے؟ یہ بات اگلی آیتِ کریمہ میں بیان ہوئی فرمایا: فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ اور یہ بیماری نفاق ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ سوجھ بوجھ کا تعلق، فہم کا معاملہ  دلوں کے ساتھ ہے  اگر دل تندرست نہ ہوں ، دل بیمار ہوں تو عقل و فہم بھی جاتا رہتا ہے جیسے حدیثِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : "أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ " .غور سے سن لو بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو گا تو پورا بدن درست ہو گا اور اگر اس میں بگاڑ آئے گا تو پورے بدن میں بگاڑ آئے گا غور سے سن لو وہ  ٹکڑا آدمی کا دل ہے"  یعنی اگر دل صحت مند نہیں ،دلوں میں بگاڑ ہے، دلوں کو نورِ ایمان نصیب نہیں، دل برکاتِ نبوتﷺ اور انواراتِ باری تعالیٰ سے محروم ہیں تو یہ بیمار ہو جاتے ہیں  اور جب دل بیمار پڑ جائیں  تو دینِ اسلام اطلاعات بن کر رہ جاتا ہے، اخبار بن کر رہ جاتا ہے  یہ کبھی بھی ضابطہ حیات نہیں بنتا۔ اور پھر معاملہ یہاں تک خراب ہو جاتا ہے کہ ایک دن میری ایک بندے سے ازدواجی  زندگی پہ بات ہو رہی تھی تو جیسے ہی میں نے اسلام کی بات کہ کہ  اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے تو موصوف کہنے لگے  کہ تم مولوی لوگ ہر بات میں دین کو لے آتے ہو ۔ حالانکہ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی رہنمائی ہمیں قرآن و سنت ِ خیر الانامﷺ میں نہ ملتی ہو۔ لیکن ہم نے اسلام کو مسجد تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ، مسجد سے باہر نکلنے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ ہم زندگی ایسی گزاریں جیسی مجھے پسند ہے یا جیسے میری مرضی ہے، جیسے مجھے اچھا لگتا ہے جبکہ اسلام صرف مسجد کے اندر کے معاملات یعنی عبادات وغیرہ کا نام نہیں بلکہ ضابطہ حیات ہے ، زندگی کے ہر پہلو میں ، زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی فرما تا ہے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں  کی سزا کا بیان فرماتے ہیں اور سزائیں بھی دو طرح کی ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ دنیوی سزا کیا ہے ؟ فرمایا   فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا  اللہ ان کی مرض کو اور بڑھا دیتا ہے  یعنی دنیا میں یہ جس بہکاوے میں اور دھوکے میں پڑ چکے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان پہ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ یہ گمان ،یہ دھوکہ ان پہ ایسے مسلط ہو جاتا ہے کہ یہ کبھی اس سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ اور پھر آخرت میں ان کی سزا کیا ہو گی ؟ فرمایا    وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ  ان کے لئے صرف عذاب نہیں بلکہ دردناک عذاب ہو گا ، یہ سخت تکلیف میں ہوں گی  اور اس کی وجہ کیا ہے ؟  فرمایا  بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ  یہ اس وجہ سے ہے جو یہ جھوٹ بولتے تھے کہتے کچھ اور تھے اور کرتے  کچھ اور تھے ، زبان کا دعویٰ کچھ اور تھا اور عمل اس کے خلاف کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ پہ ایمان رکھتے ہیں  اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم آخرت کو مانتے ہیں  لیکن انہیں یومِ حساب کا ذرا برابر بھی خوف نہ تھا، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں  لیکن آپﷺ کے اسوہ حسنہ اور سنتِ محمد الرسول اللہ ﷺ کو نہیں اپناتے تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیت کا خلاصہ و مقصد

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ البقرہ کی پہلی  بیس آیت انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ جن میں سے پہلی پانچ آیت مومنین سے متعلقہ ہیں اسے کے بعد کی دو آیات کفار کے بارے میں ہیں جبکہ اسکے بعد کی تیرہ آیات ( آیت نمبر 8 سے 20 تک ) منافقین کے بارے میں ہیں۔

ہمارا عمومی معاملہ یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف اس کے شانِ نزول کے اعتبار سے لیتے ہیں اور ہمارا یہ گمان ہے کہ شاید قرآن کے مخاطب اس زمانے کے لوگ ہی ہیں  یا پھر اس سے سابقہ زمانوں کے لوگوں کے احوال بیان ہوئے ہیں۔ بلاشبہ قرآن میں سابقہ قوموں کے احوال بھی بیان ہوئے اور قرآن کی براہِ راست مخاطب زمانہ نبوی ﷺ لے لوگ یعنی اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ ، مشرکینِ مکہ، منافقینِ مدینہ اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ لیکن قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہے  اور اس کا مخاطب ہمیشہ اس زمانے کا فرد ہو گا جیسے دورِ حاضر میں قرآن ہم سے مخاطب ہے، اس میں بیان کردہ احکام ، اوامر و نواہی، مختلف قسم کے لوگوں کی خصوصیات و صفات کو ہمارے لئے بیان کیا گیا ہے۔

جب ہم اس کو اس انداز سے سمجھیں گے کہ اس کا مخاطب میری ذات ہے ، اس کا مخاطب میں ہوں  تو یہ جو سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیات ہیں ، جن میں مومنین، کفار اور منافقیں کی صفات بیان کی گئی ہیں ، تو ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں  میں بھی ہوں ، آپ بھی ہیں بلکہ ہم سب ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں پائے جاتے ہیں، اور اگر خدا نخواستہ مومنین میں نہیں ہیں تو پھر لازمی طور پر ہمارا وجود کفار یا منافقین میں پایا جائے گا۔

انسان خود کو یا تو خود جانتا ہوتا ہے یا پھر اللہ تبارک وتعالی ٰ کی علیم و خبیر ذات۔اگر ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور اپنے ایمان و اعتقاد اور اعمال و عقائد کو ان بیس آیات پہ پرکھیں تو میں سمجھتا ہوں بڑی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے ۔

لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم دوسروں پہ تو بڑے شوق سے تنقید کر رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو تو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں  لیکن خود کی اصلاح نہیں کرتے۔ اپنی ذات کی فکر نہیں کرتے۔

آج کل کے دور میں ہر کوئی حقوق کی بات کر رہا ہے ، مجھے میرا حق نہیں دیا جا رہا ، مجھ سے میرا حق چھین لیا گیا ہے، حالانکہ اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے اسلام حقوق کی بات نہیں کرتا، اسلام فرائض سکھاتا ہے اور فرائض ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ، فرائض کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو دوسرے کا حق ہے وہ آپ کا فرض ہے، جو والدین کے حقوق ہیں وہ اولاد کے فرائض ہیں  اور جو اولاد کے حقوق ہیں وہ والدین کے فرائض ہیں۔ اگر ہر کوئی اپنا فرض ادا کرتا رہے تو کوئی صورت ممکن نہیں کہ کسی کی حق تلفی ہو ۔ اسلام کا احکامات فرد کے لئے ہیں ذات کے لئے ہیں قاسمِ فیوضات مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے  کہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا پہ اسلام نافذ ہو جائے لیکن میری ذات بچ جائے، میں سود کھا رہا ہوں تو کھاتا رہوں، میں غیر شرعی نزندگی گزار رہا ہوں تو گزارتا رہوں ، میں نے کسی کی حق تلفی کی ہوئی ہے تو مجھ سے کوئی نہ پوچھے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے، سب سے مجھے اور آپ کو اپنے آپ پہ ،اس پانچ چھ فٹ کے بدن پہ اسلام نافذ کرنا ہو گا  جب تک ہم اس پہ نافذ نہیں کرتے ہم اس اہل نہیں کہ ہم کسی اور کو تبلیغ کرتے پھریں یا خالی دعائیں کرتے رہیں۔ جب ہم اپنی ذات پہ نافذ کر لیں گے تو اب ہم اسے کسی اور پہ، اپنے عزیز و اقارب پہ، اپنے اہل و عیال پہ، اپنے احباب پہ نافذ کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اور اسلام چونکہ دین ِ فطرت ہے اور اسے انسان کی فطرت پہ بنایا گیا ہے تو  جو بھی حقیقت میں اسے اپناتا ہے اس کے متعلقین  خود یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ایسے بن جائیں۔

اسلام عقائد و ایمانیات سے شروع ہوتا ہے ، اعمال کی پابندی کے ساتھ کردار کی اصلاح کرتا ہے  اور پھر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو اطیعواللہ و اطیعو الرسول کے مطابق کر کے انتہائی خوبصورت اور پر امن معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ضرور بضرور خود کو سورۃ البقرہ کی ان  پہلی بیس آیات کے سانچے میں پرکھنا چاہیئے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ، کیا مجھ میں مومنین کی صفات موجود ہیں اگر نہیں تو کہیں میرا معاملہ کفار و منافقین جیسا تو نہیں ، کہیں وہ عادات و اطوار جو قرآن منافقین کی بیان فرما رہا ہے وہ تو مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی ذات کی اصلاح کی ضرورت ہے ، مجھے اپنے محاسبہ کی ضرورت ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 7 - قلب و دل لطیفہ ربانی یا بلڈ پمپنگ مشین - دل اور کانوں پہ مہر اور آنکھوں پہ پردے کا مطلب - فہم و عقل دل سے ہے نہ کہ دماغ سے

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:    خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کے کانوں پر (بھی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ  اللہ نے ان کے دلوں پہ مہر کر دی ہے اور کانوں پر بھی، اس بات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم قلب کی حقیقت کو سمجھیں تب ہمیں قلب پہ مہر کا ہونا سمجھ آئے گا۔

انسان دو چیزوں کا مرکب ہے : روح اور مادی جسم

جسم جو کہ آگ، پانی ،ہوا، مٹی اور نفسِ انسانی کا مرکب ہے اور اس کے اہم اعضاء کچھ بیرونی ہیں جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں ، کان وغیرہ جبکہ کچھ اندرونی اعضاء ہیں جیسے  دل، دماغ، جگر ،معدہ وغیرہ

روح  جو امرربی سے ہے اور لطیف شے ہے اس کے بھی اسی طرح اہم اعضاء ہیں جنہیں اعضائے رئیسہ کہا جاتا ہے ۔ اور انہیں روح کی لطافت کے سبب سے لطائف (لطیفہ کی جمع)بھی کہا جاتا ہے جن کا ذکر اہلِ طریقت کی کتابوں میں ملتا ہے  ۔
 یہ پانچ اعضاء ہیں : قلب، روح ، سری ،خفی، اخفاء۔ ان اعضاء کا سب سے تفصیلی بیان قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب "کنوزِ دل" میں ہے۔ مطالعہ فرمائیے گا علم و عمل میں اضافے کا سبب ہو گا۔انشاء اللہ

تو جس طرح مادی علوم رکھنے والوں نے ثابت کیا اور ہم تک یہ بات پہنچائی کہ جسم کا سارا نظام  یعنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دماغ کے پاس ہے۔ اور دماغ ہی باقی سارے اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اس مادی جسم کی بقاء اور زندگی روح سے ہے ۔جب یہ روح اس جسم میں نہیں رہتی تو پھر یہی گوشت پوست کا نسان مردہ ہوتا ہے اور اگر اسے بروقت دفن نہ کیا جائے تو  تعفن زدہ ہو جاتا ہے اور اس کا یہ جسم گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس مردہ جسم کو کوئی انسان نہیں کہتا ، اسے اس کا نام لے کر نہیں پکارا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ میت ہے ، یہ مردہ ہے ، یہ لاش ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ حیات اصل میں روح سے ہے ۔ جب روح  جسم میں باقی نہ رہے تو حیات بھی نہیں رہتی۔

اسی طرح ایک زندہ انسان اگر اپنے اعمال کی وجہ روح کی لطافت کھو دیتی، اس کی اصلی شکل کو مسخ کردے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی روح مر چکی ہے اور یہ زندہ لاش ہے۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ اکثر ایک عربی کا شعر پڑھا کرتے تھے جس کا مفہوم و ترجمہ یہ ہے کہ ان کے جسم ان کی روحوں کی قبریں ہیں۔

قلب ، روح کے اعضائے رئیسہ یعنی مذکورہ بالا پانچ لطائف میں سب سے پہلا اور بنیادی لطیفہ ہے۔ جیسے جسم کا مرکز و محور دماغ ہے اسی طرح روح کا مرکز پہلا لطیفہء ربانی قلب ہے۔ جسم کی حیات روح سے ہے اور  روح قلب سے ہے ۔ یعنی انسانی حیات کا سارا دارومدار قلب پہ ہے ۔ قلب زندہ و روشن ہے تو حیات ہے نہیں تو انسان زندہ لاش کی مانند ہے ۔ جیسے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اوراگر اس میں بگاڑ ہو تو پورے جسم میں بگاڑ ہوتا ہے ۔فرمایا غور سے سن لو یہ انسان کا قلب ہے۔

قلب کیا ہے؟ ظاہری طور پہ دل ایک خون پمپ کرنے کا آلہ ہے جسے انگریزی میں Blood Pumping Machine  کہا جائے گا  لیکن اس کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز رکھ دی ہے جسے قرآن و حدیث میں قلب کہا گیا جو لطیفہ ربانی ہے اور عالمِ امر سے ہے۔اسی سے انسانی زندگی کا سارا نظام چلتا ہے ،سب خواہشیں ،خوشیاں، محبتیں ، نفرتیں اسی سے نکلتی ہیں بلکہ اب تو جدید سائنسدان بھی اس نتیجے پہ پہنچ گئے ہیں اور اس پہ ہارورڈ  یونیورسٹی امریکہ کی تحقیق آئی ہے کہ حقیقت میں انسانی جسم کا  مرکز و محور دماغ نہیں بلکہ دل ہے اور دل وہ آلہ ہے جو سگنل پیدا کرتا ہے اور پھر یہ سگنل دماغ کو منتقل ہوتے ہیں اور دماغ جسم کو اس پہ لگا دیتا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں اس دل کے بارے میں ارشاد ہے کہ" جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پہ سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اگر تو وہ توبہ کر لے تو یہ سیاہ نشان صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کرتا جائے تو یہ سیاہ نشان بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے ۔"

قرآن کریم میں بھی اس قلب کی مختلف حالتیں بیان ہوئیں جیسے مہر لگا ہوا قلب، سیاہ قلب، ٹیرھا قلب،بیمار قلب ، سخت قلب  اور رجوع کرنے والا قلب۔

یہی قلب و روح انسان کو دوسرے جانداروں سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ باقی تمام جانداروں میں اللہ نے صرف جان رکھی لیکن انسان کو جان نہیں بلکہ روح عطا فرمائی جو امر ربی ہے اور عالمِ امر سے ہے۔

سورۃ البقہ کی اس ساتویں آیتِ کریمہ میں فرمایا جا رہا کہ  خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ  کہ ان کے کفر، انکی اسلام دشمنی ،ضد، انا اور ہٹ دھرمی کے سبب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو دلوں کو مہر بند کر دیا ہے ،ان کے لئے ہدایت کے رستے بند فرما دیئے ہیں، وہ متوجہ الی اللہ ہو ہی نہیں سکتے ،فہم و ادراک جس کا تعلق قلب سے اب انہیں حاصل نہیں ہو سکتا ، ان کے قلب کی وہ روحانی خاصیت سلب کر لی گئی اور نہ صرف ان کے دلوں کو حق سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے کانوں کو بھی حق سننے سے محروم کر دیا ہے  اب ظاہراً وہ بہرے نہیں ہیں لیکن حقیقت میں بہرے ہیں کیونکہ حق سننے سے محروم ہیں اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ہے کہ ظاہراً تو وہ دیکھ رہے ہیں لیکن حق نہیں دیکھ سکتے ، ان آنکھوں سے مظاہرِ قدرت نہیں دیکھ سکتے ، ان سے یہ حقانیت نہیں دیکھ سکتے۔یعنی ان کے کفر کے سبب ان کیلئے ہدایت کے تمام دروازے، رستے اور ذرائع بند کر دیئے ہیں ۔

وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

اس آیت کریمہ کی مزید تفسیر خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 179 میں فرما دی ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اور بے شک ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کیلئے پیدا فرمائے ہیں  ان کے دل ہیں کہ ان سے یہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں کہ ان سے یہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں کہ ان سے یہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں مزید یہ بھی فرما دیا کہ یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے کیونکہ جانوروں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جان رکھی اور انسان کو روح عطا فرمائی  اور باوجود روححانی صلاحیتوں کے  اس نے جانوروں جیسی زندگی گزار دی کیونکہ کھانا پینا،سونا جاگنا، رزق کی تلاش ، مباشرت وغیرہ یہ امور تو جانور بھی کر رہے ہیں ۔ اس کی تخلیق کا مقصد کچھ اور تھا جو یہ حاصل نہ کر سکا تو یہ جانوروں سے بھی بدتر ہے، ان سے بھی گیا گزرا ہے ۔ ااور اس سب کا سبب یہ ہے کہ یہ غفلت میں پڑا ہوا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں غفلت سے بچائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی