ماہِ مبارک ربیع الاوّل --- میلادالنبیﷺ ، بعثتِ رحمتِ عالمﷺ اور وصال نبویﷺ کا مہینہ

0 Comments

ماہِ مبارک ربیع الاوّل تین اہم واقعات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت و عظمت والا مہینہ ہے۔

اول:  کہ اس ماہِ مبارک میں نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

دوم:  اسی ماہِ مبارک میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو نبوت کے منصبِ جلیلہ سے سرفراز فرمایا گیا۔

سوم:  اسی ماہِ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس جہانِ فانی سے پردہ فرمایا۔

اب قابلِ غور و فکر بات یہ ہے کہ ماہِ مبارک ربیع الاوّل کو کس طرح سے منایا جائے اور اس میں کیا اعمال کئے جائیں۔

دورِ حاضر میں جو ایک رواج چل نکلا ہے کہ بڑے بڑے جلسے اور جلوس نکالے جاتے ہیں اور جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منایا جاتا ہے کیا یہ درست ہے؟  اس کی تاریخی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ماہِ ربیع الاوّل کو کس انداز سے گزارا جائے۔

حقیقت میں  اس انداز اور طور طریقے سے ربیع الاوّل منانے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں چند دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے ہم نے خود اپنے بڑوں  سے سنا اور انہیں کرتے بھی دیکھا کہ وہ اس ماہ کی بارہ تاریخ کو بارہ وفات کے نام سے یاد کرتے تھے۔  اور حسبِ توفیق کچھ پکا کر غرباء ، اقرباء اور  ہمسائیوں میں تقسیم کرتے اور مرحومین کیلئے دعا کرتے۔ چونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات پر تمام ائمہ دین متفق ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی  تو اس  دن کو دعا کرنا اور  حسبِ توفیق کھانا پکا کر غرباء میں تقسیم کرنا بظاہر کچھ ایسا غیرشرعی عمل نہیں تھا البتہ اس عمل کی بھی قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے کوئی دلیل  نہیں ملتی۔ میں سمجھتا ہوں چونکہ یہ عمل بھی اپنا  بنایا گیا یا ایجاد کردہ تھا  اور دین میں جب بھی کوئی نئی بات یا نیا  طریقہ  کوئی اپنی مرضی سے ایجاد کرتا ہے تو وہ رکتا نہیں بلکہ دن بدن اس میں بگاڑ آتا رہتا ہے اور یہی معاملہ اس عمل کے ساتھ ہوا کہ وہ سادگی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی  اور دکھاوے کیلئے اسی دن کو میلاد النبی کے نام سے منایا جانے لگا پھر کچھ عرصے بعد اسے عید میلاد النبی  کا نام دے دیا گیا  اب چونکہ مسلمانوں کی تو عیدیں بھی شرعی حدود و قیود کی پابند ہوتیں ہیں تو یار لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے جشن کا نام دیا جائے کیونکہ جب  نام ہی جشن ہو گا تو جشن تو کسی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا ۔ جشن میں تو جس کا جو دل چاہے کرے اور جس طرح سے مرضی منائے ۔ سو اب یہ دن یعنی بارہ ربیع الاوّل ، جشن ِ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے منایا جاتا ہے  حالانکہ آپ ﷺ کی ولادت کی مختلف روایات ہیں جن میں اکثریت ائمہ دین کے نزدیک 9 ربیع الاوّل کی روایات زیادہ معتبر ہیں  جبکہ آپ ﷺ کی وفات پہ تو تمام ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ بارہ ربیع الاوّل کے دن ہوئی اور وفات کا دن غم کا دن ہوتا ہے جبکہ دورِ حاضر میں جس دن نبی رحمتﷺ کا وصال ہوا  اس دن جشن منایا جاتا ہے ۔ العیاذ باللہ

تیسری اور سب سے اہم بات  جو   خود اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے۔ فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ(164)

بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو انہیں  اس کی آیات سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے  کھلی گمراہی میں تھے۔

یعنی قرآن کریم کی زبانی جو سب سے اہم اور بڑی سعادت مؤمنین کیلئے ہے وہ ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ان کی طرف رسول مبعوث فرمایا جانا ۔

ولادتِ باسعادت تو تمام جہانوں کیلئے سعادت بنی لیکن بندہ مومن کی لئے سعادت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت عالی ہے ۔  کیونکہ جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو بندہ مومن تک اللہ کا پیغام پہنچا، آپ ﷺ نے اللہ کی آیات، اللہ کے احکامات لوگوں تک پہنچائے اور انہیں پاک کیا ہر قسم کے شرک و کفر سے ، ان کے دلوں میں نورِ ایمان بھر دیا ، انہیں برکاتِ نبوت عطا کیں  پھر انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی  جو لوگ اس سے پہلے واضح طور پر گمراہی میں تھے۔ آپ ﷺ کا دنیا میں بھیجا جانا اور نبی مبعوث کئے جانے کا مقصد اس آیت میں بڑی و ضاحت سے بیان فرما دیا گیا لیکن دورِ حاضر میں  ہمارے علمائے دین بجائے اس کے کہ لوگوں کو آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد بتاتے اور لوگوں تک تعلیمات و برکاتِ نبوت پہنچاتے انہیں جلسوں اور جلوسوں میں لگا دیا ، امتِ مسلمہ کو  جشن منانے پہ لگا دیا ۔ کیونکہ  جب بات ولادتِ باسعادت کے بجائے بعثتِ رحمتِ عالم کی آئے گی تو پھر بات قرآن کریم کی آئے گی، پھر حدیث و سنت کا معاملہ آئے گی، پھر اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا پڑے گا، پھر اتباعِ محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے ہم بعثتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف غور ہی نہیں کرتے اور سال میں ایک بار ولادتِ باسعادت کی خوشی  منا کر خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ شاید عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی تقاضہ ہے جو ہم نے پورا کر دیا۔

میرے بھائی ایسا نہیں ہے عشقِ مصطفیٰ تو اطیعواللہ واطیعوا لرسول سکھاتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو صحابہ کرام جیسا ایمان عطا کرتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو زندگیوں میں انقلاب لے کر آتا ہے اور زندگی کے ہر عمل کو شریعتِ اسلامیہ کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ہم نے ولادت کی خوشی کو ایک تہوار کی شکل دے دی کہ سال میں ایک دفعہ دل کھول کے خرچ کر دیا اور پھر سارا سال مسجدوں کا منہ نہیں دیکھتے ، زندگی ویسی کی ویسی خلافِ شرع گزارتے رہتے ہیں ۔ حتی ٰ کہ شکل سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ مسلمان ہے بھی کہ نہیں کیونکہ  نبی رحمت ﷺ کا امتی تو دور سے دکھائی دیتا ہے  کہ یہ باریش چہرہ ضرور مسلمان کا ہے، یہ جو چہرے پہ داڑھی سجائے ہوئے ہے یہ آپ ﷺ کا امتی ہے۔ عشقِ مصطفیٰ کا اولین تقاضا یہ ہے کہ زندگی سنت کے مطابق گزاری جائے ، اسلام کو اپنے روز مرہ کے امور میں شامل کیا جائے ، کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ سوچا جائے کہ آپ ﷺ کا طریقہ کیا ہے۔ کیونکہ  سنت سے اچھا کوئی طریقہ، کوئی اسلوب نہیں ہو سکتا۔

عرض یہ ہے کہ اس ماہِ مبارک کو ولادتِ باسعادت، وصال نبویﷺ یا بعثتِ عالی جس بھی  وجہ کو دیکھ کے منایا جائے  طریقہ اور اسلوب قرآن و سنت سے لیا جائے گا ، کام اور عمل صرف وہی کئے جائیں جن کی اسلام نے اجازت و حکم دے رکھا ہے اور درود و تلاوت کی محافل منعقد کی جائیں، مسجدوں میں شور و غل مچا کے مسجدوں کی بے حرمتی کے بجائے  سیرت النبی ﷺ  پہ بیانات ہوں، عوام کو تفرقہ بازی کے بجائے سنتِ خیر الانام اور اسوہ حسنہ سے متعارف کرایا جائے  ، آواز کا جادو جگانے کے بجائے ادب و احترا م سے آپ ﷺ کی شان ِ اقدس میں نعتیہ کلام پیش کیا جائے تو  کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر بڑے بڑے جلوسوں، جلسوں، کھانوں اور چراغاں پہ بے دریغ خرچ کرنا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ لینے والے نام نہاد علماء لا کر خود کو عاشقِ رسول سمجھنا ہے  تو یہ خود فریبی ہے  ایسی کوئی رہنمائی نہ تو قرآن و حدیث سے ملتی ہے نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کوئی عمل کیا اور نہ ہی چودہ سو سال میں کسی مکتبہ فکر کے ائمہ دین سی ایسی کوئی بات ثابت ہے۔ تمام ائمہ دین نے اس ماہ مبارک کو انتہائی ادب و احترام سے منانے کا حکم دیا  اور اس کی حدود و قیود بھی بتلائیں اور کیا اعمال کئے جائیں یہ بھی بتلایا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تادمِ آخر صراطِ مستقیم پہ قائم رہنے کی توفیق  و ہمت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

طالبِ دعا : ابو محمد زبیر اویسی

تیسرا لطیفہ،سِرّی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

لطیفہ سری کا مقام پہلے لطیفے کے اوپر ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ  و السلام کا فیض آتا ہے جو تیسرے آسمان سے آتا ہے۔اس کے انوارات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔کبھی لگاتار سفید روشنی اور کبھی گالوں کی بارش،کبھی سفید بادلوں کا جھرمٹ ،غرض اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہر کوئی مشاہدہ کرتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام   کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو ولادت کے ساتھ ہی دریا میں ڈال دیے گئے۔عجیب آزمائش شروع ہو گئی مگر اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ ان کے طفیل ان کی والدہ ماجدہ کو بھی شرف ہمکلامی سے نوازا گیا۔

ارشاد ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى ۔ القصص: 7    ہم نے والدہ موسیؑ سے بات کی۔

سبحان اللہ! گویا یہاں سالک کو تو نصیب ہوتا ہے الحمد اللہ مگر اس کے طفیل  اس کے متعلقین کو بھی برکات پہنچتی ہیں۔

پھر دریا سے شاہی محل میں پہنچ گئے اور فرعون کے ہاں بچپن،لڑکپن اور جوانی تک مقیم رہے۔کہا جاتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول انسان کو بدل دیتا ہے مگر فرعون کا شاہی محل اور اس کا ماحول موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو تو نہ بدل سکا۔چنانچہ ان برکات کا انعکاس سالک پر بھی ہوتا ہے اور وہ ماحول میں ڈھلنے کی بجائے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت سے نوازا جاتا ہے۔

جوانی میں ایک قبطی کا حادثاتی طور پر عدل کی حمایت میں ان کے ہاتھوں مارا جانا،فرعون کا ان کے قتل کا قصد اور ان کا ہجرت فرمانا اور مدین چلے جانا،وہاں شعیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بچیوں سے ملاقات،پھر ان کے ہاں شادی بھی ایک عجیب مرحلہ ہے کہ جب کنویں پہ پہنچے تو دیکھا کہ چروا ہے ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو بچیاں الگ سے کھڑی ہیں۔پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ضعیف ہیں،کوئی اور ہے نہیں جو ریوڑ لے کر آئے۔ جب دوسرے لوگ چلے جائیں گے تو ہم ریوڑ کو پانی  پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام نے آگے بڑھ کے ڈول کھنچا اور ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ وہ چلی گئیں تو ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ گئے اور دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ  ۔ القصص: 24

یا اللہ نہ گھر بار،نہ واقف کار،سخت احتیاج کا عالم ہے۔خیر عطا فرما۔تو ان  بچیوں میں سے ایک،جس کے چلنے کے انداز سے بھی حیا ٹپک رہی تھی،انھیں بلا نے آئی۔گویا عورت ہر سوال کا جواب تھی۔رشتہ داری بھی ہو گئی،ٹھکانا بھی مل گیا،روزگار بھی کہ باحیا عورت تمام نعمتیں  ساتھ لاتی ہیں۔

پھر روانگی،طور پہ تجلیاتِ باری کا مشاہدہ اور کلامِ الٰہی اور پھر فرعون کو دعوتِ حق دینے کا حکم۔ایک ایسے سرکش بادشاہ کو جو اپنی خدائی کا دعویدار تھا، دعوتِ الی اللہ ۔پھر جادو گروں سے مقابلہ۔ان دونوں مقامات پر توکل علی اللہ کی عظیم مثال اور پھر برسوں قبطیوں اور فرعون سے مقابلہ و مجادلہ۔ پھر بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت،سمندر سے راستہ ملنا،کوہ طور پر حاضری،کلامِ الٰہی اور کتاب کا عطا ہونا،پھر آگے سفرِ جہاد،غرض ایک جہدِ مسلسل ہے۔بظاہر ہر کام، کی ابتداء مشکلات سے ہوتی ہے اور انتہا عطائے الٰہی پر۔ آپ علیہ السلام کی حیات بے شمار عجائبات کی طویل داستان ہے جسے  یہاں سمونا ممکن نہیں۔

جب سالک کے لطیفہ پر ان کے انوارات آتے ہیں تو ان میں وہ سب طرح کی برکات ہوتی ہیں۔اپنی حیثیت کے مطابق ہر سالک ان سے مستفید ہوتا ہے ۔اللہ کریم پر بھروسہ نصیب ہوتا  ہے۔حق بات سے بڑے سے بڑے جابر کے سامنے کہنے کا حوصلہ پاتا ہے اور حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔نیز دمِ واپسیں تک غلبہ حق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔یہ بات اور ہے کہ نقلی صوفی نکمے ہوتے ہیں ورنہ جنھیں یہ نعمت نصیب ہوتی ہے وہ انقلاب آفرین شخصیات بن جاتی ہیں اور شاید میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ ہر سالک کو اس کی استعداد کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ سب ایک سا حصہ نہیں پاتے۔ ہر ایک کے خلوص اور مجاہدہ،دونوں کا مقام اپنا اپنا ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے برکات سے حصہ نصیب ہوتا ہے۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 43 - اجتماعیت کی اہمیت - عبادات کی قبولیت کا معیار و طریقہ - دینِ اسلام میں ذاتی پسند و ناپسند کا دخل

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ(43)

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

اس رکوع میں براہِ راست مخاطبین تو اولادِ یعقوبؑ  یعنی بنی اسرائیل ہیں جو نزول وحی کے وقت یہودِ مدینہ کی شکل میں موجود تھے، انہیں حکم دیا جارہا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، کیونکہ یہود و نصاری بھی عبادت  تو  کرتے تھے لیکن انہی پرانے مروجہ طریقوں کے مطابق کرتے تھے اب چونکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہو چکے تھے شریعتِ مطہرہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا تو اب عبادت کا کوئی اور طریقہ یا کسی کی اپنی مرضی یا پسند کے مطابق عبادت نہیں ہو گی، دونوں طرح کی عبادتوں یعنی مالی اور جسمانی عبادت کا ذکر کر کے فرما دیا گیا  کہ اب نماز ویسی ہو گی جیسی محمد الرسول اللہ ﷺ تعلیم فرمائیں گے ، اب زکوٰۃ و صدقات کا وہ طریقہ قابلِ قبول ہو گا جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو گا۔

 فرمایاگیا  وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ رکوع کرو،  رکوع کرنے والوں کے ساتھ

یہود جو عبادت کرتے تھے اس میں رکوع بھی نہیں تھا اور دوسرا وہ انفرادی عبادت کرتے تھے  اس لئے رکوع کا ذکر فرمایا اور اجتماعی رکوع کا فرمایا گیا ۔ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ویسی عبادت کرو جیسے دوسرے لوگ کر رہے ہیں  یعنی اب تمہارا طریقہ عبادت  قابلِ قبول نہیں ہو گا  اب عبادت ویسے ہو گی جیسی   نبی رحمتﷺ تعلیم فرمائیں گے اور جیسے  آپﷺ کے اصحاب کریں گے، جیسے تمام مسلمان کریں گے  اس لئے فرمایا گیا کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ، یعنی ایسے عبادت  کرو ، ایسے نماز ادا کرو جیسے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کر رہے ہیں، رکوع و سجود کے ساتھ اور اجتماعی طریقے سے نہ کہ انفرادی طور پہ۔

 اس آیتِ کریمہ میں جو واضح  حکیمانہ پہلو میں سمجھ سکا ہوں  وہ یہ ہے کہ  اگر کوئی اپنے طریقے سے یا آباء و اجداد سے رائج طریقے پہ عبادت کرتا ہے  یا پھر جمہور کے مذہب سے مختلف انفرادی طور پہ یا کچھ لوگ مل کر بدنی یا مالی عبادت کا کوئی طریقہ اختیار کر لیتے ہیں  اور وہ طریقہ امت کی اکثریت سے مختلف ہے تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا، خلاف ِ شرع، خلاف ِ سنت  اور جمہور سے ہٹ کے کوئی طریقہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ وہی طریقہ ، وہی عمل ، عبادت کا وہی اسلوب  قابلِ قبول ہو گا جو قرآن و سنت کے مطابق ہو گا ، جس پہ آپ ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر اب تک اور تاقیامت امت مسلمہ قائم ہے اور قائم رہے گی۔

دورِ حاضر پہ غور کیا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ نہ صرف بدنی عبادات یعنی نماز وغیرہ بلکہ  مالی عبادات یعنی عشر و زکوٰۃ میں بھی ہم نے اپنے اپنے طریقے گھڑ لئے ہیں ۔ اذان  کو سنیں  تو مختلف قسم کی اذانیں سننے کو ملتی ہیں اصل کو تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے تھے اور کیا بھی نہیں لیکن اذان سے پہلے اور بعد میں ہم نے اپنی طرف سے اضافہ کر رکھا ہے  اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ الفاظ برے نہیں تو اذان کے ساتھ پڑھنے میں کیا حرج ہے، سادہ سی بات ہے کہ دینِ اسلام میری اور آپ کی پسند و ناپسند کا معاملہ نہیں ، دینِ اسلام علماء اور اہلِ علم حضرات کی ذاتی رائے پہ قائم نہیں۔ دینِ اسلام وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے اللہ کے نبی ﷺ نے خود بھی  کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم فرمایا اور انہوں نے نہ صرف آپ ﷺ کے  زمانے میں آپﷺ کی موجودگی میں اس پہ عمل کیا بلکہ اس کو تین چوتھائی   دنیا پہ  نافذ بھی کیا ۔ آج بھی ، کل بھی اور قیامت تک ویسے ہی کرنا ہے جیسا سنت سے ثابت ہے ، جیسا خلفائے راشدین نے عمل فرمایا، جیسے چودہ سو سال سے امت کی اکثریت کرتی آرہی ہے۔

اسی طرح نماز پہ غور کرو تو اس  کی بھی اصل میں تو کوئی تبدیلی نہیں  لائی جا سکی  تو فروع میں نماز سے پہلے اور بعد میں  ایسے رواجی قسم کے اضافے کر دیئے ہیں کہ جس مسجد میں جاؤ  نماز کی ایک الگ صورت نظر آتی ہے۔

لباس میں ذاتی پسند و ناپسند اور انفرادیت  والے پہناووں کو سنت کا نام دے رکھا ہے ۔

مالی عبادت میں زکوٰۃ و عشر جو فرض ہیں ، انہیں چھوڑ کر محض دکھاوے کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، بڑی بڑی محافل,جلسے جلوسوں اور ذاتی نمائش کیلئے کھانوں کا اہتمام کر کے لاکھوں روپے کا ضیاع کیا جاتا ہے اور فرض مالی عبادت یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ دیا  ہی نہیں جاتا۔ دینی معاملات کے نام پہ بے دریغ خرچ کرنے والوں سے جب زکوٰۃ و عشر کے بارے میں دریافت کیا تو اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں زکوٰۃ و عشر کے احکامات کا پتہ ہی نہیں اور اگر پتہ ہے تو کبھی زندگی  میں اپنے مال کا حساب ہی نہیں کیا ، تخمینہ ہی نہیں لگایا کہ مال کتنا ہے اور اس پہ زکوٰۃ کتنی بنتی ہے۔عشر کے معاملے میں اکثریت  ایسے لوگوں کی ہی جو بالکل عشر دیتے ہی نہیں اور بہت تھوڑی تعداد وہ ہے جو تھوڑا سا غریبوں کو دے کر  خود کو عشر سے بری الذمہ  سمجھ لیتے ہیں۔ سادہ سی اور عام فہم بات ہے کہ اگر کسی کے پاس وقت کم ہے اور مصروفیات بہت زیادہ ہیں  اور وہ چار رکعت فرض نماز کی بجائے دو یا تین پڑھ لے  اور کہے کہ وقت کی کمی کیوجہ سے میں نے چار کی بجائے دو یا تین پڑھ  لیں تو کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائے گی۔ ہر گز نہیں ہو گی بلکہ گناہ گار ہو گا۔

اسی طرح زکوٰۃ و عشر کا بھی جو نصاب ہے  اگر کوئی اس کا حساب لگائے بغیر  پورا پورا ادا نہیں کرتا اور اپنی مرضی اور پسند سے کچھ نہ کچھ دے کر بری الذمہ سمجھتا ہے  تو زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی نہیں ہو گی  یعنی اگر  زکوٰۃ اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ پانچ ہزار بنتی ہے  تو کم از کم رقم پانچ ہزار ہی دینی ہو گی ہاں اگر کوئی احتیاطاً  اضافی دیتا ہے تو زیادہ بہتر ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ غریبوں کی مدد کرتا رہتا ہوں  تو مجھے زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں تو ایسا نہیں ہے یہ اس کے صدقات و خیرات شمار ہوں گے اور نفلی مالی عبادت ہو گی ۔ فرض تب ہی ادا ہو گا کہ جب حساب لگا کے مقررہ مقدار ادا کرے گا۔

یہی بات اس آیتِ کریمہ میں سمجھائی جا رہی ہے کہ نماز و زکوٰۃ چونکہ فرض عبادتیں ہیں  اس میں تمہاری مرضی اور پسند و ناپسند نہیں چلے گی  بلکہ  جیسے سب کر رہے ہیں جو رہنمائی قرآن و سنت سے ملتی ہے، جیسا آپﷺ نے تعلیم فرمایا، جو طریقہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہے اور جیسا جمہور علماء کے نزدیک معتبر ہے ، وہ ہی قابل قبول ہو گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 42 - حق و باطل کو ملانا اور حق کو چھپانا - دورِ حاضر کی فرقہ واریت کا بنیادی سبب

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ)42(

اور حق کو باطل سے نہ ملاؤ اور تم حق کو نہ چھپاؤ اور یہ تم جانتے ہو۔

بنی اسرائیل یعنی یہود کو مخاطب کر کے جو کچھ سابقہ آیات میں فرمایا جا رہا ہے  اسی تسلسل کے ساتھ فرمایا گیا کہ حق و باطل کو غلط ملط نہ کرو، حق و باطل کی آمیزش نہ کرو، سچ اور جھوٹ کو آپس میں ملاوٹ نہ کرو اور دوسری بات جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی گئی وہ ہے حق کو چھپانا۔ یہود علماء جو مشرکین و کفار کو بڑے فخر سے بتلاتے تھے کہ ہماری کتابوں میں نبی آخر الزمان کی بشارتیں ہیں  اور جب وہ آئیں گے تو ہم ان پہ ایمان لائیں گے لیکن جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے اور اعلانِ نبوت فرمایا تو انکار کرنے لگے اور انہی بشارتوں اور پیش گوئیوں کو مختلف رنگ دینے لگے جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ وہ اپنے پاس سے من گھڑت دلیلیں دیتے اور کہتے کہ نبی تو مبعوث ہونگے لیکن وہ بنی اسرائیل سے ہوں گے نہ کہ بنی اسماعیل ؑ سے اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات کرتے جن کا ذکر قرآن ِ کریم میں موجود ہے اور طرح طرح کے اعتراضات اٹھاتے۔ دوسری بات  جو فرمائی گئی کہ حق کو نہ چھپاؤ کیونکہ حقیقت جو خود انہیں معلوم تھی اور وہ جانتے تھے کہ آپﷺ ہی اللہ کے آخری  اور بر حق نبی ہیں  جس کہ گواہی  تورات و انجیل میں موجود تھی لیکن یہ بات وہ عام لوگوں سے چھپاتے حالانکہ وہ بخوبی اس بات سے آگاہ تھے، انہیں علم تھا کہ شریعتِ مطہرہ ہی حقیقی شریعت ہے  اور نبی کریم ﷺ ہی وہ نبی ہیں جن کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی  گئیں  پہلی: حق کو باطل کے ساتھ ملانا،  دوسری: حق کو چھپانا اور یہ دونوں کام جانتے بوجھتے ہوئے کرنا  نہ کہ لا علمی کیوجہ سے۔

عام عوام کو اصل سے ،حقانیت سے ،دینِ حق سے دور  رکھنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، پہلا: یہ کہ حق و باطل کی آمیزش کر دی جائے، سچ اور جھوٹ کو باہم ملا دیا جائے تاکہ عام لوگ حق کی شناخت ہی نہ کر سکیں ، سچائی تک پہنچ ہی نہ پائیں ،دوسرا: یہ کہ حق کو چھپایا جائے اور حقیقت کو  ان تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ یہ دونوں کام ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جانتے بوجھتے ہیں  یعنی علماء اور اہلِ علم لوگ، دین کا علم رکھنے والے لوگ۔

دور ِحاضرمیں اگر ہم غور کریں  تو جو فساد برپا ہے ، جس پر  فتن دور سے ہم گزر رہے ہیں جو تفرقہ بازی کا ماحول بنا ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔ موجودہ دور میں علماءِ ظاہر نے لوگوں کو قصوں اور کہانیوں پہ لگایا ہوا ہے ۔ اصل حقیقت ، اصل احکامِ دین اور علوم ِ شریعت لوگوں تک پہنچائے ہی نہیں جاتے۔اور تو اور ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں جو  کہ اسلام کے نام پہ لوگوں سے ووٹ لیتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس غیر اسلامی نظام ِ حکومت کو سپورٹ کر رہی ہوتی ہیں۔ا س مغربی جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل کا خود بھی حصہ بن جاتی ہیں۔ جس میں نظامِ عدل، نطامِ معیشت، نظامِ تعلیم الغرض سب کچھ ہی غیر اسلامی ہے۔

تو ایک بہت بڑا گروہ علماء کا وہ ہے جو اصل امورِ دین ، احکامِ دین اور اسلامی فلسفہ حیات بیان ہی نہیں کرتا۔ قرآن و حدیث کی تعلیم لوگوں تک پہنچے ہی نہیں  دے رہا  یعنی حق کو چھپائے بیٹھا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق و باطل کی اس حد تک  آمیزش کر دی ہے  کہ آج کے دور کا مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور  اور کئی قسم کے فتنہ و فسادات میں پھنس چکا ہے ۔ امتِ مسلمہ گروہ در گروہ کئی جماعتوں ، گروپوں اور گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اپنی دکانداری چمکانے کیلئے، لوگوں سے  داد وصول کرنے کیلئے، لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کیلئے فروعی اختلافات کو اس حد تک ہوا دی جاتی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو کافر سمجھتا ہے اور اس کی جان کے درپے ہوتا ہے۔ امتِ مسلمہ تک دین کی اصل تعلیمات پہنچانے کی بجائے انہیں مختلف رواجات، رسومات اور بدعات میں الجھایا ہوا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے فرمایا جا رہا کہ انہوں نے حق و باطل کو  ملا دیا ہے ، سچ اور جھوٹ کی آمیزش کر دی ہے  اور یہ سب وہ جانتے بوجھتے ہوئے، اپنے ذاتی مقاصد و فوائد اور جھوٹی داد وصول کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو اصل دین ِ اسلام پہ لے آئیں تو یہ گروہ، یہ جماعتیں ،یہ مختلف مذہبی گروپس ختم ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ان کی دکانداریاں  جو انہوں نے پیر خانوں ، آستانوں، اور جماعتوں کی شکل میں بنائی ہوئی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 41 - انکار کرنے والوں میں پہل کرنا - اللہ کی آیات کو بیچنے کا مطلب ۔ ایصال ثواب کیا ہے اور اس کا صحیح طریقہ

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ(41)

اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے اور اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو اور میری آیات کو معمولی قیمت(دنیا) کے بدلے مت بیچو اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔

سابقہ آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب یعنی یہود کو مخاطب کرکے انعامات کی یاد دہانی کرائی گئی ،اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا کہا گیا تاکہ جزا کے طور پہ اللہ ان سے اپنا وعدہ پورا کرے اور صرف اللہ سے ڈرنا کا حکم ہوا   فرمایا گیا کہ صرف میرا ڈر رکھو ، صرف مجھے خاطر میں لاؤ۔

اب فرمایا جا رہا ہے  وَاٰمِنُوْا بِمَاۤ أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ ۔ اور جو میں نے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ جو تمہارے پاس ہے اسکی تصدیق کرتا ہے۔

یعنی قرآن ِ کریم پہ ایمان لاؤ اور دلیل کے طور پہ ارشاد ہوا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی تمہارے لئے کوئی نرالی یا انوکھی بات ہے  بلکہ یہ قرآن نہ صرف سابقہ کتب  بلکہ سابقہ انبیاء ، ملائکہ،صفات باری تعالیٰ، آخرت کا عقیدہ، روزِ جزا کا معاملہ، جنت و دوزخ اور تمام وہ الہامی احکامات و عقائد جو سابقہ انبیاء اور شریعتوں میں موجود تھے،  یہ قرآن ان کی تصدیق کر رہا ہے۔اور جو تک بنیادی عقائد کا تعلق ہے تو وہ تو تمام شریعتوں میں وہی ہیں ، دعویٰ تو ہمیشہ وہی رہا یعنی لا الہ الا اللہ۔ قرآن ِ کریم نہ صرف اقوامِ سابق ، انبیاءِ سابق ، احکاماتِ سابقہ کی تصدیق کر رہا ہے بلکہ اس کی  بشارت و اطلاع بھی سابقہ کتب میں موجود تھی۔

پھر فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْۤا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهٖ ۔اور اس کا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو۔

اس کو جھٹلانے والوں میں، اس کاا نکار کرنے والوں میں پہلے نہ بنو یعنی اس کا انکار کرنے میں پہل نہ کرو۔

انکار تو انکار ہی ہوتا ہے لیکن جو پہل کرتا ہے اس کا معاملہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بعد میں آنے والوں کا بار بھی اس پہل کرنے والے کی گردن پہ ہوتا ہے۔ دوسری خاص وجہ جو انہیں  انکار میں پہل سے منع فرمایا جا رہا ہے کہ تم پہل کرنے والے نہ بنو ۔ اس کی وجہ ان کا الہامی دین ، انبیاء ِ سابقہ کی پیروی  اور اللہ تعالیٰ کی خاص لاڈلی قوم ہونا اور ان کے پاس اس کی دلیل کا موجود ہونا جو سابقہ انبیاء اور کتابوں کے ذریعے ان کے پاس تھی، جیسے عموماً ہماری کسی بات کا کوئی انکار کرے تو ہم کہتے ہیں کہ تم تو انکار نہ کرو، اس کی وجہ اس سے ہماری قربت ، ہماری محبت ہوتی ہے یا پھر چونکہ اس کے پاس اس بات میں کوئی شک نہیں ہوتا ۔  جس کی وجہ سے ہم اسے کہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بے شک انکار کرتا ہے تو کرتا رہے تم تو انکار نہ کرو یا تمہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ بنی اسرائیل کا تھا کہ ان کی کتابوں  میں نبی آخرالزمان ﷺ اور دین ِ محمدی کی بشارتیں موجود تھیں ، آپﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کی نشانیاں موجود تھیں اسی لیے انہیں فرمایا جا رہا ہے کہ پہل کرنے والے نہ بنو ۔انتظار کرو ، دیکھو ، سمجھو ، تحقیق کرو تو تم خود بخود ایمان لے آؤ گے،سچائی تمہارے سامنے آجائے گی ، حق تمہارے سامنے آشکار  ہو جائے گا۔

پھر فرمایا وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيلًا اور میری آیات کو معمولی قیمت کے بدلے مت بیچو

یہود علماء جن کے پاس علم تھا وہ دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے تھے اور اپنی مرضی سے اپنے فائدے اور مقصد  کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو من گھڑت معانی و مفاہیم پہناتے تھے اور عوام جو اصل احکامات تو جانتی ہی نہیں تھی، ان کو حجت مانتی تھی، جو علماء کہ دیتے اسی کو اللہ کا حکم تصور کرتے۔

دورِ حاضر میں تقریباً یہی صورت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ دینی علوم کو  ایک خاص طبقے تک محدود  کیا جا  چکا ہے  اور جو وہ بتا دیں اسی بات کو حق اور سچ سمجھا جاتا ہے۔اور  المیہ یہ کہ انہوں نے قرآن و حدیث کو مرضی کے معانی و مفاہیم پہنانے کی کوشش کی اور دینی احکامات کو اپنے مقاصد و فوائد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بلکہ دورِ حاضر میں ایک اصطلاح عام ہو چکی ہے  ککہ فلاں مذہب   کارڈ  کھیل رہا ہے  یعنی مذہب کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا " الگ ہو دین سیاست سے  تو رہ جاتی ہے چنگیزی" جبکہ ہم سمجھتے   ہیں کہ دین کا دنیاداری سے بھلا کیا تعلق  ۔ حالانکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یا کوئی بھی نظام ہو سب سے بہترین صورت دین ِ اسلام میں ہی پائی جاتی ہے،امورِ دنیا اگر دین کے بغیر چلائے جائیں تو  بقول علامہ ؒ وہ چنگیزی ہوتی ہے یعنی ظلم و جبر ہو گا، ظالمانہ نظام ہو گا۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے، ملکی  نظام سے لے کر خاندانی نظام تک، ملکی معیشت سے لے کر ذاتی کاروبار و تجارت تک ہر طرف ظلم ہی ظلم دکھائی دیتا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں بڑا  حکیمانہ نکتہ یہ بھی  بیان ہو ا فرمایا: ثَمَنًا قَلِيلًا تھوڑی سی قیمت یعنی اگر اللہ کی آیات کے بدلے  تم دنیا جہاں کی دولت بھی لے لو ، تم دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ بھی لے لو تو اس کی قدر و قیمت  ، اسکی اہمیت و وقعت اللہ کے احکامات کے بدلے ، اللہ کی آیات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگی۔

آج کل ایک عام رواج چل پڑا ہے  کہ ہم پیسے دے کر یا کھانا وغیرہ کھلا کر ایصالِ  ثواب کیلئے  قرآن پڑھواتے ہیں ۔

حضرت ؒ اکرم التفاسیر میں  مفتی محمد شفیع ؒ کی بحث ذکر فرماتے ہیں جو انہوں نے معارف القرآن میں اس حوالے سے فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ برکت کیلئے اجرت لینا جائز ہے ، لیکن جہاں تلاوتِ قرآن ِ پاک کا ثواب چاہیے وہاں اجرت  آج بھی حرام ہے ۔ مثلاً ہم کسی مرنے والے کیلئے ختم پڑھواتے ہیں کہ اس کو ایصالِ ثواب ملے اور پڑھنے والے کو پیسے دیں یا کھانا دیں، دونوں حرام ہیں ۔فقہ کی چوٹی کی کتابوں  میں یہ مسئلہ موجود ہے اور مفتی صاحب نے معارف القرآن میں بھی درج کر دیا ہے کہ وہاں قرآن ِ کریم کے ثواب کی ضرورت ہے، ثواب تب ہی ہو گا جب پڑھنے والا اللہ کی رضا کیلئے پڑھے گا، جب پڑھنے والا فی سبیل اللہ پڑھے گا۔ اور پڑھانے والا فی سبیل اللہ پڑھوائے گا ۔ تو جب ہم ختم میت کیلئےکرواتے ہیں تو کھانا دینا بھی جائز  نہیں ہے اور جو اجرت کیلئے پڑھتا ہے اس سے نہ پڑھوایا جائے، جب پڑھنے والے کو ثواب کے بجائے گناہ ملا تو میت کو کیا ملے گا، رسمِ دنیا ہے لیکن قرآنِ کریم اسے حرام فرما رہا ہے کہ معمولی اجرت کیلئے میری کتاب کو، میری آیات کو مت بیچو ، یہ بیچنے کی چیز نہیں ہے۔

وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو ، کسی اور معامے کو کسی اور خوف کو ، کسی اور کی ناراضگی کو خاطر میں مت لاؤ  بلکہ صرف مجھ سے ہی حیا کرو، صرف مجھ سے ہی ڈرو، صرف میری ناراضگی کی فکر کرو۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 40 - اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرنا - بندوں کا وعدہ اور اللہ کا وعدہ - صرف اللہ سے ڈرنے کا حقیقی مطلب

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ)40(

اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو اور جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو میں نے جو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا  اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو۔

سابقہ رکوع میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کا معاملہ بیان ہوا، آدم علیہ السلام کی عظمت و بزرگی کا اقرار بذریعہ دلیل و ثبوت فرشتوں نے کیا جبکہ شیطان نے تکبر و غرور کیوجہ سے  انکار کیا اور مردود ٹھہرایا گیا۔ پھر آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام اور شیطان کے بہکاوے میں آکر شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا اور  جنت سے زمین کی طرف بھیجا جانا، حقیقت میں یہ ایک سبب بھی تھا کیونکہ آپ ؑ کا ٹھکانہ تو جنت نہیں بلکہ زمین تھا  جہان انہیں نیابتِ الٰہی عطا کی گئی تھی دوسرا یہ درس دینا مقصود تھا کہ شیطان اب تمہارا واضح دشمن بن چکا ہے اس لیے اس سے بچنا ہو گا  اور اگر اس کے بہکاوے میں آگئے تو یہ نعمت سے محرومی کا سبب ہو گا۔  رکوع کی آخری  آیات میں یہ بھی تسلی دے دی گئی کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں زمین پہ بھیج کر میں تم کو اپنی ہدایت، رہنمائی اور اپنی ذات سے محروم کر دوں گا بلکہ تم تک میری رہنمائی پہنچتی رہے گی  اور جس نے میری ہدایت و رہنمائی کی پیروی کی اسے نہ تو گزرے وقت اور زندگی  کا کوئی غم یا افسوس ہو گا اور نہ ہی اسے میرے حضور پیش ہونے کا اور آخرت کا کوئی خوف ہو گا اور جنہوں  نے انکار کیا اور ان  کا انکار انہیں  تکذیب تک لے گیا تو ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہو گی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

سابقہ رکوع کی آخری آیتِ کریمہ میں جن لوگوں کا ذکر ہوا  اس  رکوع کی ابتدا میں انہوں  لوگوں میں سے ایک گروہ کو مخاطب کیا گیا۔ فرمایا یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو ۔

اسرائیل،  یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم ؑ کا لقب تھا۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے اللہ کا بندہ، عبد اللہ۔ اس لقب کی وجہ سے اولادِ یعقوب کو بنی اسرائیل کہ کر مخاطب کیا گیا۔ انہیں دورِ حاضر میں یہود یا یہودی کہا جاتا ہے۔

اولادِ یعقوب پہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات فرمائے۔ سب سے زیادہ انبیاء اس قوم کے پاس بھیجے، انہیں فرعون جیسے ظالم سے نجات دلائی، ان کے من و سلویٰ اتارا گیا، وہ جہاں جاتے بادل ان پہ سایہ کیے رکھتے، ان کیلئے پانیوں سے راستہ نکالا، اولادِ یعقوب ؑ کے بارہ قبائل کے لئے بارہ چشمے جارے فرمائے، گویا یہ تمام قوموں میں سے سب سے زیادہ لاڈلی قوم تھی۔ اس آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب ؑ کو وہ نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں۔ ان انعامات کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں نے تم پہ اتنے انعامت کیے، تمہیں لاڈلی قوم کے طور پہ رکھا تو تم اپنا وعدہ پورا کرو اور جزا کے طور پہ میں تم سے کیا وعدہ پورا کروں گا ۔ ان کا وعدہ کیا تھا کہ ہم  تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے، تیرا حکم بجا لائیں گے اور جس نبی آخرالزماں ﷺ کی  بشارتیں اور نشانیاں تورات میں بیان ہوئی ہیں  ا پہ ایمان لائیں گے  بلکہ صرف آپ ﷺ کی ہی نہیں  آپ ﷺ کے اصحاب کی بھی نشانیاں سابقہ کتب میں بیان ہوئیں ۔ اسی لئے تو بیت المقدس کی فتح کے موقع پہ یہ شرط رکھی گئی کہ امیر المومنین ہمارے سامنےآئیں تو ہم بیت المقدس بغیر جنگ کے حوالے کر دیں گے، اور جب یہ مان لیا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو علماء یہود نے آپ کو پہچان لیا  اور بیت المقدس بغیر جنگ کیے حوالے کر دیا ۔

تو فرمایا: وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ

 جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو  میں نے کجو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا۔

اللہ کا وعدہ کیا ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے گا  اسے نہ صرف دنیا میں عزت و عظمت سے نوازے گا  بلکہ آخرت میں بھی جنت کا حقدار ہو گا۔

اور  فرمایا وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو

یہود چونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کو ، نیک لوگوں کو راہب کہتے تھے تو وہی لفظ یہاں استعمال فرمایا گیا ۔ یعنی تم جو اپنے اندر اپنی قوم کا ، اپنے قبیلے کا  ، لوگوں کا اور اپنے نفع و نقصان کا خوف اور ڈر بٹھائے بیٹھے ہو ، اس کو نکالو اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو تاکہ تم اپنے وعدے کا پاس رکھ سکو اور اپنے وعدے کو پورا کر سکو۔

اس آیتِ کریمہ میں شانِ نزول کے اعتبار سے یہودِ مدینہ کو مخاطب فرمایا جا رہا ہے ، جو  انبیاء سابقہ کی تعلیمات، تورات و زبور کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اور اللہ تبارک وتعالی سے کیے گئے وعدے کو بھلا کر نبی کریم ﷺ کی نبوت کا نکار کرتے رہے، لیکن عمومی طور پہ یہ حکم سب کے لیے  اور قرآن کے مخاطبین کسی خاص زمانے کے کوئی خاص لوگ نہیں بلکہ قرآن قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رہنمائی  اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ غور کرنے پہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارا حال بھی کچھ خاص مختلف نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پہ اتنا بڑا انعام فرمایا کہ ہمیں امتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا، شریعتِ مطہرہ نصیب فرمائی، قرآن ِ کریم جیسی عظیم کتاب سے نوازا، پھر پوری زندگی میں ہم پہ ہزاروں قسم کے انعامات فرما رہا ہے اور ہم  زبان سے کلمہ حق کا اقرار کرنے کے  باوجود ،اللہ اور اس کے رسول ﷺ پہ ایمان لانے کے باوجود، آخرت ، موت اور قبر کا علم رکھنے کے باوجود اللہ تعالی ٰ کے احکامات سے روگردانی کیے بیٹھے ہیں ، شریعتِ مطہرہ پہ چلنے کے بجائے خود کو رسومات و رواجات میں پھنسا رکھا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ یعنی ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکیں گے اور زندگی محمد الرسول اللہ ﷺ کی سنت اور طریق پہ گزاریں گے۔ اس وعدے کو بھلائے بیٹھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے بجائے ناک کٹ جانے کا ڈر، لوگ کیا کہیں گے، برادری ناراض ہو جائے گی، شان میں فرق و کمی آجائے گی، دوست و احباب اور رفقاء برا منا جائیں گے۔ اس طرح کے بے شمار ڈر اور خوف دل میں بٹھائے بیٹھے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کرتے اور غیر شرعی رواجات و بدعات کی پابندی کرتے ہیں کہ برادری ناراض نہ ہو جائے، کہیں ناک نہ کٹ جائے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ایسی ناک جو محمد الرسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے کٹتی ہے  اس کا کٹ جانا ہی بہتر ہے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 38،39 - ہدایت قبول کرنے والوں کیلئے دو انعامات اور انکار کرنے والوں کا انجام - انکار و تکذیب میں فرق

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(38)وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)39(

ہم  نے فرمایا تم سب یہاں سے نیچے چلے جاؤ پھر جب تمہارے پاس میری طرف سے راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو ان کو کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ افسوس کریں گے(38) اور جنہوں نے ہماری آیات کا نکار کیا اور جھٹلایا وہ دوزخ میں رہنے والے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(39)

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے زمین پہ بھیجا جانا پہلے بھی بیان ہوا یہاں اس کی دوبارہ تکرار آئی ۔تکرار یعنی دوبارہ فرمایا جانا اِهْبِطُوا کیوجہ یہ ہے  کہ سابقہ آیات میں جب فرمایا گیا اِهْبِطُوا تو فرمایا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہو  جبکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم سب یہاں سے چلے جاؤ پھر جب تمہارے پاس میری طرف سے راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو ان کو کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ افسوس کریں گے۔

یعنی سابقہ آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پہ اترنے کے بعد شر کا بیان ہوا دشمنی کا ذکر تھا جو نسلِ بنی آدم ؑ میں موجود ہے یعنی کچھ کچھ کے دشمن ہیں جس کی ابتدا آدم ؑ کی اولاد سے ہی شروع ہو گئی اور قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا  جبکہ اس آیتِ کریمہ میں خیر کا معاملہ بیان ہو اہے  کہ تمہارے زمین پہ جانے کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے تم شیطان کے ہاتھوں میں نہیں ہو گے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہاری طرف ہدایت بھیجے گا ، تمہارے پاس اس کے انبیاء آئیں گے ، تمہاری راہنمائی کیلئے الہامی کتابیں ہوں گی۔ تو جو کوئی انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے ، میری بھیجی گئی راہنمائی کو قبول کرے گا ، اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے گا  تو اس پہ دو قسم کے انعامات ہوں گے ، اسے نہ تو ڈر ہو گا اور نہ ہی پشیمانی و افسوس۔

ڈر ہوتا ہے مستقبل کا ، آئندہ پیش آنے والے حالات کا اگلی زندگی کا  جبکہ افسوس ہوتا ہے ماضی کا ، سابقہ گزرے معاملات کا، پچھلی زندگی جو گزاری جا چکی ہو اس کا ۔ ان کی آنے والی زندگی جنت کی صورت میں ہو گی انہیں کسی باز پرس ،کسی سختی  اور کسی عذاب کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میری فرمانبرداری میں ، میری بھیجی گئی راہنمائی کے مطابق گزاری ہو گی ، تو جب انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میرے احکامات کے تحت گزاری ہو گی  تو انہیں اپنی اس گزری زندگی کا کوئی افسوس نہیں ہو گا ، گزرے لمحات پہ کوئی پشیمانی یا شرمندگی نہیں ہو گی۔

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے زمین پہ آنے کے معاملے کو اکثر کم علم گستاخانہ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ شاید نعوذباللہ آدم علیہ السلام جنت سے رسوا کر کے نکالے گئے تھے۔اس پہ مرزا غالب کا شعر بھی ہے۔

نکلنا  خلد  سے  آدم  کا  سنتے آئے  تھے  لیکن

بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیک شاید یہ بے آبرو ہو کر نکلنا تھا، لیکن ایسی بات نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نے جب کہاکہ ہم من و سلویٰ کھاتے کھاتے تھک چکے ہیں، ہمیں کوئی دال ،پیاز، تھوم وغیرہ ملے تو فرمایا: اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْؕ کسی شہر میں اترو وہاں یہ چیزیں تمہیں مل جائیں گی پہلے تو جنگل میں تھے حکم ہوا اِهْبِطُوْا مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ اب  اِهْبِطُوْا  سے یہ مراد لینا کہ کسی کو رسوا کر کے نکال دیا گیا ہے ، صریحاً غلط ہے۔ یہ ایسے ہی کہ کسی کو کہا جائے کہ آپ یہاں کیوں پانی ڈھونڈ رہے ہیں یہاں تو مشکل ہے اس گاؤں میں چلے جاؤ وہاں مل جائے گا۔ اب اس میں ایسی کونسی توہین آمیز بات آگئی، قرآن نے خود استعمال فرمایا  اِهْبِطُوْا مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ لہٰذا یہ تصور کہ آدم ؑ کو بڑا رسوا کر کے نکالا گیا ، سراسر ظلم ، زیادتی اور جہالت ہے۔

ہاں یہ فرمایا گیا کہ ا ب یہاں آپؑ کا قیام مکمل ہو چکا ، یہاں آپؑ کو یہی دیکھنا تھاکہ کیسے رہنا ہے؟کیسے کھانا پینا ہے؟ اور کس طرح شیطان سے بچنا ہے ؟ یہ دھوکے کس طرح دے گا؟ یہ سارا تجربہ مکمل ہو چکا ، اب آپؑ زمین پہ تشریف لے جائیں جو آپؑ کے رہنے کہ جگہ ہے  اور وہاں نیابتِ الٰہی کا حق ادا کریں ، میرے  احکامات کو نافذ کریں  اس کے بعد پھر آپ ؑ کو میرے پاس ہی آنا ہے ۔ ہاں میں آپؑ  اور آپ ؑ کی نسل کو محروم نہیں رکھوں گا ، میری طرف سے آپ کے پاس مسلسل ہدایات آتی رہیں گی۔

یہاں ایک اور نکتہ قابلِ غور اور سمجھنے والا ہے کہ ظاہراً تو  معاملہ آدم ؑ کا بیان ہو رہا ہے لیکن مخاطبین تمام بنی نوعِ انسان یعنی قیامت تک آنے والے افراد ہیں  شاید اسی لئے فرمایا: قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا تم سب یہاں سے چلے جاؤ۔

 یہ نہیں فرمایا کہ آدمؑ!   آپؑ اور آپؑ کی زوجہ محترمہ دونوں بلکہ فرمایا جَمِيعًا سب۔ یعنی تمہارے آنے والی نسلیں بھی اب زمین پر ہی رہیں گی اور دارِ دنیا ہی ان کا امتحان گاہ ہو گا۔ جہاں میں ان کیلئے انبیاء و رسل اور الہامی کتابوں کی صورت میں راہنمائی بھیجوں گا تو جس نے اسے قبول کیا وہ نہ تو مستقبل کے معاملات سے ڈرے گا اور خوف کھائے گا اور نہ ہی اسے  گزری دنیاوی زندگی پہ کوئی افسوس و غم ہو گا  یعنی وہ فلاح یافتہ ہو گا ، کامیاب ہو چکا ہو گا، وہ بے خوف و خطر میرے حضور پیش ہو گا ، جہاں اسے میں جنت کی سی نعمت اور اپنا دیدار کراؤں گا  اور بیت ساری دیگر نعمتیں ہوں گی ، ابد الآباد کی زندگی ہو گی۔

اب دوسرے گروہ کا معاملہ بیان ہوا فرمایا گیا: وَالَّذِينَ كَفَرُوا جس نے انکار کیا کہ میں نہیں مانتا۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ  یہ میں نہیں مانتا ایسی بلا ہے کہ تکذیب تک لیجاتی ہے۔ انکار یہ ہے کہ بات تو درست ہے لیکن میں نہیں مانتا جبکہ تکذیب یہ ہے کہ یہ بات ہے ہی غلط، یہ بات ہی جھوٹی ہے۔ فرمایا کفر تکذیب تک لیجاتا ہے ۔

جس نے میری آیات کا نکار کیا ، ان کو تسلیم نہیں کیا ، ان پہ عمل نہیں کیا ، میرے احکامات سے روگردانی کی اور پھر اس کی یہ روگردانی اسے تکذیب تک لے گئی کہ وہ سرے سے اس بات کا نکاری ہو گیا  کہ نہ کوئی اللہ ہے، نہ کوئی اللہ کا حکم، نہ رسول، نہ کتاب ، نہ آخرت۔ میں نہیں مانتا  تو  أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ یہ لوگ دوزخ والے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو چن لیا  اور   هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ  وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

چونکہ انسان کی روح عالمِ امر میں سے ہے  اور عالمِ خلق کو فنا ہے جبکہ عالمِ امر کو فنا نہیں ہے، اسے ہمیشہ رہنا ہے ۔ تو جو جنت میں ہو گا اسے بھی ہمیشگی کی زندگی ملے گی اور جو جہنم میں ہو گا وہ بھی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

اللہ کرے کہ ہمارا قیام یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو ، بخیر و عافیت واپس جائیں  اور بخیر و خوبی اپنے گھر پہنچیں جو جنت ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی