اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ
بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
(ان لوگوں کے راستے پر جن
پر آپ نے انعام کیا۔سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پر آپ نے غضب کیا اور نہ گمراہوں
کی۔
سابقہ
آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم طلب کیا گیا اب اس آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک و
تعالیٰ کی ذات نے صراطِ مستقیم کی وضاحت فرما دی اور یہ نشاندہی فرما دی کہ صراطِ
مستقیم کونسا رستہ ہے۔نہ صرف یہ کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے والے بتلا دیے بلکہ جنہوں
نے صراطِ مستقیم سے رو گردانی کی ان کی
بھی نشاندہی فرما دی ۔
اس
آیتِ کریمہ میں تین گروہ بیان ہوئے : پہلا گروہ ان لوگوں کا جو صراطِ مستقیم پہ
چلے اور ان کی نشانی کیا ہے ؟ ان کی نشانی بتلائی گئی أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (جن پہ آپ نے انعام
فرمایا) باقی دو گروہ ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے صراطِ مستقیم سے روگردانی کی اور
وہ جس رستے پہ چلے تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ ان کی نشانی بیان ہوئی کہ وہ مغضوب اور ضالین
ٹھہرے۔
پہلا
گروہ انعام یافتہ لوگوں کا ہے جو صراطِ مستقیم پہ چلے اور اجر میں اللہ تبارک و
تعالیٰ نے ان پہ انعام فرمایا۔ یہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟
قرآنِ
کریم میں سورۃ النساء میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گروہ کی وضاحت فرما دی فرمایا: وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (68) وَمَنْ يُطِعِ
اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ
النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ
رَفِيقًا(69)
"اور
یقینا ہم انھیں سیدھے راستے پر چلاتے۔ اور جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو
یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور
صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ "
اس
آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم بھی بتلا دیا گیا
یعنی اللہ تعالیٰ اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت صراطِ مستقیم ہے اور
اس پہ اجر یہ ہو گا کہ انعام یافتہ لوگوں کا ساتھ نصیب ہو گا اور مزید یہ بھی بتلا
دیا کہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں ؟ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین انعام
یافتہ لوگ ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔
انعام
یافتہ لوگوں میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے جو حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوتا
ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ مکمل ہوتا ہے۔ پھر باقی
تینوں گروہ امتیوں کے ہیں۔جن میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء
کے ساتھیوں اور حواریوں کا ہے اور ان میں سب سے اعلیٰ مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام
کے صحابہ کا ہے۔ جن پہ جب دین حق پیش کیا
گیا تو انہوں نے نہ صرف دینِ حق کی گواہی دی بلکہ انبیاء کے ساتھی ٹھہرے اور اس کے
لئے ہر دکھ اور تکلیف برداشت کیا۔جان ہو یا مال ،اولاد ہو یا اہل وعیال حتیٰ کہ دین حق پہ گھر بار بھی چھوڑنا پڑا تو
چھوڑا، جان کی قربانی دینی پڑی تو وہ بھی
دی اور شہادت کے رتبے پہ فائز ہوئے۔ پھر شہدا ء
ہیں جو سب سے بڑی قربانی یعنی جان تک سے گزرے اور دینِ حق اسلام پہ قائم رہے اور
اسلام کی ترویج و تبلیغ کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اور صالحین جو ہر قسم کے
حالات میں خود کو صراطِ مستقیم پہ قائم رکھتے ہیں۔
پہلا
گروہ جو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ہے جس کر دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ ہمیشہ کےلئے بند ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے بعد کے تینوں گروہ
تاقیامت موجود رہیں گے۔ اور یہ صراطِ مستقیم والے لوگ ہوں گے ۔یعنی جو بھی قیامت
تک خود کو قرآن و سنت کا پابند رکھے گا ، دینِ حق پہ کاربند رہے گا ، اپنی زندگی شریعتِ
مطہرہ کے مطابق گزارے گا،خود کو سیرتِ
محمد الرسول اللہﷺ کے مطابق ڈھالے گا، اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ کے رستے پہ چلے گا وہ صراطِ مستقیم پہ ہو گا اور
اس کو انعام یہ ملے گا کہ وہ آخرت میں انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین کا ساتھی
ہو گا ۔
اسکے
بعد دوسرے دو قسم کے لوگ بھی بیان فرما دیئے کہ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پہ آپ
کا غضب ہو یا جو گمراہی کا شکا ر ہوئے۔ فرمایا گیا: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ
وَلَا الضَّالِّينَ ( سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پہ آپ کا غضب ہوا یا جو گمراہ ہوئے)
ان
دو قسم کے گروہوں یا لوگوں کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں ۔ایک اہم روایت جس
کو امام
احمدؒ نے اپنی مسند میں، امام ترمذیؒ نے سنن جبکہ ابنِ حبان ؒ نے عدی بن حاتم سے نقل کیا ہے کہ
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔
چونکہ
یہود نے ناحق انبیاء کا قتل کیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف بغاوت
والا رویہ اپنایا تو ان پہ اللہ تبارک و تعالی کا غضب نازل ہوا اور انہیں مختلف
قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ عیسائیوں کی معاملہ ان سے کچھ کم تھا ۔حضورﷺ کے
زمانہ مبارک میں بھی یہود اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے بنسبت عیسائیوں کے۔قبولِ
اسلام میں بھی بنسبت یہود کے عیسائیوں نے
سبقت کی۔ دورِ حاضر میں بھی یہود کی اسلام دشمنی عیسائیوں کے مقابلے میں شدید ہے۔
قرآن
کریم میں بہت سے مواقع پہ غضب کے معاملے
کا ذکر یہود کیلئے کیا گیا مثلاً سورۃالبقرہ آیت نمبر 25،سورۃ المائدہ آیت نمبر
60،78 اور 79۔
دورِ
حاضر کے مطابق ان تینوں گروہوں کی جو صورت
ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ پہلا گروہ انعام یافتہ لوگوں کا ہے اور
ان پہ سب سے بڑا انعام شریعتِ مطہرہ ہے۔کہ وہ دنیا کی زندگی اسلام کی تعلیمات
کے مطابق گزار رہے ہیں ۔ ترویج و اشاعتِ دین میں ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں۔تبلیغِ
دین اور تزکیہ نفس میں مشغول رہتے ہیں یعنی اللہ کے نیک بندے، اہل اللہ،
علماء،صلحاء،مجاہدین اسلام وغیرہ۔یہ نہ صرف دنیا میں ایمان کی صورت میں انعام یافتہ ہیں بلکہ آخرت میں
انہیں ان کے اعمال کا انعام جنت کی صورت
میں ملے گا۔
دوسرا
گروہ مغضوب لوگوں کا ہے جو واضح طور پہ
شریعتِ مطہرہ سے انکاری ہیں یعنی
کفار،یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام مذاہبِ باطلہ۔ ان پہ اس سے بڑا غضب کیا ہو گا کہ یہ دنیا میں دینِ
حق سے محروم ہیں اور آخرت میں ان کے لئے آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔
تیسرا
گروہ گمراہ لوگوں کا ہے جنہیں منزل
کا یا سِرے سے ادراک ہی نہیں یا پھر منزل
کا تو پتہ ہے لیکن راہ گم کر بیٹھے ہیں۔ صراطِ مستقیم کا یا تو علم ہی نہیں اور
اگر علم ہے تو عمل نہیں۔جانتے بوجھتے ہوئے بے عملی کا شکار ہیں۔یا پھر بدعات و خرافات اور شرکیہ رسومات میں خود
کو پھنسا رکھا ہے اور انہیں دین سمجھتے ہیں۔ غیر شرعی رواجات اور اپنی پسند و نا
پسند کو دین سمجھے بیٹھے ہیں۔
اس آخری آیت کریمہ میں یہ بات کھول کے بیان کر دی گئی کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے سے انعام یافتہ لوگوں میں شمار ہوا جا سکتا ہے جبکہ صراطِ مستقیم سے روگردانی کی صورت میں غضبِ الٰہی اور گمراہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی