تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ سوم - انفاق فی سبیل اللہ کا مطلب - ایمان لانا، عبادات کا قائم کرنا اور اللہ کے انعامات کو استعمال کرنا -

0 Comments

 


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ درس میں اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے کا بیان تھا۔ اس آیتِ کریمہ کے آخری حصے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.  اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

عام طور پہ اس آیتِ کریمہ سے جو مفہوم و مطلب سمجھا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے لیکن لغوی اعتبار سے بھی اور ظاہراً بھی اگر غور کیا تو سمجھ آئے گا کہ نہ صرف مال بلکہ تمام تر نعمتیں اولاد، جان، وقت، جسمانی اور دماغی استعداد، روحانی قوت، سب کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے۔ بندہ کسی بھی نعمت کا کلی طور پر اور ہمیشہ کیلئے مالک نہیں ہے اور یہی بات اس آیتِ کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے کہ جو ہم نے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو عطا کر رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

خرچ کرنا کیا ہے اور کیسے خرچ کیا جائے؟

جب بات مال کی ہو گی تو مال کو اللہ تبارک و تعالی کے احکامات کے تحت استعمال کرنا ، اہل و عیال پہ خرچ کرنا، اولاد کی تربیت و اصلاح پہ خرچ کرنا،نیکی کے کاموں پہ خرچ کرنا ، ترویج و تبلیغِ دین میں خرچ کرنا،زکوٰۃ و صدقات کا ادا کرنا، فقرا ء اور مساکین کی مدد کرنا ،مقروض و مسافر کی مدد کیلئے خرچ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

جان کو اور بدنی نعمتوں کو، فطرتی استعدادوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے استعمال کرنا،جسمانی قوتوں کو جہاد و عبادات میں استعمال کرنا۔

اولاد جو اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، اسے دینِ اسلام سکھانا،اولاد میں نیکی اور خیر کے کاموں کا ذوق و شوق پیدا کرنا اور برائی و بے حیائی کی آگاہی دینا اور ان کاموں سے بچنے کی رہنمائی کرنا۔

روحانی استعدادِ کو معرفتِ باری تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا۔ معرفتِ باری تعالیٰ نہ صرف خود حاصل کرنا بلکہ دوسروں تک پہنچانے کا سبب و ذریعہ بننا۔

اس مکمل آیتِ کریمہ پہ غور کرنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں تین باتٰیں بیان ہوہوئیں:

پہلی: يُؤْمِنُونَ دوسری: وَيُقِيمُونَ تیسری: يُنْفِقُونَ.

جو ایمان لاتے ہیں، جو قائم کرتے ہیں اور جو خرچ  کرتے ہیں۔

یعنی پہلا معاملہ قبول کرنا ہے ،زبان اور قلبی یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اور آپ کے احکامات کو قبول کرنا،صرف ظاہر نہیں بلکہ ان باطنی اور غیب کی چیزوں کو بھی دل وجان سے تسلیم کرنا جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں اور پھر ان احکامات و عبادات کو جیسے اس کا حکم ہو اور جو معیار اللہ کی ذات نے مقرر فرمایا ہے اس کے تحت بجا لانا۔ عبادات کو اس طرح ادا کرنا جیسا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور جس طرح محمد الرسول اللہ ﷺ نے کر کے بتلا دیا۔اور پھر جتنی بھی نعمتیں اللہ تبارک تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے گئے اور آپ ﷺ کے سکھائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال و خرچ کرنا۔ اور چونکہ سب کچھ ہی اللہ کی عطا ہے، سب کچھ ہی اس ذاتِ برحق کا انعام کردہ ہے۔ بندے کا ذاتی تو کچھ بھی نہیں سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کے پاس علم ہے تو اس احکامات ِ الٰہی کے تحت اور دین ِ حق کی سربلندی کے لئے پھیلانا نہ کہ دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لینا، کسی کی پاس جسمانی و بدنی قوتیں ہیں تو اسے اللہ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال کرنا، کسی کے پاس طاقت و اثر و رسوخ ہے تو اسے دنیا  کمانےکے بجائے اور لوگوں کی پریشانی کا سبب بننے کے بجائے ،لوگوں کے لئے آسانیوں کا سبب بننے  کیلئے استعمال کرنا۔

ان تینوں باتوں  کو حاصل کیے بغیر انسان متقی نہیں بن سکتا اور ان تینوں باتوں میں شیطان کے بعد جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے وہ انسان کا اپنا نفس ہے۔اور نفس انسانی بندے کو یہ تینوں کام نہیں کرنے دیتا  جب تک اس کا تزکیہ نہ کیا جائے یعنی یہ  تینوں کام بغیر تزکیہ نفس کے حاصل نہیں ہو سکتے۔تزکیہ نفس ہی واحد ذریعہ ہے جو بندہ مومن کو متقین کے درجے میں لے کے جاتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ دوم - نماز کو قائم کرنے سے کیا مراد ہے؟ معراج کا مفہوم و مطلب

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ درس میں اس آیتِ کریمہ کے پہلے حصے کی تفسیر و تشریح بیان ہوئی اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں ارشاد ہوتا ہے: وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ۔ اور نماز کو قائم  رکھتے ہیں۔ قرآن ِ کریم میں جہاں بھی نماز کا حکم آیا ہے وہاں پہ قائم کرنے کا حکم ہوا۔

نماز کو قائم کرنا کیا ہے؟

اس کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کا خیال رکھتے ہوئے وقتِ مقررہ پر بہترین اور احسن طریقے سے ادا کرنا اور جو سب سے اہم بات بیان کی جاتی ہے وہ ہے اخلاص۔

اخلاص کا کیا مفہوم و مطلب ہے اور نماز میں یہ اخلاص کیسے آئے گا؟

حدیثِ جبرئیل علیہ السلام میں جبریلِ امین نے عرض کی کہ مجھے احسان کے متعلق بتائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہو تو یہ یقین ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔

الفاظ دونوں حدیثوں کے مختلف ہیں لیکن مفہوم دونوں کا ایک جیسا ہے اور بیان یہ فرمایا جا رہا ہے کہ نماز بندہ مومن کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ معراج کے واقعہ کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ معراج آپﷺ کی اللہ سے ملاقات ہے۔ جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ۔(دو کمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کم) یعنی آمنے سامنے، بالمشافہ ملاقات، خالق اور مخلوق، محب اور محبوب ، اللہ جل شانہ اور محمد الرسول اللہ۔ جبکہ نماز کو مومن کی معراج کہا گیا  اور جب لفظ معراج کہا گیا تو یہ بھی اس کی مثل ملاقات ہونی چاہیے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ وہ حقیقی ملاقات تھی اور یہ کیفی ہو گی۔

اور ان احادیث میں معراج اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دیکھنے کے جو الفاظ بیان ہوئے ہیں ان سے مراد وہ اعلیٰ کیفیات ہیں کہ بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور جب کھڑا ہو تو اس کی یہ کیفیت ہو کہ بندہ مومن اللہ کے حضور حاضر ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے،تجلیاتِ باری تعالیٰ کا مشاہدہ کرے، تجلیاتِ باری تعالیٰ کی کیفیات کو محسوس کرے، انواراتِ باری تعالیٰ کو جذب کرے، اور اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھنے کی کیفیت و احساس نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور ہو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شریعتِ اسلامیہ میں نماز کے جو اصول و ضوابط بتائے  گئے یعنی نماز کی شرائط، نماز کے ارکان، فرائض و واجبات اور سنت طریقہ سے نماز ادا کرنے سے فرض تو ادا ہو جاتا ہےلیکن جب تک روحانی کیفیات نہ ہوں، روحانی تعلق جب  تک بندہ مومن کا خالق کی ذات سے قائم نہ ہو نماز ادا تو ہو جائے گی نماز قائم نہیں ہو گی۔نماز کے اثرات ونتائج جو معاشرے پر یا بندہ مومن کے کردار پہ مرتب ہونے چاہییں، وہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ اور جب یہ کیفیات حاصل نہ ہوں، جب کردار پہ اثرات مرتب نہ ہوں تو نماز کا جو مقصود ہے وہ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر دو یا چار رکعت کے دوران بندے کو ایک لمحے کے لیے بھی معیتِ باری تعالیٰ حاصل نہ ہو، ایک لمحے کے لئے بھی تعلق مع اللہ نہ بنے، ایک لمحے کیلئے بھی شرف ہم کلامی نصیب نہ ہو۔ تو پھر ہمیں اپنی نمازوں پہ غور کرنا چاہیے کیونکہ ایسی نمازیں جو صرف جسمانی ورزش، اٹھک بیٹھک یا رٹے رٹائے الفاظ کی ادائیگی تک محدود ہوں،  وہ کسی بھی صورت قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ نماز تو شرفِ ہم کلامی ہے جو بندہ مومن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں نماز قائم کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ اوّل - ایمان کیا ہے؟ کیا ہم مومنین ہیں؟ ایمان بالغیب کسے کہتے ہیں اور کیا تصوف وطریقت ایمان بالغیب کا جزو ہے؟

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ  آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ یہ لاریب کتاب قرآنِ کریم ہدایت ہے متقین کیلئے،اہلِ تقویٰ کیلئے مشعلِ راہ ہےتو اب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ تقویٰ کی نشانیاں بھی بیان فرما دیں خود ہی بیان فرما دیا کہ متقین کون ہیں، تقویٰ اختیار کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔پہلی صفت اور نشانی اہلِ تقویٰ کی جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی جا رہی ہے فرمایا:  الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ جو بن دیکھے قبول کرتے ہیں وہ جو ان دیکھی چیزوں کو مانتے ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں دو باتیں قابلِ غور ہیں ،پہلی بات: ایمان لانا، قبول کرنا ،ماننا،یقین کرنا  یہ کیا ہے؟

ائمہ تفسیر وحدیث  ایمان کی تفسیر و تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ"ایمان نام ہے اقرار بالسان و تصدیق بالقلب کا "

اقراربالسان تو عام فہم ہے یعنی زبان سے اقرار کرنا ، زبان سا ماننا اور قبول کرنا لیکن تصدیق بالقلب کیا ہے؟ اور اس کا کیسے پتہ چلے گا؟تصدیق بالقلب ہوتی ہے دل سے قبول کرنا، یقین قلب کا حاصل ہونا۔زبانی اقرار کا تو ظاہر اً پتہ چل جاتا ہے،دیکھنے سننے والے بھی گواہی دے دیتے ہیں کہ یہ بندہ اس بات کا اقراری ہے ، اس بات کو قبول کر رہا ہے۔لیکن دل کے اقرار کا کیسے پتہ چلے گا ؟ یقینِ قلبی کا کس طرح اظہار ہو گا؟ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ بندہ اس بات کو دل سے یقین کے ساتھ  قبول کر رہا ہے؟  اس معاملے کو یعنی یقینِ  قلبی کو علمائے کرام نے بہت واضح انداز میں بیان فرما دیا فرماتے ہیں کہ  دل سے قبول کرنے کا پتہ عمل سے چلے گا یعنی اگر کوئی دل سے قبول کرتا ہے یقینِ قلبی بھی اس کو حاصل ہے تو اس کا عمل اس بات کی گواہی دے رہا ہوتا ہے، وہ اس بات پہ عمل بھی کرتا ہے۔یہ ممکن نہیں کہ کوئی دل سے قبول کرے اور عمل نہ کرے۔ عمل سے روگردانی ممکن ہی نہیں ہوتی۔

یہاں پہ  ایک انتہائی اہم ،سخت اور خطرناک کیفیت کا ذکر بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی زبان سے اقرار کرتا ہے اور عمل نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دل سے ،یقینِ قلبی کے ساتھ اس بات کو قبول نہیں کرتا۔ زبان سے اقرار اور دل میں یقین قلبی کا نہ ہونا یعنی عمل کا قول کو ثابت نہ کرنا، یا عمل صرف دکھاوے کے لئے ہونا یہ نفاق کی علامات میں سے ہے اور منافقین کی صفات میں سے ہے۔ جیسے آج کل کے دور میں کوئی بھی مسلمان ایسا تو نہیں ملے گا جو نماز کی فرضیت و اہمیت سے انکاری ہو یا دوسرے بنیادی ارکانِ دین کا زبانی طور پہ انکار کرے لیکن عملا ً اکثریت ایسے لوگوں کی ملے گی جو عملاً بے نمازی ہیں، جو  زکوۃ کی فرضیت مانتے تو ہیں اگر ادا نہیں کرتے اور استطاعت و توفیق ہونے کے باوجود حج کا فریضہ ادا نہیں کرتے یا پھر انکی نمازیں ، انکے صدقات  و خیرات ، ان کا حج و عمرہ محض دکھاوے کیلئے ہوتا ہے۔ کیونکہ نما ز کا جو معیار و نتیجہ قرآن نے بتلایا ہے کہ نماز برائی و بے حیائی سے روکتی ہے لیکن معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ملتی ہے جو نمازیں تو ادا کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے کردار سے نماز کے نتائج کا اظہار نہیں ہو رہا ہوتا۔ معاشرے میں برائی و بے حیائی اسی طرح عام ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ نماز میں یہ خاصیت نہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ ہمارے نمازوں کا ہے ۔ ہماری نمازوں میں وہ خشوع و خضوع نہیں، ہمارہ نمازوں میں وہ اثر وہ طاقت نہیں کہ ہماری نمازیں ہمیں برائی و بے حیائی سے روکیں اور یہ معاملہ انتہائی غور طلب ہے ہمیں اپنی نمازوں پہ ، اپنی عبادات پہ،اپنی دعاؤں پہ غور و فکر کرنی چاہیئے۔

دوسری بات اس آیتِ کریمہ انتہائی اہمیت کہ حامل ہے وہ ہے کہ  جو ایمان لاتے ہیں جو قبول کرتے ہیں جو مانتے ہیں کس بات کو مانتے ہیں کس بات پہ ایمان لاتے ہیں فرمایا : بِالْغَيْبِ یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں غیب کو قبول کرتے ہیں غیب کو ان دیکھی چیزوں کو مانتے  ہیں۔

غیب کیا ہے؟ غیب جو سامنے نہ ہو ،جس کو مادی آنکھ سے نہ دیکھا جا سکے، جس کو مادی ذرائع سے ثابت نہ کیا جاسکے۔ سب سے بڑا غیب تو خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے، پھر ملائکہ،عالمِ ارواح، جنت و دوزخ،محشر ،برزخ   ۔بلکہ دیکھا جائے تو ہمارے لئے تو تمام سابقہ انبیاء، آپﷺ کی ذاتِ اقدس، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، قرآن و حدیث سب غیب ہیں۔ ہمارا ایمان،ہمارا اسلام، ہمارا دین تو ہے ہی بن دیکھے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو براہِ راست بارگاہِ نبوت سے فیضیاب ہو رہے تھے، نزول قرآن کی کیفیت کے چشم دید گواہ تھے، صاحبِ شریعتِ مطہرہ ﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے، وجودِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ ان کے سامنے تھا لیکن ہم تک تو روایت در روایت، نسل در نسل یہ دین پہنچا اور ہم نے بن دیکھے قبول کیا۔

علمائے کرام نے بنیادی طور پر دینِ اسلام کی  دو شاخیں بیان فرمائی ہیں پہلی علومِ ظاہریہ  یعنی تعلیماتِ نبوت اور دوسری علومِ باطنیہ یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت۔

 علومِ ظاہری یعنی تعلیماتِ نبوت قرآن و حدیث کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں ۔جن کی تعلیم و تربیت کے لئے علمائے ظواہر کی کثیر تعداد آپﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک اور قیامت تک موجود رہے گی۔

دوسری شاخ ،دین کا دوسرا بنیادی جزو علومِ باطنیہ ہے یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت جسے تصوف و طریقت، سلوک، کیفیاتِ قلبی کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ کیفیات دلوں سے دلوں کو منتقل ہوتی ہیں اور اس علم کے ماہرین صوفیاء کرام کہلاتے ہیں۔کیفیات ظاہری وجود نہیں رکھتیں ۔یہ کیفی معاملہ ہوتا ہے محسوس کی جا سکتی ہیں دکھائی و سمجھائی نہیں جا سکتیں۔انہیں سمجھنا ہو تو خود انہیں حاصل کر کے سمجھا جا سکتا ہے کوئی مادی ذریعہ کیفیاتِ محمد الرسول اللہ نہیں سمجھا سکتا اور ان کا منبع و مآخذ قلبِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہے اور ان کے حصول کا ذریعہ مشائخِ طریقت، اولیاءِ کرام ، صوفیاء  ہوتے ہیں۔ جو علمائے شریعت کی طرح ہر زمانے میں موجود رہے اور تا قیامت موجود رہیں گے۔

جہاں تک میں جانتا ہوں یہ دونوں علوم کسی بھی زمانے میں جدا نہیں ہوئے۔تصوف و طریقت ،علومِ شریعت کے بغیر ممکن نہیں اور علومِ شریعت، کیفیات ِ قلبی یعنی تصوف و طریقت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر تصوف و طریقت، علوم شریعت سے جدا کر دیا جائے تو گمراہی کے سوا کچھ نہیں رہتا  اور اگر علومِ شریعت ، تصوف وطریقت سے جدا ہوں تو ظاہری عبادات تو ہوتی ہیں لیکن اخلاص،ورع و تقویٰ، خشوع و خضوع،یقینِ قلبی  حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور چودہ سو سال کے زمانے میں میرے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں ،علمائے دین ، بزرگانِ دین ،اہل اللہ ، صوفیاء کرام میں سے جن میں یہ دونوں علوم جمع نہ ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بظاہر کسی کی شہرت علم تفسیر ہو،کسی کی شہرت کی وجہ علمِ حدیث ہو ،کوئی مؤرخ ہوا،کسی کو فقہ  میں مہارت حاصل تھی اور یہ علم اس کی وجہ شہرت بن گیا، کسی میں سپہ گری کا فن تھا اور وہ جرنیل ہوا لیکن کوئی بھی ہستی ان چودہ صدیوں میں ایسی نہیں گزری جو غیر صوفی ہو ،جو تصوف و سلوک کی راہ پہ چلنے والا نہ ہو جسےعلوم ِ طریقت حاصل نہ ہوں،جس نے کسی بزرگ کی صحبت میں رہ کر تزکیہ نفس نہ کیا ہو۔

کیونکہ ارشاد فرمایا گیا: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ جو غیب پہ ایمان لاتے ہیں

غیب پہ ایمان و یقین، بجز کیفیاتِ قلبی اور  برکاتِ نبوتﷺ کے حاصل نہیں ہو سکتا۔

دور حاضر میں اگر دیکھا جائے تو ہمارا ایمان بالغیب نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ دورِ حاضر میں جو کیفیاتِ محمد الرسول اللہ ﷺ یعنی تصوف و طریقت کا شعبہ تھا اس میں ایک طرف تو ہمیں ان شعبدہ بازوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہوں نے تصوف و طریقت کو ذاتی فائدے اور پیسے کمانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ان جاہلوں نے جھاڑ پھونک اور تعویذ دھاگے کو تصوف و طریقت کا نام دے رکھا ہے اور نہ صرف خود ان علوم سے بے بہرہ ہیں بلکہ بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بھی ہیں۔

دوسری طرف ان ہی کی ان شعبدہ بازیوں کی وجہ سے ایک گروہ وہ بن گیا جو سرے سے ان علوم کا ہی منکر ٹھہرا۔ اور ان شعبدہ بازوں کو آڑ اور دلیل بنا کر تصوف و سلوک کو جاہلیت و بدعت قرار دیا۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نقل ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جس کی اصل کا وجود ہوتا ہے۔ تو اگر جاہلی پیر اور صوفی موجود ہیں تو ضرور اس کی اصل بھی ہو گی اب یہ بندے پہ منحصر ہے کہ وہ تلاش کرتا ہے یا نہیں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ نقل موجود ہو اور اصل موجود نہ ہو۔

تاریخ اسلام میں جتنے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جو تصوف و سلوک کے سرے سے انکاری ہوئی  اور علمائے تصوف کے انکاری ہوئے اور ان کے خلاف دلیلیں گھڑیں تو وہ نہ صرف علومِ طریقت کے انکاری ہوئے بلکہ آہستہ آہستہ پھر وہ برزخ، جنت و دوزخ،عالم ارواح، ملائکہ کے بھی انکاری ہوئے جس سے وہ نہ صرف گمراہی کا شکار ہوئے بلکہ ان کا ایمان بھی جاتا رہا۔

تو یہ جو علومِ غیب ہیں ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی،ان کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا۔مشائخ طریقت بڑی خوبصورت بات فرماتے ہیں کہ شریعت ،اعتماد واعتبارِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا نام ہے اور تصوف و طریقت اعتمادِ اعتبارِ شیخ کا نام ہے۔

تصوف و سلوک کی سب سے بڑی دلیل انسان کا کردار ہوتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مرید کئی سال رہا بالآخر ایک دن کہنے لگا کہ حضرت میں واپس جا رہا ہوں تو انہوں نے پوچھا کہ میاں تم کیوں واپس جا رہے ہو تو اس نے کہا  کہ حضرت میں تصوف و سلوک سیکھنے آیا تھا لیکن میں نے آپ میں کوئی کرامت نہیں دیکھی اس لئے واپس جا رہا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے اتنے سالوں میں مجھ میں کوئی خلافِ شریعت،خلافِ سنت بات دیکھی ہے ۔ اس نے غور وغوض کے بعد عرض کی کہ حضرت میں نے کبھی آپ میں کچھ بھی خلافِ سنت نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ پھر اس سے بڑی  کرامت کیا ہو گی۔ یعنی تصوف شعبدہ بازی یا کشف وکرامات کا نام نہیں بلکہ تصوف و سلوک کا مقصد ہی خود کو اتباعِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں لانا ہے،عبادات میں اخلاص پیدا کرنا ہے، تصوف علوم شریعت کے علاوہ کسی چیز کا نام نہیں بلکہ خود کو انہی علوم پہ کار بند رکھنے اور استقامت حاصل کرنے کا نام تصوف ہے۔حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ " نیت کا خالص ہونا تصوف کی ابتدا ء ہے اور عمل کا خالص ہونا تصوف کی انتہا ء ہے۔"

دورِ حاضر میں جو عام روش چل نکلی ہے کہ ہر چیز کی دلیل  اور ثبوت مانگا جاتا ہے تو میں عرض کرتا چلا کہ ایمان بالغیب  ہوتا ہی بغیر دلیل کے ہے اگرمادی  دلیل ہوتی تو پھر بالغیب تو نہ ہوتا۔ایمان بالغیب کی صرف ایک ہی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے محمد الرسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے قرآن و حدیث کی صورت میں بتلا دیا  اب ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں ،ہم محسوس کریں یا نہ کریں ،ہمارا اس پہ یقین و ایمان ہونا چاہیئے۔اس کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 2 - لاریب کتاب سے مراد - تقویٰ کا مفہوم و مطلب

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

حروفِ مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ یہ خاص کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔

یہاں پہ جو ذٰلِکَ  لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارے میں مفسریں کی مختلف رائے ملتی ہیں۔ ایک گروہ کی اس بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ ذٰلِکَ لفظ چونکہ دور کیلئے اسمِ اشارہ ہے تو یہ قرآن میں اور بھی کئی جگہ اسی اسلوب کے تحت اسمِ اشارہ استعمال ہوا ہے اور یہاں پہ  بھی ذٰلِکَ لفظ "ھٰذَا" یعنی   This کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں پہ ترجمہ کرتے وقت ذٰلِکَ کا ترجمہ "وہ کتاب" نہیں بلکہ"یہ کتاب" کریں گے۔ دوسرا قول جو اس بارے میں ہے وہ یہ ہے کہ یہاں "ھٰذَا" پوشیدہ ہے یعنی اصل جملہ اصل آیت کچھ اس طرح بنتی ہے کہ ھٰذَا ذٰلِكَ الْكِتٰبُ "یہ وہ کتاب ہے" اس سے مراد یہ ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا آپﷺ سے تورات و زبور میں وعدہ فرمایا گیا ، سابقہ انبیاء کی زبانی اس کی بشارتیں دی گئیں کہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ذٰلِکَ کے حقیقی معنی جو دوری کی ہیں، وہ لیں تو وہ بھی بہت خوبصورت مطلب سمجھ میں آتا ہے یعنی " وہ کتاب" تو چونکہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں، انکی حیاتِ مطہرہ میں جب قرآنِ کریم کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت ابھی کتاب یعنی قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل میں موجود نہیں تھی ۔قرآنِ کریم کو کتابی شکل میں پہلی دفعہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اور پھر جو نسخہ آج ہمارے پاس ہے اسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جمع فرما کر باقاعدہ کتابی شکل میں تیار کرایا۔ اسی لئے اسے مصحفِ عثمانی بھی کہا جاتا ہے۔

تو اگر ہم ذٰلِکَ سے مراد اشارہ بعید لیں تو اس سے مراد یہ ہو گا کہ وہ کتاب جو لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے یا وہ کتاب جو ماہِ مبارک رمضان المبارک کی بابرکت رات شبِ قدر میں آسمانِ دنیا پہ اتاری گئی جو بعد میں وقتاً فوقتاً آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قلبِ اطہر پہ نازل ہوتی رہی یا ہم اس سے مراد یہ لیں کہ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں چونکہ قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل  میں مرتب نہیں تھا تو اس میں اشارہ ہے اس کتاب کی طرف جو مستقبل میں مرتب ہو گی تو اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔یعنی اس  آیت میں قرآن کریم کی گواہی دی جارہی ہے کہ جب یہ باقاعدہ کتابی صورت میں اصحابِ محمد الرسول اللہﷺ مرتب فرمائیں گےجیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے نسخے تیار کرا کے سلطنتِ اسلامیہ میں پھیلا دیئے۔ تو ان کے اس اقدام سے پہلے ہی فرما دیا گیا کہ وہ کتاب لاریب ہے ، اس میں شک وشبہ میں نہ پڑنا جیسا کہ بعض گمراہوں نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ یہ نسخہ مکمل نہیں۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ذٰلِکَ ان تینوں حالتوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے

پہلی: لوح ِ محفوظ والی کتابی حالت

دوسری:آسمان دنیا پہ نزول والی کتابی حالت

تیسری: آپﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جمع فرما کر کتابی شکل دی اور تب سے اب تک نسل در نسل مسلمانوں کے پاس حرف باحرف محفوظ چلا آرہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔

موجودہ دور میں چونکہ ہمارے پا س یہ کتابی شکل میں موجود ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس لفظ کا ترجمہ "یہ" زیادہ مناسب و موزوں ہےیعنی" یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"

پھر ارشاد فرمایا گیا : هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙۛ  ہدایت ہے متقین کےلئے

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم  اعوان رحمۃ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ هُدًى کا معنی عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ اگر اسے مختصر الفاظ میں سمونا ہو تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ  هُدًى کہلائے گا۔فسر ہو ، حضر ہو،خرید و فروخت ہو، دوستی ودشمنی ہو،معاشرتی مسائل ہوں، سیاسی ہوں ، ملکی ہوں ،قومی ہوں، کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ هُدًى کہلائے گا۔ فرمایا" یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے لیکن لِّلْمُتَّقِیْنَ اہلِ تقویٰ کیلئے۔ اب جیسے بارش برستی ہے، ہر ایک پہ برستی ہے، امیر ہو یا غریب ، خوبصورت جگہ ہو یا بد صورت۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ دامن اسی کا تر ہو گا جو بارش میں کھڑا ہو گا ۔ اگر کوئی خود کو الگ کر لیتا ہے کسی مکان میں روپوش ہو جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میرا دامن تو گیلا نہیں ہوا تو قصور بارش کا نہیں ہوگا، قصور اس آدمی کا ہو گا۔اسی طرح کتاب ہدایت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو اہلِ تقویٰ ہوں اور ہدایت کے خواہش مند ہوں۔  

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ تقویٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا ترجمہ اکثر احباب "ڈر" لکھتے ہیں۔ ڈر بے شمار قسم کے ہوتے ہیں۔ہم ایذاء پہنچانے والی چیزوں سے ڈرتے ہیں، چور سے بھی ڈرتے ہیں۔دشمن کا اور جان کا ڈر اور خطرہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں ان میں سے کوئی بھی  ڈر مراد نہیں، اور لفظ ڈر تقویٰ کے مفہوم کو ادا نہیں کر پاتا۔ تقویٰ ایک ایسا ڈر ہے جو کسی محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی ناراضگی کا ہوتا ہے۔ہم  والدین سے محبت کرتے ہیں تو کوئی کام کرنے سے پہلے یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کہیں والدِ گرامی ناراض تو نہیں ہوں گے۔اس لیے کہ ہمارے دل میں ان کا ایک مقام ہے،ایک عظمت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے خفا ہوں۔

تو تقویٰ نہ صرف گناہوں کو چھوڑنا بلکہ ایسے کاموں سے بھی اجتناب کرنا جو کہ مشکوک ہوں یعنی بذاتِ خود گناہ نہ ہوں لیکن گناہ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ تو ایسے تمام کاموں سے ایسی تمام چیزوں سے اجتناب کرنا تقویٰ کہلائے گا۔

ترمذی شریف اور ابنِ ماجہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندہ اس وقت تک متقین کے درجے میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں حرج نہیں اس ڈر سے کہ کہیں وہ حرج میں مبتلا نہ ہو جائے۔"

ایک روایت مین ہے  کہ حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تقویٰ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ  کبھی آپ کانٹے دار رستے پہ چلے ہیں؟ تو آپ  نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں۔ تو  انہوں نے پوچھا کہ آپ وہاں کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کپڑوں کو سمیٹ لیتا ہوں اور جسم کو بچاتا ہوں تو  حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ  یہی تقویٰ ہے۔

تو ان روایات سے یہ سمجھ آتا ہے کہ تقویٰ انتہائی احتیاط کا نام ہے۔ نہ صرف یہ کہ واضح گناہوں سے بچا جائے بلکہ ان چیزوں سےبھی بچا جائے جو کسی گناہ کا سبب بننے والی ہوں یا گناہوں کی طرف لے جانی والی ہوں۔

تقویٰ ایک ایسی کیفیت ہے کہ محبوب کی ناراضگی سے بچنے کیلئے ان کاموں سے بھی پرہیز  کہ جن میں شک ہو کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے میرا محبوب ناراض ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ یہ کام مجھے ایسے کام کی طرف لے جائیں جو میرے رب اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوں جو  روزِ محشر اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے سامنے  میرے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔ جیسے بے عمل اور بے نمازیوں کی صحبت سے اس نیت سے پرہیز کرنا کہ کہیں یہ میرے لئے بے عملی کا باعث نہ بن جائیں۔ بازاروں میں بغیر ضرورت کے نہ جانا کہ بازوں میں پائی جانے والی بے پردگی اور بے حیائی مجھے بھی گناہوں کی طرف نہ لے جائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 1 - حروفِ مقطعات کا مفہوم و مطلب

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ البقرہ کی ابتدا حروفِ مقطعات سے ہوتی ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الٓمّٓۚ(۱)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر کتاب میں ایک خاص راز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جو راز رکھا ہے وہ سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف یعنی حروفِ مقطعات ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر کتاب کے کچھ منتخبات ہوتے ہیں اور اس کتاب یعنی قرآنِ کریم کے منتخبات حروفِ تہجی یعنی حروفِ مقطعات ہیں۔

حروف مقطعات کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرمایا ہےاور یہ حروف قرآنِ کریم کے راز ہیں ۔ہمیں ان کے ظاہر پہ ایمان لانا چاہیے اور ان کے حقیقی معانی و مفاہیم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے چاہییں۔

دوسرا گروہ ان حروف کے معانی و مفاہیم بیان کرتا ہے جس میں حضرت عبداللہ بن عباس،محمد بن کعب ،حضرت سعید بن جبیر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور حضرت مجاہد  رحمتہ اللہ علیہ۔دورِ حاضر میں شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الفوزالکبیر کے آخری حصے میں حروفِ مقطعات پہ سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے۔ہماری اتنی اوقات نہیں کہ شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ جیسی عظیم ہستی پہ تنقید یا بحث کر سکیں۔

میں نے اپنے شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان مد ظلہ العالی سے شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی حروفِ مقطعات کی اس تفسیر و تشریح کے بارے  میں دریافت فرمایا تو حضرت نے شاہ صاحب کی تعریف بھی فرمائی اور فرمایا کہ چونکہ ہم مکلف نہیں ان حروف کی تفسیر و تشریح جاننے کےتو ہمیں ان حروف کے معاملے میں بحث میں نہیں پڑنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان کے ظاہر پہ ایمان لانے کے بعدان کی کسی بھی قسم کی تفسیر وتشریح سے اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں چونکہ قرآن ِ کریم میں ان حروف کی تفسیر و تشریح کے بارے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ میں ان کی تفسیر وتشریح بیان کی گئی ہے تو ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کی تفسیر و تشریح میں نہ پڑا جائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ - آیت نمبر 6،7 - انعام یافتہ، مغضوب اور ضالین سے کون لوگ مراد ہیں؟

0 Comments

 
اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ   (ان لوگوں کے راستے پر جن پر آپ نے انعام کیا۔سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پر آپ نے غضب کیا اور نہ گمراہوں کی۔

سابقہ آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم طلب کیا گیا اب اس آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات نے صراطِ مستقیم کی وضاحت فرما دی اور یہ نشاندہی فرما دی کہ صراطِ مستقیم کونسا رستہ ہے۔نہ صرف یہ کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے والے بتلا دیے بلکہ جنہوں نے  صراطِ مستقیم سے رو گردانی کی ان کی بھی نشاندہی فرما دی ۔

اس آیتِ کریمہ میں تین گروہ بیان ہوئے : پہلا گروہ ان لوگوں کا جو صراطِ مستقیم پہ چلے اور ان کی نشانی کیا ہے ؟ ان کی نشانی بتلائی گئی  أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (جن پہ آپ نے انعام فرمایا) باقی دو گروہ ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے صراطِ مستقیم سے روگردانی کی اور وہ جس رستے پہ چلے تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟  ان کی نشانی بیان ہوئی کہ وہ مغضوب اور ضالین ٹھہرے۔

پہلا گروہ انعام یافتہ لوگوں کا ہے جو صراطِ مستقیم پہ چلے اور اجر میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پہ انعام فرمایا۔ یہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟

قرآنِ کریم میں سورۃ النساء میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے  اس گروہ کی وضاحت فرما دی فرمایا: وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (68) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا(69)

"اور یقینا ہم انھیں سیدھے راستے پر چلاتے۔ اور جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ "

اس آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم بھی بتلا دیا گیا  یعنی اللہ تعالیٰ اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت صراطِ مستقیم ہے اور اس پہ اجر یہ ہو گا کہ انعام یافتہ لوگوں کا ساتھ نصیب ہو گا اور مزید یہ بھی بتلا دیا کہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں ؟ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین انعام یافتہ لوگ ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔

انعام یافتہ لوگوں میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے  جو حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوتا ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ مکمل ہوتا ہے۔ پھر باقی تینوں   گروہ امتیوں کے ہیں۔جن میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کے ساتھیوں اور حواریوں کا ہے اور ان میں سب سے اعلیٰ مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کا ہے۔ جن پہ جب دین  حق پیش کیا گیا تو انہوں نے نہ صرف دینِ حق کی گواہی دی بلکہ انبیاء کے ساتھی ٹھہرے اور اس کے لئے ہر دکھ اور تکلیف برداشت کیا۔جان ہو یا مال ،اولاد ہو یا اہل وعیال   حتیٰ کہ دین حق پہ گھر بار بھی چھوڑنا پڑا تو چھوڑا، جان کی قربانی دینی  پڑی تو وہ بھی دی اور شہادت کے رتبے پہ فائز ہوئے۔ پھر شہدا ء  ہیں جو سب سے بڑی قربانی یعنی جان تک سے گزرے اور دینِ حق اسلام پہ قائم رہے اور اسلام کی ترویج و تبلیغ کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اور صالحین جو ہر قسم کے حالات میں خود کو صراطِ مستقیم پہ قائم رکھتے ہیں۔

پہلا گروہ جو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ہے جس کر دروازہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ  ہمیشہ کےلئے  بند ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے بعد کے تینوں گروہ تاقیامت موجود رہیں گے۔ اور یہ صراطِ مستقیم والے لوگ ہوں گے ۔یعنی جو بھی قیامت تک خود کو قرآن و سنت کا پابند رکھے گا ،  دینِ حق پہ کاربند رہے گا ، اپنی زندگی شریعتِ مطہرہ کے مطابق گزارے گا،خود کو  سیرتِ محمد الرسول اللہﷺ کے مطابق ڈھالے گا، اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ  کے رستے پہ چلے گا وہ صراطِ مستقیم پہ ہو گا اور اس کو انعام یہ ملے گا کہ وہ آخرت میں انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین کا ساتھی ہو گا ۔

اسکے بعد دوسرے دو قسم کے لوگ بھی بیان فرما دیئے کہ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پہ آپ کا غضب ہو یا جو گمراہی کا شکا ر ہوئے۔ فرمایا گیا: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پہ آپ  کا غضب ہوا یا جو گمراہ ہوئے)

ان دو قسم کے گروہوں یا لوگوں کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں ۔ایک اہم روایت جس کو  امام  احمدؒ نے اپنی مسند میں، امام ترمذیؒ نے سنن جبکہ  ابنِ حبان ؒ نے عدی بن حاتم سے نقل کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔

چونکہ یہود نے ناحق انبیاء کا قتل کیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف بغاوت والا رویہ اپنایا تو ان پہ اللہ تبارک و تعالی کا غضب نازل ہوا اور انہیں مختلف قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ عیسائیوں کی معاملہ ان سے کچھ کم تھا ۔حضورﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی یہود اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے بنسبت عیسائیوں کے۔قبولِ اسلام میں بھی بنسبت  یہود کے عیسائیوں نے سبقت کی۔ دورِ حاضر میں بھی یہود کی اسلام دشمنی عیسائیوں کے مقابلے میں شدید ہے۔

قرآن کریم  میں بہت سے مواقع پہ غضب کے معاملے کا ذکر یہود کیلئے کیا گیا مثلاً سورۃالبقرہ آیت نمبر 25،سورۃ المائدہ آیت نمبر 60،78 اور 79۔

دورِ حاضر کے مطابق ان تینوں گروہوں  کی جو صورت ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ پہلا گروہ انعام یافتہ لوگوں کا   ہے اور ان پہ سب سے بڑا انعام شریعتِ مطہرہ ہے۔کہ وہ دنیا کی زندگی  اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزار رہے ہیں ۔ ترویج و اشاعتِ دین میں ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں۔تبلیغِ دین اور تزکیہ نفس میں مشغول رہتے ہیں یعنی اللہ کے نیک بندے، اہل اللہ، علماء،صلحاء،مجاہدین اسلام وغیرہ۔یہ نہ صرف دنیا میں ایمان کی صورت میں انعام یافتہ ہیں بلکہ آخرت میں انہیں ان کے اعمال کا انعام  جنت کی صورت میں ملے گا۔

دوسرا گروہ مغضوب لوگوں کا ہے  جو واضح طور پہ شریعتِ مطہرہ سے انکاری ہیں  یعنی کفار،یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام مذاہبِ باطلہ۔ ان پہ  اس سے بڑا غضب کیا ہو گا کہ یہ دنیا میں دینِ حق سے محروم ہیں اور آخرت میں ان کے لئے آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے اور  ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔

تیسرا گروہ گمراہ لوگوں کا ہے  جنہیں منزل کا  یا سِرے سے ادراک ہی نہیں یا پھر منزل کا تو پتہ ہے لیکن راہ گم کر بیٹھے ہیں۔ صراطِ مستقیم کا یا تو علم ہی نہیں اور اگر علم ہے تو عمل نہیں۔جانتے بوجھتے ہوئے بے عملی کا شکار ہیں۔یا  پھر بدعات و خرافات اور شرکیہ رسومات میں خود کو پھنسا رکھا ہے اور انہیں دین سمجھتے ہیں۔ غیر شرعی رواجات اور اپنی پسند و نا پسند کو دین سمجھے بیٹھے ہیں۔

اس آخری آیت کریمہ میں یہ بات کھول کے بیان کر دی گئی کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے سے انعام یافتہ لوگوں میں شمار ہوا جا سکتا ہے جبکہ صراطِ مستقیم سے روگردانی کی صورت میں غضبِ الٰہی اور گمراہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ - آیت نمبر 5 - ہدایت سے کیا مراد ہے اور کیا ہدایت انفرادی ہو سکتی ہے یا اجتماعی معاملہ ہے؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (  ہم کو سیدھے رستے پر چلائیے)

اس آیتِ کریمہ میں  دو اہم چیزیں سمجھنے والی ہیں پہلی بات جو سابقہ درس میں بھی عرض کی گئی   کہ اکثر مترجم حضرات نے ادب کے صیغے کو مدِ نظر نہیں رکھا اور اس کا ترجمہ فرمایا کہ ہم کو چلا،  ہم کو دکھا،  ہم کو بتلا۔ سب سے بہترین ترجمہ یہاں پہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا کہ : ہم کو سیدھے رستے پہ چلائیے۔ کیونکہ اردو میں ادب کے قرینے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں پہ بتلائیے،دکھائیے یا چلائیے کے الفاظ موزوں ہیں ۔

دوسری بات جو اکثر فروعی اختلافی مسائل اور مباحث کے طور پہ لی جاتی ہے وہ ہے اھدنا کا ترجمہ ۔اس کا ترجمہ کچھ حضرات نے ہم کو بتا،کچھ نے ہم کو چلا اور کچھ دیگر نے اس کا ترجمہ ہم کو دکھا کیا ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اردو  زبان میں اتنی وسعت اور جامعیت نہیں کہ عربی کا حق ادا کر سکے۔اسی وجہ سے کچھ عربی الفاظ کے لئے موزوں ترین لفظ موجود ہی نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح یہ لفظ بھی ہے۔اس کا مفہوم و مطلب ہمیں ترجمہ سے مکمل طور پہ سمجھ نہیں آ سکتا البتہ تفاسیر میں علمائے تفاسیر کی اکثریت نے اس لفظ کو انتہائی خوبصورتی سے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے۔ مجھ ناقص العقل کو جو مفہوم و مطلب اس لفظ کا  سمجھ آسکا  وہ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔ اس  عربی لفظ ہدایت کے تین درجے ہیں اور تینوں لازم و ملزوم ہیں:

پہلا درجہ ہے راستہ دکھانا،راستہ بتلانا ، اس کی طرف رہنمائی فرمانا، اس کا علم دینا۔

دوسرا درجہ ہے اس پر چلانا، اس پہ گامزن کرنا، اس پہ چلنے کی توفیق و ہمت سے نوازنا۔

تیسرا درجہ اور سب سے اہم درجہ ہے اس پہ قائم رکھنا، اس پہ استقامت دینا۔

یہ تینوں درجے اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس تینوں کے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ یعنی اگر رستہ کا پتہ نہیں ہو گا ، صراطِ مستقیم کا فہم و ادراک نہیں ہو گا تو چلیں گے کیسے اور چلنے کے بعد  اگر تادمِ آخر اس پہ قائم نہ رہ سکے اور صراطِ مستقیم پہ استقامت نصیب نہ ہوئی تو سب کچھ بے سود ہو گا۔ یعنی یہ ہدایت لفظ ان تینوں درجوں اور حصوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کفار اور گمراہوں کے لئے   ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم کا دکھانا یا بتلانا ہو گا جبکہ عام بے عمل مسلمانوں کے لئے اس سے مراد صراطِ مستقیم پہ چلنا جبکہ مومنین کے لئے ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم پہ استقامت ہو گا۔

سابقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کے بعد اس کی ربوبیت، رحمانیت ،رحیمیت اور یومِ جزا کے مالک ہونے کے اقرار کے بعد بندہ خود کو سب میں شامل کر کے عبودیت کی طرف لاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو معبودِ برحق مان کے عبادت کو صرف اس کے لئے خاص کرتا ہے پھر اس کے بعد اپنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اس سے مدد مانگتا ہے۔ اب اس آیتِ کریمہ سے اس کی مزید وضاحت ہو گئی کہ مدد کس چیز کی مانگی جا رہی تھی،طلب کیا کیا جا رہا ہے۔ یوں تو اس کی بہت ساری مجبوریاں تھیں،بہت ساری ضرورتیں تھیں ،بہت سی پریشانیاں اور خواہشیں تھیں لیکن جو سب سے قیمتی چیز ہے جو سب سے انمول بات تھی وہ تھی صراطِ مستقیم کی ۔ سو اس نے اپنی سب ضرورتوں ،خواہشوں،مجبوریوں اور پریشانیوں کو پسِ پشت ڈال کے اللہ سے صراطِ مستقیم طلب کیا۔کیونکہ باقی سب کچھ عارضی اور وقتی ہے دنیا کی زندگی ایک دن ختم ہو جانی ہے لیکن جو چیز ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے والی ہے وہ صراطِ مستقیم ہے ۔ یہ نہ صرف دنیا کی زندگی میں اس کے لئے باعثِ راحت وسکون ہو گا بلکہ قبر و حشر میں بھی اس کے لئے سکون اور اطمینان کا باعث بنے گا۔

صراطِ مستقیم کیا ہے ؟یہ کونسا رستہ ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک تعالیٰ نے بیان فرما دی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی