اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْٗ
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِنَ
النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ
بِمُؤْمِنِينَ[8] يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ
إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ[9] فِي
قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا
كَانُوا يَكْذِبُونَ[10]
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو
کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر
ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔
یہاں جو پہلی قابلِ غور
بات ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا وَمِنَ النَّاسِ یعنی
عام عوام، لوگ ۔کوئی تخصیص نہیں فرمائی کہ
یہود،نصاری، منافقین، کفار، مشرکین وغیرہ
کیونکہ جن لوگوں کا بیان ہو رہا ہے ان کی
تخصیص ہو ہی نہیں سکتی ان کی شناخت ہی یہ
ہے کہ ظاہراً کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا
یا تو ان کے دل کا حال اللہ جانتا ہے یا پھر انکے اعمال اس کی گواہی دیں گے
۔ پھر اس کے بعد کے الفاظ ہیں مَنْ يَقُولُ کہ
جو کہتے ہیں یعنی زبان سے اقرار کرتے ہیں،
زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ، زبان سے بڑے بڑے دعویٰ کرتے ہیں کیا کہتے ہیں آمَنَّا
بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ کہتے ہیں کہ ہم
اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وَمَا هُمْ
بِمُؤْمِنِينَ حالانکہ وہ مومن نہیں ۔کیوں مومن نہیں ؟ اس لئے کہ ان کا یہ دعویٰ صرف زبانی ہے ان کا دل اس بات کا قائل نہیں کیونکہ اگر ان کا
دل بھی اس بات کا قائل ہوتا تو ضرور یہ اس کے مطابق عمل بھی اختیار کرتے جبکہ ان
کے اعمال اس کے بر عکس ہیں۔
ا س آیت کا شان ِ نزول تو
بنیادی طور پہ منافقینِ مدینہ سے متعلق ہے
لیکن ہم اگر غور کریں تو دور حاضر میں یہ چیز عام دیکھنے کو ملتی ہے کہا جاتا ہے کہ ہمارا اللہ پہ بڑا یقین ہے اور آخرت بر حق ہے ضرور ایک دن موت آنی ہے ، قبر اور محشر کی
سختیوں کا بھی اقرار کیا جاتا ہے ، محبتِ
رسول ﷺ کے بلند و بانگ دعوے، محافل و مجالس اور جلوسوں پہ کروڑوں روپے خرچ کر دیئے
جاتے ہیں، مسجدوں کے احترام کی پرواہ کیے بغیر بڑے بڑے اسپیکر اور ساؤنڈ سسٹم لگا
کر محافل منعقد کی جاتی ہیں لیکن عملی
زندگی کو دیکھا جائے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کی ایک معمولی جھلک بھی دکھائی
نہیں دیتی، زندگی قرآن و سنت کے منافی گزاری جا رہی ہوتی ہے بلکہ جب تک زبان سے نہ
بتایا جائے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ بندہ مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا۔
آپﷺ
کا ارشادِ گرامی ہے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا:
من
تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قوم کی شباہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں سے ہے)
کتنا سخت حکم اور قابل فکر معاملہ بیان ہوا ہے
اس حدیث ِ مبارکہ میں، یعنی جو زبان سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس کی
شکل ، اس کی چال ڈھال، اس کا رہن سہن اور بود و باش، اس کا طرزِ زندگی مسلمانوں
جیسا نہیں بلکہ کسی اور قوم کے جیسا ہے تو وہ
مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ اس قوم میں سے ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال
ہمارے ہاں بر صغیر پاک و ہند میں ملتی ہے ۔کہ یہاں کے مسلمان مختلف قوموں کا
امتزاج ہیں ۔ شکل و لباس میں ہم انگریزوں(یہود و نصاری ) کی نقل کرنے کی کوشش کرتے
ہیں بلکہ جو اپنے روایتی اور قومی لباس کو
ترک کر کے انگریزی لبادے اوڑھتا ہے اسے جدت پسند اور ڈیسنٹ کہا جاتا ہے ۔ تہذیب
ہماری ساری کی ساری ہندوانہ ہے ، مذہبی تہواروں کو بھی ہندوانہ رنگ دے دیا گیا
ہے جس طرح ہندو مت میں ہولی و دیوالی
وغیرہ کے تہوار منائے جاتے ہیں اسی طرح ہم نے بھی تہوار ایجاد کر لئے حالانکہ
اسلام میں عیدین کے علاوہ کوئی تہوار سنتِ رسولﷺ اور خیر القرون سے ثابت نہیں،
بزرگانِ دین کے مزاروں پر طرح طرح کی ہندوانہ رسومات کی جاتی ہیں ،شادی بیاہ اور
فوتگی و غمی کی رسومات ساری کی ساری ہندوانہ ہیں اگر کوئی نہ کرنے کی بات کر ے تو کہا جاتا ہے کہ
اس سے ہماری ناک کٹ جائے گی۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کٹنے دو ایسی ناک کو
جو محمد رسول اللہ کی اطاعت کی وجہ سے کٹتی ہے ، ایسی ناک کا کٹ جانا ہی بہتر ہے۔
یہی
بات اس آیت ِ کریمہ میں بتائی جا رہی ہے کہ جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ
تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے کیونکہ اگر ایمان
رکھتے ہوتے تو ہر گز اللہ تبارک وتعالیٰ
کے احکامات کے خلاف نہ چلتے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے، سنتِ محمد الرسول
اللہﷺ کو نہ چھوڑتے، اگر اللہ جل جلالہ کے حضور روز ِ آخرت کو پیش ہونے کا یقین ہو
تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی جائے، کیسے
اس ذاتِ برحق کے احکامات سے روگردانی کی جائے۔ یہ سارا معاملہ اس وجہ سے ہے کہ یہ
صرف زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پہ یقین ہے حقیقت میں
انہیں یہ یقین حاصل نہیں اسی لئے فرمایا گیا : وماھم بمومنین یہ ایمان نہیں رکھتے،
پھر
ارشاد ہوتا ہے:
يُخٰدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا
يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
اللہ کو اور مومنوں کو
دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر(درحقیقت) وہ سوائےئ اپنے آُ کے کسی کو دھوکہ نہیں دے
رہے۔
یہ لوگ اپنے اس کردار سے
، اپنی اس نقالی سے سمجھتے ہیں کہ ہم ظاہراً مسلمان بن کر اللہ تعالیٰ کو اور مومنین
کو چکما دے لیں گے، تو اللہ تبارک وتعالی
فرماتے ہیں وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا
أَنْفُسَهُمْ یہ دھوکہ نہیں دے سکتے کسی کو سوائے
اپنے آپ کے، یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یہ اپنے لئے جہنم کا ایندھن اکٹھا کر
رہے ہیں ، یہ خود اس بہکاوے اور دھوکے میں
پڑے ہیں ۔فرمایا:
وَمَا يَشْعُرُونَ یہ شعور نہیں رکھتے، یہ
سوجھ بوجھ اور سمجھ نہیں رکھتے۔یہ کم فہمی اور کم عقلی کا شکار ہیں۔ اور اس
کی وجہ کیا ہے؟ یہ بات اگلی آیتِ کریمہ
میں بیان ہوئی فرمایا: فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ان
کے دلوں میں بیماری ہے۔ اور یہ بیماری نفاق ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ
سوجھ بوجھ کا تعلق، فہم کا معاملہ دلوں کے
ساتھ ہے اگر دل تندرست نہ ہوں ، دل بیمار
ہوں تو عقل و فہم بھی جاتا رہتا ہے جیسے حدیثِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے آپ ﷺ نے
فرمایا : "أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً
إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ
كُلُّهُ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ " .غور
سے سن لو بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو گا تو پورا بدن درست ہو گا
اور اگر اس میں بگاڑ آئے گا تو پورے بدن میں بگاڑ آئے گا غور سے سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے"
یعنی اگر دل صحت مند نہیں ،دلوں میں بگاڑ ہے،
دلوں کو نورِ ایمان نصیب نہیں، دل برکاتِ نبوتﷺ اور انواراتِ باری تعالیٰ سے محروم
ہیں تو یہ بیمار ہو جاتے ہیں اور جب دل
بیمار پڑ جائیں تو دینِ اسلام اطلاعات بن
کر رہ جاتا ہے، اخبار بن کر رہ جاتا ہے یہ
کبھی بھی ضابطہ حیات نہیں بنتا۔ اور پھر معاملہ یہاں تک خراب ہو جاتا ہے کہ ایک دن
میری ایک بندے سے ازدواجی زندگی پہ بات ہو
رہی تھی تو جیسے ہی میں نے اسلام کی بات کہ کہ
اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے تو موصوف کہنے لگے کہ تم مولوی لوگ ہر بات میں دین کو لے آتے ہو ۔
حالانکہ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی رہنمائی ہمیں قرآن و سنت ِ خیر الانامﷺ
میں نہ ملتی ہو۔ لیکن ہم نے اسلام کو مسجد تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ، مسجد سے
باہر نکلنے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ ہم زندگی ایسی گزاریں جیسی مجھے پسند ہے یا
جیسے میری مرضی ہے، جیسے مجھے اچھا لگتا ہے جبکہ اسلام صرف مسجد کے اندر کے
معاملات یعنی عبادات وغیرہ کا نام نہیں بلکہ ضابطہ حیات ہے ، زندگی کے ہر پہلو میں
، زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی فرما تا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ
ان لوگوں کی سزا کا بیان فرماتے ہیں اور
سزائیں بھی دو طرح کی ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ دنیوی سزا کیا ہے ؟ فرمایا فَزَادَهُمُ
اللَّهُ مَرَضًا اللہ
ان کی مرض کو اور بڑھا دیتا ہے یعنی دنیا
میں یہ جس بہکاوے میں اور دھوکے میں پڑ چکے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان پہ عذاب کی ایک
صورت یہ ہے کہ یہ گمان ،یہ دھوکہ ان پہ ایسے مسلط ہو جاتا ہے کہ یہ کبھی اس سے نکل
ہی نہیں سکتے ۔ اور پھر آخرت میں ان کی سزا کیا ہو گی ؟ فرمایا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ان کے لئے صرف عذاب نہیں
بلکہ دردناک عذاب ہو گا ، یہ سخت تکلیف میں ہوں گی اور اس کی وجہ کیا ہے ؟ فرمایا بِمَا
كَانُوا يَكْذِبُونَ یہ اس وجہ سے ہے جو یہ
جھوٹ بولتے تھے کہتے کچھ اور تھے اور کرتے
کچھ اور تھے ، زبان کا دعویٰ کچھ اور تھا اور عمل اس کے خلاف کرتے تھے وہ
کہتے تھے کہ ہم اللہ پہ ایمان رکھتے ہیں
اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم آخرت کو مانتے
ہیں لیکن انہیں یومِ حساب کا ذرا برابر
بھی خوف نہ تھا، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں لیکن آپﷺ کے اسوہ حسنہ اور سنتِ محمد الرسول
اللہ ﷺ کو نہیں اپناتے تھے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
