تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 8،9،10 - منافقین کی علامات - دورِ حاضر میں بکثرت پائی جانے والی علاماتِ منافقین - اللہ اور مومنین سے دھوکہ اور دلوں کی بیماری کا مطلب

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ[8] يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ[9] فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ[10]

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن  پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔

یہاں جو پہلی قابلِ غور بات ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا وَمِنَ النَّاسِ یعنی عام عوام، لوگ ۔کوئی تخصیص نہیں فرمائی  کہ یہود،نصاری، منافقین، کفار، مشرکین  وغیرہ کیونکہ جن لوگوں کا بیان ہو رہا ہے  ان کی تخصیص ہو ہی نہیں سکتی   ان کی شناخت ہی یہ ہے کہ ظاہراً کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا  یا تو ان کے دل کا حال اللہ جانتا ہے یا پھر انکے اعمال اس کی گواہی دیں گے ۔ پھر اس کے بعد کے الفاظ ہیں مَنْ يَقُولُ کہ جو کہتے ہیں یعنی زبان سے اقرار کرتے ہیں،  زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ، زبان سے بڑے بڑے دعویٰ کرتے ہیں  کیا کہتے ہیں آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں  وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ  حالانکہ وہ مومن نہیں ۔کیوں مومن نہیں  ؟ اس لئے کہ ان کا یہ دعویٰ صرف زبانی ہے  ان کا دل اس بات کا قائل نہیں کیونکہ اگر ان کا دل بھی اس بات کا قائل ہوتا تو ضرور یہ اس کے مطابق عمل بھی اختیار کرتے جبکہ ان کے اعمال اس کے بر عکس ہیں۔

ا س آیت کا شان ِ نزول تو بنیادی طور  پہ منافقینِ مدینہ سے متعلق ہے  لیکن ہم اگر غور  کریں تو دور حاضر میں  یہ چیز عام دیکھنے کو ملتی ہے  کہا جاتا   ہے کہ ہمارا اللہ پہ بڑا یقین ہے  اور آخرت بر حق ہے  ضرور ایک دن موت آنی ہے ، قبر اور محشر کی سختیوں کا بھی   اقرار کیا جاتا ہے ، محبتِ رسول ﷺ کے بلند و بانگ دعوے، محافل و مجالس اور جلوسوں پہ کروڑوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، مسجدوں کے احترام کی پرواہ کیے بغیر بڑے بڑے اسپیکر اور ساؤنڈ سسٹم لگا کر محافل منعقد کی جاتی ہیں  لیکن عملی زندگی کو دیکھا جائے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کی ایک معمولی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی، زندگی قرآن و سنت کے منافی گزاری جا رہی ہوتی ہے بلکہ جب تک زبان سے نہ بتایا جائے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ بندہ مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا۔

آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  فرمایا:

من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قوم کی شباہت اختیار کرتا ہے  وہ اسی میں سے ہے)

 کتنا سخت حکم اور قابل فکر معاملہ بیان ہوا ہے اس حدیث ِ مبارکہ میں، یعنی جو زبان سے تو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس کی شکل ، اس کی چال ڈھال، اس کا رہن سہن اور بود و باش، اس کا طرزِ زندگی مسلمانوں جیسا نہیں بلکہ کسی اور قوم کے جیسا ہے تو وہ  مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ اس قوم میں سے ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ہاں بر صغیر پاک و ہند میں ملتی ہے ۔کہ یہاں کے مسلمان مختلف قوموں کا امتزاج ہیں ۔ شکل و لباس میں ہم انگریزوں(یہود و نصاری ) کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ جو اپنے روایتی  اور قومی لباس کو ترک کر کے انگریزی لبادے اوڑھتا ہے اسے جدت پسند اور ڈیسنٹ کہا جاتا ہے ۔ تہذیب ہماری ساری کی ساری ہندوانہ ہے ، مذہبی تہواروں کو بھی ہندوانہ رنگ دے دیا گیا ہے  جس طرح ہندو مت میں ہولی و دیوالی وغیرہ کے تہوار منائے جاتے ہیں اسی طرح ہم نے بھی تہوار ایجاد کر لئے حالانکہ اسلام میں عیدین کے علاوہ کوئی تہوار سنتِ رسولﷺ اور خیر القرون سے ثابت نہیں، بزرگانِ دین کے مزاروں پر طرح طرح کی ہندوانہ رسومات کی جاتی ہیں ،شادی بیاہ اور فوتگی و غمی کی رسومات ساری کی ساری ہندوانہ ہیں  اگر کوئی نہ کرنے کی بات کر ے تو کہا جاتا ہے کہ اس سے ہماری ناک کٹ جائے گی۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا اکرم اعوان رحمتہ اللہ  علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کٹنے دو ایسی ناک کو جو محمد رسول اللہ کی اطاعت کی وجہ سے کٹتی ہے ، ایسی ناک کا کٹ جانا ہی بہتر ہے۔

یہی بات اس آیت ِ کریمہ میں بتائی جا رہی ہے کہ جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں  حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے کیونکہ اگر ایمان رکھتے ہوتے تو  ہر گز اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ چلتے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے، سنتِ محمد الرسول اللہﷺ کو نہ چھوڑتے، اگر اللہ جل جلالہ کے حضور روز ِ آخرت کو پیش ہونے کا یقین ہو  تو  کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی جائے، کیسے اس ذاتِ برحق کے احکامات سے روگردانی کی جائے۔ یہ سارا معاملہ اس وجہ سے ہے کہ یہ صرف زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پہ یقین ہے حقیقت میں انہیں یہ یقین حاصل نہیں اسی لئے فرمایا گیا : وماھم بمومنین یہ ایمان نہیں رکھتے،

پھر ارشاد ہوتا ہے:

 يُخٰدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اللہ کو اور مومنوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر(درحقیقت) وہ سوائےئ اپنے آُ کے کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے۔

یہ لوگ اپنے اس کردار سے ، اپنی اس نقالی سے سمجھتے ہیں کہ ہم  ظاہراً مسلمان بن کر اللہ تعالیٰ کو اور مومنین کو چکما دے لیں گے، تو اللہ تبارک وتعالی  فرماتے ہیں وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ یہ دھوکہ نہیں دے سکتے کسی کو سوائے اپنے آپ کے، یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یہ اپنے لئے جہنم کا ایندھن اکٹھا کر رہے ہیں ، یہ خود اس بہکاوے  اور دھوکے میں پڑے ہیں ۔فرمایا:  وَمَا يَشْعُرُونَ یہ شعور نہیں رکھتے، یہ سوجھ بوجھ اور سمجھ نہیں رکھتے۔یہ کم فہمی اور کم عقلی کا شکار ہیں۔ اور اس کی  وجہ کیا ہے؟ یہ بات اگلی آیتِ کریمہ میں بیان ہوئی فرمایا: فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ اور یہ بیماری نفاق ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ سوجھ بوجھ کا تعلق، فہم کا معاملہ  دلوں کے ساتھ ہے  اگر دل تندرست نہ ہوں ، دل بیمار ہوں تو عقل و فہم بھی جاتا رہتا ہے جیسے حدیثِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : "أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ " .غور سے سن لو بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو گا تو پورا بدن درست ہو گا اور اگر اس میں بگاڑ آئے گا تو پورے بدن میں بگاڑ آئے گا غور سے سن لو وہ  ٹکڑا آدمی کا دل ہے"  یعنی اگر دل صحت مند نہیں ،دلوں میں بگاڑ ہے، دلوں کو نورِ ایمان نصیب نہیں، دل برکاتِ نبوتﷺ اور انواراتِ باری تعالیٰ سے محروم ہیں تو یہ بیمار ہو جاتے ہیں  اور جب دل بیمار پڑ جائیں  تو دینِ اسلام اطلاعات بن کر رہ جاتا ہے، اخبار بن کر رہ جاتا ہے  یہ کبھی بھی ضابطہ حیات نہیں بنتا۔ اور پھر معاملہ یہاں تک خراب ہو جاتا ہے کہ ایک دن میری ایک بندے سے ازدواجی  زندگی پہ بات ہو رہی تھی تو جیسے ہی میں نے اسلام کی بات کہ کہ  اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے تو موصوف کہنے لگے  کہ تم مولوی لوگ ہر بات میں دین کو لے آتے ہو ۔ حالانکہ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی رہنمائی ہمیں قرآن و سنت ِ خیر الانامﷺ میں نہ ملتی ہو۔ لیکن ہم نے اسلام کو مسجد تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ، مسجد سے باہر نکلنے کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ ہم زندگی ایسی گزاریں جیسی مجھے پسند ہے یا جیسے میری مرضی ہے، جیسے مجھے اچھا لگتا ہے جبکہ اسلام صرف مسجد کے اندر کے معاملات یعنی عبادات وغیرہ کا نام نہیں بلکہ ضابطہ حیات ہے ، زندگی کے ہر پہلو میں ، زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی فرما تا ہے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں  کی سزا کا بیان فرماتے ہیں اور سزائیں بھی دو طرح کی ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ دنیوی سزا کیا ہے ؟ فرمایا   فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا  اللہ ان کی مرض کو اور بڑھا دیتا ہے  یعنی دنیا میں یہ جس بہکاوے میں اور دھوکے میں پڑ چکے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان پہ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ یہ گمان ،یہ دھوکہ ان پہ ایسے مسلط ہو جاتا ہے کہ یہ کبھی اس سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ اور پھر آخرت میں ان کی سزا کیا ہو گی ؟ فرمایا    وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ  ان کے لئے صرف عذاب نہیں بلکہ دردناک عذاب ہو گا ، یہ سخت تکلیف میں ہوں گی  اور اس کی وجہ کیا ہے ؟  فرمایا  بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ  یہ اس وجہ سے ہے جو یہ جھوٹ بولتے تھے کہتے کچھ اور تھے اور کرتے  کچھ اور تھے ، زبان کا دعویٰ کچھ اور تھا اور عمل اس کے خلاف کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ پہ ایمان رکھتے ہیں  اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم آخرت کو مانتے ہیں  لیکن انہیں یومِ حساب کا ذرا برابر بھی خوف نہ تھا، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں  لیکن آپﷺ کے اسوہ حسنہ اور سنتِ محمد الرسول اللہ ﷺ کو نہیں اپناتے تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیت کا خلاصہ و مقصد

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ البقرہ کی پہلی  بیس آیت انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ جن میں سے پہلی پانچ آیت مومنین سے متعلقہ ہیں اسے کے بعد کی دو آیات کفار کے بارے میں ہیں جبکہ اسکے بعد کی تیرہ آیات ( آیت نمبر 8 سے 20 تک ) منافقین کے بارے میں ہیں۔

ہمارا عمومی معاملہ یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف اس کے شانِ نزول کے اعتبار سے لیتے ہیں اور ہمارا یہ گمان ہے کہ شاید قرآن کے مخاطب اس زمانے کے لوگ ہی ہیں  یا پھر اس سے سابقہ زمانوں کے لوگوں کے احوال بیان ہوئے ہیں۔ بلاشبہ قرآن میں سابقہ قوموں کے احوال بھی بیان ہوئے اور قرآن کی براہِ راست مخاطب زمانہ نبوی ﷺ لے لوگ یعنی اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ ، مشرکینِ مکہ، منافقینِ مدینہ اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ لیکن قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہے  اور اس کا مخاطب ہمیشہ اس زمانے کا فرد ہو گا جیسے دورِ حاضر میں قرآن ہم سے مخاطب ہے، اس میں بیان کردہ احکام ، اوامر و نواہی، مختلف قسم کے لوگوں کی خصوصیات و صفات کو ہمارے لئے بیان کیا گیا ہے۔

جب ہم اس کو اس انداز سے سمجھیں گے کہ اس کا مخاطب میری ذات ہے ، اس کا مخاطب میں ہوں  تو یہ جو سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیات ہیں ، جن میں مومنین، کفار اور منافقیں کی صفات بیان کی گئی ہیں ، تو ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں  میں بھی ہوں ، آپ بھی ہیں بلکہ ہم سب ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں پائے جاتے ہیں، اور اگر خدا نخواستہ مومنین میں نہیں ہیں تو پھر لازمی طور پر ہمارا وجود کفار یا منافقین میں پایا جائے گا۔

انسان خود کو یا تو خود جانتا ہوتا ہے یا پھر اللہ تبارک وتعالی ٰ کی علیم و خبیر ذات۔اگر ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور اپنے ایمان و اعتقاد اور اعمال و عقائد کو ان بیس آیات پہ پرکھیں تو میں سمجھتا ہوں بڑی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے ۔

لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم دوسروں پہ تو بڑے شوق سے تنقید کر رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو تو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں  لیکن خود کی اصلاح نہیں کرتے۔ اپنی ذات کی فکر نہیں کرتے۔

آج کل کے دور میں ہر کوئی حقوق کی بات کر رہا ہے ، مجھے میرا حق نہیں دیا جا رہا ، مجھ سے میرا حق چھین لیا گیا ہے، حالانکہ اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے اسلام حقوق کی بات نہیں کرتا، اسلام فرائض سکھاتا ہے اور فرائض ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ، فرائض کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو دوسرے کا حق ہے وہ آپ کا فرض ہے، جو والدین کے حقوق ہیں وہ اولاد کے فرائض ہیں  اور جو اولاد کے حقوق ہیں وہ والدین کے فرائض ہیں۔ اگر ہر کوئی اپنا فرض ادا کرتا رہے تو کوئی صورت ممکن نہیں کہ کسی کی حق تلفی ہو ۔ اسلام کا احکامات فرد کے لئے ہیں ذات کے لئے ہیں قاسمِ فیوضات مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے  کہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا پہ اسلام نافذ ہو جائے لیکن میری ذات بچ جائے، میں سود کھا رہا ہوں تو کھاتا رہوں، میں غیر شرعی نزندگی گزار رہا ہوں تو گزارتا رہوں ، میں نے کسی کی حق تلفی کی ہوئی ہے تو مجھ سے کوئی نہ پوچھے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے، سب سے مجھے اور آپ کو اپنے آپ پہ ،اس پانچ چھ فٹ کے بدن پہ اسلام نافذ کرنا ہو گا  جب تک ہم اس پہ نافذ نہیں کرتے ہم اس اہل نہیں کہ ہم کسی اور کو تبلیغ کرتے پھریں یا خالی دعائیں کرتے رہیں۔ جب ہم اپنی ذات پہ نافذ کر لیں گے تو اب ہم اسے کسی اور پہ، اپنے عزیز و اقارب پہ، اپنے اہل و عیال پہ، اپنے احباب پہ نافذ کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اور اسلام چونکہ دین ِ فطرت ہے اور اسے انسان کی فطرت پہ بنایا گیا ہے تو  جو بھی حقیقت میں اسے اپناتا ہے اس کے متعلقین  خود یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ایسے بن جائیں۔

اسلام عقائد و ایمانیات سے شروع ہوتا ہے ، اعمال کی پابندی کے ساتھ کردار کی اصلاح کرتا ہے  اور پھر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو اطیعواللہ و اطیعو الرسول کے مطابق کر کے انتہائی خوبصورت اور پر امن معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ضرور بضرور خود کو سورۃ البقرہ کی ان  پہلی بیس آیات کے سانچے میں پرکھنا چاہیئے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ، کیا مجھ میں مومنین کی صفات موجود ہیں اگر نہیں تو کہیں میرا معاملہ کفار و منافقین جیسا تو نہیں ، کہیں وہ عادات و اطوار جو قرآن منافقین کی بیان فرما رہا ہے وہ تو مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی ذات کی اصلاح کی ضرورت ہے ، مجھے اپنے محاسبہ کی ضرورت ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 7 - قلب و دل لطیفہ ربانی یا بلڈ پمپنگ مشین - دل اور کانوں پہ مہر اور آنکھوں پہ پردے کا مطلب - فہم و عقل دل سے ہے نہ کہ دماغ سے

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:    خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کے کانوں پر (بھی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ  اللہ نے ان کے دلوں پہ مہر کر دی ہے اور کانوں پر بھی، اس بات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم قلب کی حقیقت کو سمجھیں تب ہمیں قلب پہ مہر کا ہونا سمجھ آئے گا۔

انسان دو چیزوں کا مرکب ہے : روح اور مادی جسم

جسم جو کہ آگ، پانی ،ہوا، مٹی اور نفسِ انسانی کا مرکب ہے اور اس کے اہم اعضاء کچھ بیرونی ہیں جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں ، کان وغیرہ جبکہ کچھ اندرونی اعضاء ہیں جیسے  دل، دماغ، جگر ،معدہ وغیرہ

روح  جو امرربی سے ہے اور لطیف شے ہے اس کے بھی اسی طرح اہم اعضاء ہیں جنہیں اعضائے رئیسہ کہا جاتا ہے ۔ اور انہیں روح کی لطافت کے سبب سے لطائف (لطیفہ کی جمع)بھی کہا جاتا ہے جن کا ذکر اہلِ طریقت کی کتابوں میں ملتا ہے  ۔
 یہ پانچ اعضاء ہیں : قلب، روح ، سری ،خفی، اخفاء۔ ان اعضاء کا سب سے تفصیلی بیان قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب "کنوزِ دل" میں ہے۔ مطالعہ فرمائیے گا علم و عمل میں اضافے کا سبب ہو گا۔انشاء اللہ

تو جس طرح مادی علوم رکھنے والوں نے ثابت کیا اور ہم تک یہ بات پہنچائی کہ جسم کا سارا نظام  یعنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دماغ کے پاس ہے۔ اور دماغ ہی باقی سارے اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اس مادی جسم کی بقاء اور زندگی روح سے ہے ۔جب یہ روح اس جسم میں نہیں رہتی تو پھر یہی گوشت پوست کا نسان مردہ ہوتا ہے اور اگر اسے بروقت دفن نہ کیا جائے تو  تعفن زدہ ہو جاتا ہے اور اس کا یہ جسم گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس مردہ جسم کو کوئی انسان نہیں کہتا ، اسے اس کا نام لے کر نہیں پکارا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ میت ہے ، یہ مردہ ہے ، یہ لاش ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ حیات اصل میں روح سے ہے ۔ جب روح  جسم میں باقی نہ رہے تو حیات بھی نہیں رہتی۔

اسی طرح ایک زندہ انسان اگر اپنے اعمال کی وجہ روح کی لطافت کھو دیتی، اس کی اصلی شکل کو مسخ کردے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی روح مر چکی ہے اور یہ زندہ لاش ہے۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ اکثر ایک عربی کا شعر پڑھا کرتے تھے جس کا مفہوم و ترجمہ یہ ہے کہ ان کے جسم ان کی روحوں کی قبریں ہیں۔

قلب ، روح کے اعضائے رئیسہ یعنی مذکورہ بالا پانچ لطائف میں سب سے پہلا اور بنیادی لطیفہ ہے۔ جیسے جسم کا مرکز و محور دماغ ہے اسی طرح روح کا مرکز پہلا لطیفہء ربانی قلب ہے۔ جسم کی حیات روح سے ہے اور  روح قلب سے ہے ۔ یعنی انسانی حیات کا سارا دارومدار قلب پہ ہے ۔ قلب زندہ و روشن ہے تو حیات ہے نہیں تو انسان زندہ لاش کی مانند ہے ۔ جیسے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اوراگر اس میں بگاڑ ہو تو پورے جسم میں بگاڑ ہوتا ہے ۔فرمایا غور سے سن لو یہ انسان کا قلب ہے۔

قلب کیا ہے؟ ظاہری طور پہ دل ایک خون پمپ کرنے کا آلہ ہے جسے انگریزی میں Blood Pumping Machine  کہا جائے گا  لیکن اس کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز رکھ دی ہے جسے قرآن و حدیث میں قلب کہا گیا جو لطیفہ ربانی ہے اور عالمِ امر سے ہے۔اسی سے انسانی زندگی کا سارا نظام چلتا ہے ،سب خواہشیں ،خوشیاں، محبتیں ، نفرتیں اسی سے نکلتی ہیں بلکہ اب تو جدید سائنسدان بھی اس نتیجے پہ پہنچ گئے ہیں اور اس پہ ہارورڈ  یونیورسٹی امریکہ کی تحقیق آئی ہے کہ حقیقت میں انسانی جسم کا  مرکز و محور دماغ نہیں بلکہ دل ہے اور دل وہ آلہ ہے جو سگنل پیدا کرتا ہے اور پھر یہ سگنل دماغ کو منتقل ہوتے ہیں اور دماغ جسم کو اس پہ لگا دیتا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں اس دل کے بارے میں ارشاد ہے کہ" جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پہ سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اگر تو وہ توبہ کر لے تو یہ سیاہ نشان صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کرتا جائے تو یہ سیاہ نشان بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے ۔"

قرآن کریم میں بھی اس قلب کی مختلف حالتیں بیان ہوئیں جیسے مہر لگا ہوا قلب، سیاہ قلب، ٹیرھا قلب،بیمار قلب ، سخت قلب  اور رجوع کرنے والا قلب۔

یہی قلب و روح انسان کو دوسرے جانداروں سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ باقی تمام جانداروں میں اللہ نے صرف جان رکھی لیکن انسان کو جان نہیں بلکہ روح عطا فرمائی جو امر ربی ہے اور عالمِ امر سے ہے۔

سورۃ البقہ کی اس ساتویں آیتِ کریمہ میں فرمایا جا رہا کہ  خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ  کہ ان کے کفر، انکی اسلام دشمنی ،ضد، انا اور ہٹ دھرمی کے سبب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو دلوں کو مہر بند کر دیا ہے ،ان کے لئے ہدایت کے رستے بند فرما دیئے ہیں، وہ متوجہ الی اللہ ہو ہی نہیں سکتے ،فہم و ادراک جس کا تعلق قلب سے اب انہیں حاصل نہیں ہو سکتا ، ان کے قلب کی وہ روحانی خاصیت سلب کر لی گئی اور نہ صرف ان کے دلوں کو حق سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے کانوں کو بھی حق سننے سے محروم کر دیا ہے  اب ظاہراً وہ بہرے نہیں ہیں لیکن حقیقت میں بہرے ہیں کیونکہ حق سننے سے محروم ہیں اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ہے کہ ظاہراً تو وہ دیکھ رہے ہیں لیکن حق نہیں دیکھ سکتے ، ان آنکھوں سے مظاہرِ قدرت نہیں دیکھ سکتے ، ان سے یہ حقانیت نہیں دیکھ سکتے۔یعنی ان کے کفر کے سبب ان کیلئے ہدایت کے تمام دروازے، رستے اور ذرائع بند کر دیئے ہیں ۔

وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

اس آیت کریمہ کی مزید تفسیر خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 179 میں فرما دی ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اور بے شک ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کیلئے پیدا فرمائے ہیں  ان کے دل ہیں کہ ان سے یہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں کہ ان سے یہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں کہ ان سے یہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں مزید یہ بھی فرما دیا کہ یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے کیونکہ جانوروں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جان رکھی اور انسان کو روح عطا فرمائی  اور باوجود روححانی صلاحیتوں کے  اس نے جانوروں جیسی زندگی گزار دی کیونکہ کھانا پینا،سونا جاگنا، رزق کی تلاش ، مباشرت وغیرہ یہ امور تو جانور بھی کر رہے ہیں ۔ اس کی تخلیق کا مقصد کچھ اور تھا جو یہ حاصل نہ کر سکا تو یہ جانوروں سے بھی بدتر ہے، ان سے بھی گیا گزرا ہے ۔ ااور اس سب کا سبب یہ ہے کہ یہ غفلت میں پڑا ہوا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں غفلت سے بچائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 6 - کفر کا مطلب اور کفار کی اقسام- وہ لوگ جن کیلئے ہدایت کا دروازہ بند ہو چکا

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

یقیناً جن لوگوں  نے کفر اختیار کیا انہیں آپ متنبہ کریں یا نہ کریں برابر ہے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔

اس آیت کا یک عام فہم مفہوم اس کے شان نزول کے ساتھ سمجھ آتا ہے  کہ آپ ﷺ چونکہ فکر مند رہتے تھے سب لوگوں کے بارے میں اور خصوصاً رشتہ داروں کے بارے میں کیونکہ فطرتی بات ہے کہ اقرباء  اور قریبی لوگوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام  تو رحمتہ اللعالمین ہیں  تو کیونکر لوگوں کی فکر نہ ہوتی۔ اسی  فکر ارو پریشانی کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کفر پہ ڈٹ چکے ہیں  جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ تو ان کے لئے آپ کا متنبہ کرنا ، انہیں اخروی عذاب سے ڈرانا، نتائج پہ خبردار کرنا برابر ہے، وہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے۔

یہ تو اس آیت کا وہ مفہوم ہے جو اس کے شانِ نزول کے حوالے سے ہے لیکن قرآن کی آیات کسی خاص زمانے ، خاص گروہ یا خاص لوگوں کیلئے نہیں بلکہ قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہدایت و رہنمائی ہے۔ اس کا مخاطب فرد ہے  ۔یہ ہر  زمانے، ہر نسل، ہر قوم اور ہر گروہ سے مخاطب  ہے ۔ ہم اس کے کچھ حصے کو مشرکین ِ مکہ اور کفار کے ساتھ  خاص کر رہے ہوتے ہیں تو کچھ حصہ بنی اسرائیل اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ مخصوص کر رہے ہوتے ہیں جبکہ  کچھ حصہ منافقین ِ مدینہ کے ساتھ جوڑ رہے ہوتے ہیں اور جو آیات مومنین سے متعلقہ ہیں، جہاں مومنین کی صفات بیان ہوئی ہیں ان کو اصحابِ رسول ﷺ سے منسلک کرکے خود کو بری الذمہ کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں ہمیں قرآن کے عمومی مفاہیم و مطالب سمجھنے  کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم کے مخاطبین صرف اس زمانے کے لوگ نہیں تھے، اللہ تعالیٰ کے احکامات  اور وعیدیں صرف ان لوگوں کے لئے نہیں تھیں، یہ تمام باتیں جو قرآن ِ حکیم میں بیان ہوئیں یہ نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہیں، اور قیامت تک آنے والے لوگ اس کے مخاطبین ہیں۔

اس تناظر میں جب ہم اس آیتِ کریمہ کو دیکھتے ہیں تو جو بات میں سمجھ سکا ہوں کوشش کروں گا کہ آپ کو بھی سمجھا سکوں۔

فرمایا گیا: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا   یقیناً جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ، جو انکار کرنے والے ہیں۔

کفر کے لغوی معنی ہیں چھپانا، پردہ ڈالنا۔ اصطلاحاً اسے انکار کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کفرانِ نعمت کرنا یعنی نعمتوں کا انکار کرنا۔

یہ انکار کرنے والے لوگ چار قسم کے ہیں:

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے  جو زبان و دل سے  مانتے ہیں خود عملاً اختیار نہیں کرتے البتہ جو عمل کرتے ہیں ان کو اچھا جانتے ہیں  یہ طرزِ عمل بے عمل مسلمانوں کا ہے۔

دوسری  قسم ان لوگوں کی ہے جو زبان سے مانتے ہیں لیکن دل سے قبول نہیں کرتے، زبانی اقرار بھی کسی مجبوری ،مصلحت یا محض دنیاوی فائدے کے لئے کرتے ہیں یہ طرز عمل منافقین کا ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں  ہےجو زبان و دل سے تسلیم نہیں  کرتے ان میں بھی دو قسم  کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو باوجود یقین  و ایمان نہ ہونے کے مومنین کیلئے ایذا و تکلیف کا سبب نہیں بنتے لیکن دوسری اور خطرناک قسم ان لوگوں کی ہے جو  نہ صرف خود انکاری ہیں بلکہ مومنین کیلئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے  ہیں  اور ان کی دشمنی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اور اہم بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہ یہ حق جانتے نہیں ، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے اور باوجود حق جاننے کے اپنی ضد، انا ،ہٹ دھرمی اور اسلام دشمنی کے سبب ان کے بارے فرمایا جا رہا  کہ یہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے، ان کو متنبہ کرنا یا نہ کرنا برابر ہے ۔

اگر زمانہ نبویﷺ کا بغور  مطالعے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں بھی  یہ جو آخری قسم کے لوگ  تھے ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔، وقت نے ثابت کیا کہ وہ واقعی کفر پہ مرے اور تادمِ آخر ایمان نہیں لائے۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد ان لوگوں کی تھی جو ابتداءً  تو ایمان نہیں لائے  لیکن ان میں ہٹ دھرمی اور ضد نہیں تھی وہ کفر پہ ڈٹے نہیں رہے۔ وہ سنتے تھے اور غور و فکر کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔

دورِ حاضر میں بھی جو لوگ ضد ، انانیت اور  ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور علم  کے بارے میں اس غرور و تکبر کا شکار ہوتے ہیں کہ میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں یا جو میں جانتا ہوں وہی حق اور حرفِ آخر ہے۔ باوجود حق پہ نہ ہونے کے جن کا یہ طرز و انداز ہو وہ بجائے ترقی کے  دین میں تنزلی کی جانب جا رہے ہوتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔

 اور ان میں سب سے بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنے علم پہ اتنے غرور و تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سابقہ چودہ سو سال کے ائمہ دین اور اکابرین ِ امت  پہ تنقید کر رہے ہوتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں شاید ان سے زیادہ دین ِ اسلام کو سمجھنے والا ہوں۔ اور نہ صرف تنقید بلکہ ان کی شان میں گستاخیاں اور ان کا رد کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور پھر علمائے امت کے بعد اولیاءِ کرام اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہوتے ہوئے نعوذ باللہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور آپﷺ کی شان میں گستاخیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جو یقیناً ان کو ایمان سے خارج کر دیتی ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ جو غور و فکر کرتے ہیں۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اپنے علم پہ مان اور تکبر کا شکار نہیں ہوتے وہ ایمانی ترقی اور علمی وسعت کی جانب گامزن رہتے ہیں ۔ ان کے علم و عمل میں دن بدن بہتری آتی ہے۔

 

یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اکثر  مترجم حضرات انذار  کا ترجمہ ڈر لکھتے ہیں اردو کا لفظ ڈر اس  انذار  لفظ کے معانی و مفہوم پہ پورا نہیں اترتا، اس کا سب سے بہترین ترجمہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا ، وہ اس کا ترجمہ فرماتے ہیں متنبہ کرنا ،آپ فرماتے ہیں کہ انذار ہوتا ہے نتائج سے پیشگی آگاہ کرنا، خبردار کرنا۔اردو کے دامن میں اتنی وسعت نہیں اس لئے تقویٰ کاترجمہ بھی ڈر ہی ملے گا اور انذار کا بھی ڈر حالانکہ ان دونوں الفاظ کیلئے ڈر یا خوف لفظ موزوں نہیں۔

تو اس آیت کرمہ کا مفہوم کچھ یوں ہو گا کہ   اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام آپ ان انکار کرنے والے لوگوں کو ، کفر پہ ڈٹ جانے والے لوگوں کو آخرت سے، حساب کتاب سے اور جہنم کی آگ سے خبردار کریں یا نہ کریں یہ ان کے لئے برابر ہے، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، یہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے سو آپ ان نہ ماننے والوں کی فکر نہ کریں۔

 ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب یہ لوگ ماننے والے نہیں تو کیا ہمیں تبلیغِ دین چھوڑ دینی چاہئے، ہر گز نہیں  کیونکہ کسی کا ماننا یا نہ ماننا ہمارے بس میں نہیں ،ہدایت دینا اللہ کا اختیار ہے وہ جسے چاہے چن  لے۔ ہمارے لئے اجر ہماری تبلیغ ہے کوئی مانے یا نہ مانے ،ہمیں  اپنی محنت کا ، اس تک دینِ حق پہچانے کا اجر ملے گا،اگر کوئی مان لیتا ہے اور ایمان لے آتا ہے تو صدقہ جاریہ کی صورت میں اجر بھی بڑھ جائے گا اگر کوئی ایمان نہیں بھی لاتا تو ہماری محنت و کاوش ضائع نہیں جائے گی اورہمیں  ہمارا  اجر و ثواب ضرور بضرور ملے گا اپنے رب کی طرف سے۔ انشاء اللہ

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 5 - متقین کیلئے دو عظیم انعامات- ہدایت اور کامیابی کی سند

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

وہ لوگ اپنے  پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

سورۃ لبقرہ کی ابتدا میں  دعویٰ کیا گیا کہ یہ قرآن جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ،اس میں ہدایت ہے متقین کیلئے، پھر اس کے بعد یہ بات بتا دیا گیا کہ متقین کون لوگ ہیں، متقین کی صفات بیان کی گئیں۔ اور وہ صفات کیا ہیں کہ جو غیب پہ یعنی ان چیزوں پہ ایمان لاتے ہیں جن کو انہوں نے ظاہری آنکھ  سے نہیں دیکھا ہوتا، پھر عبادات کا پاس رکھتے ہیں اور انہیں صحیح طور پہ  اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق ادا کرتے ہیں ، اور پھر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے تحت استعمال کرتے ہیں ۔ اور نہ صرف اس کو جو آپﷺ پہ قرآن و حدیث کی صورت میں نازل کیا گیا بلکہ جو آپ ﷺ سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور دوسرے صحائف کی صورت میں نازل ہوا ،اس کو بھی حق و سچ جانیں اور اس پہ بھی ایمان لائیں۔ سب سے اہم بات جسے ایمان بالغیب کے ضمن میں بیان کے بعد دوباری بیان کیا گیا وہ عقیدہ آخرت ہے۔ فرمایا کہ عقیدہ آخرت پہ یقین رکھیں۔ یقین تب ہوتا ہے جب عمل گواہی دے۔ جب عمل اس بات کی گواہی دے کہ واقعتاً اس بندے کو یقین ہے کہ اس نے  ایک دن اس دنیا سے آخرت کی جانب سفر کرنا ہے، قبر اس کا اگلا ٹھکانہ ہو گا، اس کے بعد روزِ قیامت اسے دوبارہ اٹھایا جائے گا ،حشر برپا ہو گا، میزان ہو گا، جزا و سزا ہو گی، جبھی تو  یہ ہر وقت اس کی تیاری میں لگا رہتا ہے۔ خود کو دنیا کی آسائشوں اور عیش وآرام میں غرق نہیں ہونے دیتا۔

اب جس بندے میں مذکورہ بالا اوصاف ہوں گے ، جو ان صفات کا حامل ہو گا ، اس کو دو سندیں ، دو سرٹیفکیٹ دیے جا رہے ہیں، اس کیلئے دو قسم کے انعامات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

پہلا انعام دنیاوی ہے اور دوسرا اخروی۔

دنیاوی انعام اس بندے پہ جو ان اوصاف کا حامل ہو گا یہ ہے کہ وہ سیدھے رستے پہ ہے، وہ صراطِ مستقیم پہ ہے،وہ ہدایت پہ ہے اپنے پروردگار کی طرف سے۔

اور اخروی انعام یہ ہے کہ جب ان اوصاف پہ اس نے ہدایت کے ساتھ زندگی گزاری تو اب وہ کامیاب ہو چکا ہے،وہ اپنی مراد کو پہنچ چکا ہے ،وہ فلاح پا گیا۔ اب وہ خوشی خوشی اس دنیا سے کوچ کرے گا ، اس کی قبر جنت کا باغ ہو گی، اور روزِ محشر وہ سرخرو ہو کے بغیر کسی خوف اور غم کے اللہ کے حضور پیش ہو گا ، اور پھر اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جہاں اسے انبیاء ، صادقین، صالحین اور شہداء کا ساتھ نصیب ہو گا۔ اور جنت کی سب سے بڑی نعمت دیدارِ باری تعالیٰ نصیب ہو گی۔

ایک اہم بات جو اس آیتِ کریمہ کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے  وہ یہ ہے کہ ہدایت من جانب اللہ ہے۔ فرمایا: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ حالانکہ أُولَئِكَ عَلَى هُدًى پہ بات مکمل ہو گئی ہے لیکن مزید تشریح فرما دی کہ کوئی یہ نہ  سمجھے  کہ یہ اس کا ذاتی وصف یا کمال ہے ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ فرمایا مِنْ رَبِّهِمْ یہ ان کی پروردگار کی طرف سے ہے ۔

یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ ہدایت اگر منجانب اللہ ہے تو بندے کا کیا معاملہ ہے؟ اس کا جواب بھی خود قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا  ۔ سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 13 میں ہے:

وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   " اور اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے جو اس کی طرف  رجوع کرے "

 انابت کے بارے میں  قاسم ِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انابت، نہاں خانہ دل میں اٹھنے والی خواہش، کسک، طلب ہے۔ یہ بندے کے اختیار میں ہے باقی سب اس کی عطا ہے۔

سورۃ العنکبوت کی آخری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ       العنکبوت۔69

اور جو لوگ کوشش کرتے ہیں ، مشقت برداشت کرتے ہیں، تگ و دو کرتے ہیں ہمارے لئے یعنی مجھے پانے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کیلئے راستے کھول  دیتے ہیں، ہم انہیں راستے دکھا دیتے ہیں۔

جَاهَدُوا  ہوتا ہے سخت کوشش کرنا ، معلوم ہوا کہ یہ خواہش، کوشش، تگ ودو، مشقت برداشت کرنا ، یہ بندے کے ذمے ہے ، یہ بندے کا اختیار ہے اور کس کو کتنا ،کہاں سے اور کیسے عطا کرنا ہے یہ اللہ  تعالیٰ کا معاملہ ہے ۔

پھر اس کے بعد کامیابی کا سرٹیفکیٹ، کامیابی کی سند  جاری ہوتی ہے فرمایا گیا:

وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ    یہ کامیاب لوگ ہیں ،یہ فلاح یافتہ ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہ عمل کیا ۔ ان دیکھی باتوں پہ ایمان لائے، نمازیں قائم کیں ، خرچ کیا اللہ کے دیئے گئے انعامات کو اس کے بتائے گئے طریقوں کے مطابق، قرآن و حدیث کو  دل و جان سے قبول کیا  اور جو سابقہ انبیاء پہ نازل ہوا اس کو بھی حق جانا ، اور آخرت پہ کامل یقین رکھتے ہوئے ا کی تیاری میں خود کو مصروف رکھا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس  کے بدلے میں انہیں دنیا میں ہدایت نصیب فرمائی، صراطِ مستقیم کی سمجھ دی ، اس پر چلایا اور تادمِ آخر ا پر قائم رکھا۔ ا ب ان کیلئے اس سے بھی بڑا انعام ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کامیاب ہو گئے، یہ فلاح پا گئے، ان کے لئے ہمیشہ کا سکون اور جنت کی نعمتیں ہوں گی ،جہان یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 4 - وحی الٰہی کی اقسام - قرآن و احادیث دونوں وحی الٰہی ہیں

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ  وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ  وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ  یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ.

اور وہ لوگ جو ایمان  لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور وہ آخرت پہ یقین رکھتے ہیں۔

اس آیت کے پہلے حصے میں جو آپﷺ پہ نازل کیا گیا اس پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پہ کیا نازل کیا گیا؟ اگر اس سے مراد صرف قرآن ِ کریم ہے  تو واضح طور پہ قرآن مجید کا نام لے کر فرما دیا جاتا کہ جو قرآنِ کریم پہ ایمان لاتے ہیں جیسے اسی سورۃ کی ابتدائی آیت میں الکتاب کالفظ استعمال ہوا  ہے جس سے مراد یقینی طور پہ قرآنِ کریم ہے۔ تو یہاں بھی یہ فرما دیا جاتا کہ جو کتاب پہ ایمان لاتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ فرمایا گیا کہ جو آپ پہ نازل کیا گیا۔

نزول ہوتا ہے کسی چیز کی بلندی سے نیچے آنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے قلب ِ اطہر پر نزولِ احکامات کو اصطلاحی طور پر وحی الٰہی کہا جاتا ہے۔

وحی کی دو اقسام ہیں : پہلی قسم وحی متلو ہے  یعنی قرآنِ کریم اور دوسری وحی غیر متلو یعنی احادیثِ مبارکہ۔

سورۃ النجم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى(3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(4)

اور نہ خواہشِ نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں ۔ ان کا ارشاد تو وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے۔

 اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ وحی الٰہی صرف قرآن ِ کریم نہیں بلکہ آپﷺ کی ارشاداتِ عالیہ بھی وحی الٰہی ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں أُنْزِلَ إِلَيْكَ سے مراد  قرآن و احادیث دونوں ہیں۔

جو ان دونوں پر یا ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی شک کرے گا  یا ان کا نکار کرے گا تو اس کا ایمان مکمل نہیں ہو گا۔

احادیثِ نبویہ ﷺ درحقیقت قرآن کریم کی اولین تفسیر ہیں اور ان کے بغیر ناممکن ہے قرآن کریم  کو سمجھنا اور قرآن ِ کریم کے حقیقی معانی و مفاہیم حاصل کرنا۔ اسی وجہ سے جس نے بھی سنتِ رسولﷺ اور احادیث ِ مبارکہ کو  قرآن سے الگ کیا اور ان کے بغیر قرآن ِکریم کے معانی و مفاہیم سمجھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ گمراہی کے سوا کچھ نہیں آیا۔

پھر فرمایا وما انزل من قبلک   جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا یعنی تورات و انجیل ، زبور اور دیگر صحائف جو مختلف انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دیئے گئے ، ان پہ ایمان لاتے ہیں۔

کتابوں میں عموماً دو چیزیں ہوتی ہیں ایک خبر اور دوسری اوامر و نواہی یعنی احکامات۔

خبر ناقابلِ تبدیل ہوتی ہے جیسے لاالہ الا اللہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک ناقابلِ تبدیل ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ، ہر نبی نے یہی خبر دی۔ اسی طرح پہلی کتابوں میں جو خبر تھی وہ  قرآن میں بھی ویسی ہی ہیں جیسے توحید، آخرت ،جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور حشر کا معاملہ۔ البتہ احکامات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ ہر نبی اپنی قوم اور علاقے کے لحاظ سے مختلف احکامات لے کر آیا۔ پہلی شریعتوں کے احکامات اور شریعتِ محمدیہﷺ کے احکامات مختلف ہیں۔ ہاں البتہ یقیناً اب شریعت  و نبوت  مکمل ہو چکی اور قرآن کی نہ صرف خبر بلکہ احکامات میں بھی قیامت تک کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہو گا۔

ایک اور اہم نکتہ جو اس آیتِ کریمہ میں ملتا ہے ، وہ یہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں روئے زمین پہ بے شمار کذاب آئے جو دورِ  حاضر میں بھی موجود ہیں جو وحی الٰہی کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ وحی الٰہی صرف  وہ ہے جو آپ ﷺ پہ اور آپﷺ سے پہلے انبیاء پہ نازل ہوئی۔ اس کے علاوہ  کسی کا من گھڑت دعویٰ کرنے سے اس کا اپنا من گھڑت کلام وحی الٰہی نہیں بن جاتا۔ اگر وحی الٰہی کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا وت فرمایا جاتا کہ جو آپﷺ اور آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد نازل کیا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا: أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب قیامت تک کیلئے حجت قرآنِ کریم ہے، حجت افعالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں ، حجت اقوالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں، حجت پسند و ناپسندِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔ آپﷺ اللہ کے آخری بنی اور رسول ہیں ، قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور شریعتِ محمدیہ ﷺ آخری شریعت ہے۔

پھر ارشاد ہوا: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور جو آخرت پہ  یقین رکھتے ہیں

یہ بات ایمان بالغیب میں شامل ہے ،آخرت کا عقیدہ بھی ایمان بالغیب کا جزو ہے  جس کا ذکر پہلا کیا جاچکا لیکن اس کے بعد اس کا دوبارہ ذکر تاکید کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ اتنا اہم عقیدہ ہے  اور پھر یہاں فرمایا کہ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ جو آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

اگر بندے کو اس بات کا یقین ہو کہ اس دنیا کے بعد بھی اس کی ایک حیات ہے جسے حیات برزخیہ  کہا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد اسے روزِ محشر  دوبارہ اٹھایا جائے گا، محشر برپا ہو گا ،حساب و کتاب ہو گا، سوال و جواب ہو گا، میزان ہو گا، اسے اللہ تعالی ٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، آپﷺ کی ذاتِ اقدس بھی موجود ہو گی جن کی میں اطاعت کا دعویدار ہوں، مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کا سامنا کرنا ہو گا  اور پھر جنت کی نعمتیں ہو ں گی یا پھر دوزخ کا عذاب۔ اگر اس سارے معاملے کا یقین ہو تو ممکن ہی نہیں  کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے۔ یہ جو ہم نافرمان ہو چکے ہیں ، ہمارا ایمان کمزور ہو چکا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ آخرت کمزور ہو چکا ہے یا بالکل ختم ہو چکا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ سوم - انفاق فی سبیل اللہ کا مطلب - ایمان لانا، عبادات کا قائم کرنا اور اللہ کے انعامات کو استعمال کرنا -

0 Comments

 


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ درس میں اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے کا بیان تھا۔ اس آیتِ کریمہ کے آخری حصے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.  اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

عام طور پہ اس آیتِ کریمہ سے جو مفہوم و مطلب سمجھا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے لیکن لغوی اعتبار سے بھی اور ظاہراً بھی اگر غور کیا تو سمجھ آئے گا کہ نہ صرف مال بلکہ تمام تر نعمتیں اولاد، جان، وقت، جسمانی اور دماغی استعداد، روحانی قوت، سب کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے۔ بندہ کسی بھی نعمت کا کلی طور پر اور ہمیشہ کیلئے مالک نہیں ہے اور یہی بات اس آیتِ کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے کہ جو ہم نے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو عطا کر رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

خرچ کرنا کیا ہے اور کیسے خرچ کیا جائے؟

جب بات مال کی ہو گی تو مال کو اللہ تبارک و تعالی کے احکامات کے تحت استعمال کرنا ، اہل و عیال پہ خرچ کرنا، اولاد کی تربیت و اصلاح پہ خرچ کرنا،نیکی کے کاموں پہ خرچ کرنا ، ترویج و تبلیغِ دین میں خرچ کرنا،زکوٰۃ و صدقات کا ادا کرنا، فقرا ء اور مساکین کی مدد کرنا ،مقروض و مسافر کی مدد کیلئے خرچ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

جان کو اور بدنی نعمتوں کو، فطرتی استعدادوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے استعمال کرنا،جسمانی قوتوں کو جہاد و عبادات میں استعمال کرنا۔

اولاد جو اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، اسے دینِ اسلام سکھانا،اولاد میں نیکی اور خیر کے کاموں کا ذوق و شوق پیدا کرنا اور برائی و بے حیائی کی آگاہی دینا اور ان کاموں سے بچنے کی رہنمائی کرنا۔

روحانی استعدادِ کو معرفتِ باری تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا۔ معرفتِ باری تعالیٰ نہ صرف خود حاصل کرنا بلکہ دوسروں تک پہنچانے کا سبب و ذریعہ بننا۔

اس مکمل آیتِ کریمہ پہ غور کرنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں تین باتٰیں بیان ہوہوئیں:

پہلی: يُؤْمِنُونَ دوسری: وَيُقِيمُونَ تیسری: يُنْفِقُونَ.

جو ایمان لاتے ہیں، جو قائم کرتے ہیں اور جو خرچ  کرتے ہیں۔

یعنی پہلا معاملہ قبول کرنا ہے ،زبان اور قلبی یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اور آپ کے احکامات کو قبول کرنا،صرف ظاہر نہیں بلکہ ان باطنی اور غیب کی چیزوں کو بھی دل وجان سے تسلیم کرنا جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں اور پھر ان احکامات و عبادات کو جیسے اس کا حکم ہو اور جو معیار اللہ کی ذات نے مقرر فرمایا ہے اس کے تحت بجا لانا۔ عبادات کو اس طرح ادا کرنا جیسا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور جس طرح محمد الرسول اللہ ﷺ نے کر کے بتلا دیا۔اور پھر جتنی بھی نعمتیں اللہ تبارک تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے گئے اور آپ ﷺ کے سکھائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال و خرچ کرنا۔ اور چونکہ سب کچھ ہی اللہ کی عطا ہے، سب کچھ ہی اس ذاتِ برحق کا انعام کردہ ہے۔ بندے کا ذاتی تو کچھ بھی نہیں سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کے پاس علم ہے تو اس احکامات ِ الٰہی کے تحت اور دین ِ حق کی سربلندی کے لئے پھیلانا نہ کہ دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لینا، کسی کی پاس جسمانی و بدنی قوتیں ہیں تو اسے اللہ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال کرنا، کسی کے پاس طاقت و اثر و رسوخ ہے تو اسے دنیا  کمانےکے بجائے اور لوگوں کی پریشانی کا سبب بننے کے بجائے ،لوگوں کے لئے آسانیوں کا سبب بننے  کیلئے استعمال کرنا۔

ان تینوں باتوں  کو حاصل کیے بغیر انسان متقی نہیں بن سکتا اور ان تینوں باتوں میں شیطان کے بعد جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے وہ انسان کا اپنا نفس ہے۔اور نفس انسانی بندے کو یہ تینوں کام نہیں کرنے دیتا  جب تک اس کا تزکیہ نہ کیا جائے یعنی یہ  تینوں کام بغیر تزکیہ نفس کے حاصل نہیں ہو سکتے۔تزکیہ نفس ہی واحد ذریعہ ہے جو بندہ مومن کو متقین کے درجے میں لے کے جاتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی