تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 6 - کفر کا مطلب اور کفار کی اقسام- وہ لوگ جن کیلئے ہدایت کا دروازہ بند ہو چکا

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

یقیناً جن لوگوں  نے کفر اختیار کیا انہیں آپ متنبہ کریں یا نہ کریں برابر ہے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔

اس آیت کا یک عام فہم مفہوم اس کے شان نزول کے ساتھ سمجھ آتا ہے  کہ آپ ﷺ چونکہ فکر مند رہتے تھے سب لوگوں کے بارے میں اور خصوصاً رشتہ داروں کے بارے میں کیونکہ فطرتی بات ہے کہ اقرباء  اور قریبی لوگوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام  تو رحمتہ اللعالمین ہیں  تو کیونکر لوگوں کی فکر نہ ہوتی۔ اسی  فکر ارو پریشانی کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کفر پہ ڈٹ چکے ہیں  جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ تو ان کے لئے آپ کا متنبہ کرنا ، انہیں اخروی عذاب سے ڈرانا، نتائج پہ خبردار کرنا برابر ہے، وہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے۔

یہ تو اس آیت کا وہ مفہوم ہے جو اس کے شانِ نزول کے حوالے سے ہے لیکن قرآن کی آیات کسی خاص زمانے ، خاص گروہ یا خاص لوگوں کیلئے نہیں بلکہ قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہدایت و رہنمائی ہے۔ اس کا مخاطب فرد ہے  ۔یہ ہر  زمانے، ہر نسل، ہر قوم اور ہر گروہ سے مخاطب  ہے ۔ ہم اس کے کچھ حصے کو مشرکین ِ مکہ اور کفار کے ساتھ  خاص کر رہے ہوتے ہیں تو کچھ حصہ بنی اسرائیل اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ مخصوص کر رہے ہوتے ہیں جبکہ  کچھ حصہ منافقین ِ مدینہ کے ساتھ جوڑ رہے ہوتے ہیں اور جو آیات مومنین سے متعلقہ ہیں، جہاں مومنین کی صفات بیان ہوئی ہیں ان کو اصحابِ رسول ﷺ سے منسلک کرکے خود کو بری الذمہ کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں ہمیں قرآن کے عمومی مفاہیم و مطالب سمجھنے  کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم کے مخاطبین صرف اس زمانے کے لوگ نہیں تھے، اللہ تعالیٰ کے احکامات  اور وعیدیں صرف ان لوگوں کے لئے نہیں تھیں، یہ تمام باتیں جو قرآن ِ حکیم میں بیان ہوئیں یہ نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہیں، اور قیامت تک آنے والے لوگ اس کے مخاطبین ہیں۔

اس تناظر میں جب ہم اس آیتِ کریمہ کو دیکھتے ہیں تو جو بات میں سمجھ سکا ہوں کوشش کروں گا کہ آپ کو بھی سمجھا سکوں۔

فرمایا گیا: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا   یقیناً جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ، جو انکار کرنے والے ہیں۔

کفر کے لغوی معنی ہیں چھپانا، پردہ ڈالنا۔ اصطلاحاً اسے انکار کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کفرانِ نعمت کرنا یعنی نعمتوں کا انکار کرنا۔

یہ انکار کرنے والے لوگ چار قسم کے ہیں:

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے  جو زبان و دل سے  مانتے ہیں خود عملاً اختیار نہیں کرتے البتہ جو عمل کرتے ہیں ان کو اچھا جانتے ہیں  یہ طرزِ عمل بے عمل مسلمانوں کا ہے۔

دوسری  قسم ان لوگوں کی ہے جو زبان سے مانتے ہیں لیکن دل سے قبول نہیں کرتے، زبانی اقرار بھی کسی مجبوری ،مصلحت یا محض دنیاوی فائدے کے لئے کرتے ہیں یہ طرز عمل منافقین کا ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں  ہےجو زبان و دل سے تسلیم نہیں  کرتے ان میں بھی دو قسم  کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو باوجود یقین  و ایمان نہ ہونے کے مومنین کیلئے ایذا و تکلیف کا سبب نہیں بنتے لیکن دوسری اور خطرناک قسم ان لوگوں کی ہے جو  نہ صرف خود انکاری ہیں بلکہ مومنین کیلئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے  ہیں  اور ان کی دشمنی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اور اہم بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہ یہ حق جانتے نہیں ، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے اور باوجود حق جاننے کے اپنی ضد، انا ،ہٹ دھرمی اور اسلام دشمنی کے سبب ان کے بارے فرمایا جا رہا  کہ یہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے، ان کو متنبہ کرنا یا نہ کرنا برابر ہے ۔

اگر زمانہ نبویﷺ کا بغور  مطالعے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں بھی  یہ جو آخری قسم کے لوگ  تھے ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔، وقت نے ثابت کیا کہ وہ واقعی کفر پہ مرے اور تادمِ آخر ایمان نہیں لائے۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد ان لوگوں کی تھی جو ابتداءً  تو ایمان نہیں لائے  لیکن ان میں ہٹ دھرمی اور ضد نہیں تھی وہ کفر پہ ڈٹے نہیں رہے۔ وہ سنتے تھے اور غور و فکر کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔

دورِ حاضر میں بھی جو لوگ ضد ، انانیت اور  ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور علم  کے بارے میں اس غرور و تکبر کا شکار ہوتے ہیں کہ میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں یا جو میں جانتا ہوں وہی حق اور حرفِ آخر ہے۔ باوجود حق پہ نہ ہونے کے جن کا یہ طرز و انداز ہو وہ بجائے ترقی کے  دین میں تنزلی کی جانب جا رہے ہوتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔

 اور ان میں سب سے بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنے علم پہ اتنے غرور و تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سابقہ چودہ سو سال کے ائمہ دین اور اکابرین ِ امت  پہ تنقید کر رہے ہوتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں شاید ان سے زیادہ دین ِ اسلام کو سمجھنے والا ہوں۔ اور نہ صرف تنقید بلکہ ان کی شان میں گستاخیاں اور ان کا رد کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور پھر علمائے امت کے بعد اولیاءِ کرام اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہوتے ہوئے نعوذ باللہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور آپﷺ کی شان میں گستاخیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جو یقیناً ان کو ایمان سے خارج کر دیتی ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ جو غور و فکر کرتے ہیں۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اپنے علم پہ مان اور تکبر کا شکار نہیں ہوتے وہ ایمانی ترقی اور علمی وسعت کی جانب گامزن رہتے ہیں ۔ ان کے علم و عمل میں دن بدن بہتری آتی ہے۔

 

یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اکثر  مترجم حضرات انذار  کا ترجمہ ڈر لکھتے ہیں اردو کا لفظ ڈر اس  انذار  لفظ کے معانی و مفہوم پہ پورا نہیں اترتا، اس کا سب سے بہترین ترجمہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا ، وہ اس کا ترجمہ فرماتے ہیں متنبہ کرنا ،آپ فرماتے ہیں کہ انذار ہوتا ہے نتائج سے پیشگی آگاہ کرنا، خبردار کرنا۔اردو کے دامن میں اتنی وسعت نہیں اس لئے تقویٰ کاترجمہ بھی ڈر ہی ملے گا اور انذار کا بھی ڈر حالانکہ ان دونوں الفاظ کیلئے ڈر یا خوف لفظ موزوں نہیں۔

تو اس آیت کرمہ کا مفہوم کچھ یوں ہو گا کہ   اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام آپ ان انکار کرنے والے لوگوں کو ، کفر پہ ڈٹ جانے والے لوگوں کو آخرت سے، حساب کتاب سے اور جہنم کی آگ سے خبردار کریں یا نہ کریں یہ ان کے لئے برابر ہے، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، یہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے سو آپ ان نہ ماننے والوں کی فکر نہ کریں۔

 ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب یہ لوگ ماننے والے نہیں تو کیا ہمیں تبلیغِ دین چھوڑ دینی چاہئے، ہر گز نہیں  کیونکہ کسی کا ماننا یا نہ ماننا ہمارے بس میں نہیں ،ہدایت دینا اللہ کا اختیار ہے وہ جسے چاہے چن  لے۔ ہمارے لئے اجر ہماری تبلیغ ہے کوئی مانے یا نہ مانے ،ہمیں  اپنی محنت کا ، اس تک دینِ حق پہچانے کا اجر ملے گا،اگر کوئی مان لیتا ہے اور ایمان لے آتا ہے تو صدقہ جاریہ کی صورت میں اجر بھی بڑھ جائے گا اگر کوئی ایمان نہیں بھی لاتا تو ہماری محنت و کاوش ضائع نہیں جائے گی اورہمیں  ہمارا  اجر و ثواب ضرور بضرور ملے گا اپنے رب کی طرف سے۔ انشاء اللہ

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 5 - متقین کیلئے دو عظیم انعامات- ہدایت اور کامیابی کی سند

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

وہ لوگ اپنے  پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

سورۃ لبقرہ کی ابتدا میں  دعویٰ کیا گیا کہ یہ قرآن جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ،اس میں ہدایت ہے متقین کیلئے، پھر اس کے بعد یہ بات بتا دیا گیا کہ متقین کون لوگ ہیں، متقین کی صفات بیان کی گئیں۔ اور وہ صفات کیا ہیں کہ جو غیب پہ یعنی ان چیزوں پہ ایمان لاتے ہیں جن کو انہوں نے ظاہری آنکھ  سے نہیں دیکھا ہوتا، پھر عبادات کا پاس رکھتے ہیں اور انہیں صحیح طور پہ  اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق ادا کرتے ہیں ، اور پھر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے تحت استعمال کرتے ہیں ۔ اور نہ صرف اس کو جو آپﷺ پہ قرآن و حدیث کی صورت میں نازل کیا گیا بلکہ جو آپ ﷺ سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور دوسرے صحائف کی صورت میں نازل ہوا ،اس کو بھی حق و سچ جانیں اور اس پہ بھی ایمان لائیں۔ سب سے اہم بات جسے ایمان بالغیب کے ضمن میں بیان کے بعد دوباری بیان کیا گیا وہ عقیدہ آخرت ہے۔ فرمایا کہ عقیدہ آخرت پہ یقین رکھیں۔ یقین تب ہوتا ہے جب عمل گواہی دے۔ جب عمل اس بات کی گواہی دے کہ واقعتاً اس بندے کو یقین ہے کہ اس نے  ایک دن اس دنیا سے آخرت کی جانب سفر کرنا ہے، قبر اس کا اگلا ٹھکانہ ہو گا، اس کے بعد روزِ قیامت اسے دوبارہ اٹھایا جائے گا ،حشر برپا ہو گا، میزان ہو گا، جزا و سزا ہو گی، جبھی تو  یہ ہر وقت اس کی تیاری میں لگا رہتا ہے۔ خود کو دنیا کی آسائشوں اور عیش وآرام میں غرق نہیں ہونے دیتا۔

اب جس بندے میں مذکورہ بالا اوصاف ہوں گے ، جو ان صفات کا حامل ہو گا ، اس کو دو سندیں ، دو سرٹیفکیٹ دیے جا رہے ہیں، اس کیلئے دو قسم کے انعامات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

پہلا انعام دنیاوی ہے اور دوسرا اخروی۔

دنیاوی انعام اس بندے پہ جو ان اوصاف کا حامل ہو گا یہ ہے کہ وہ سیدھے رستے پہ ہے، وہ صراطِ مستقیم پہ ہے،وہ ہدایت پہ ہے اپنے پروردگار کی طرف سے۔

اور اخروی انعام یہ ہے کہ جب ان اوصاف پہ اس نے ہدایت کے ساتھ زندگی گزاری تو اب وہ کامیاب ہو چکا ہے،وہ اپنی مراد کو پہنچ چکا ہے ،وہ فلاح پا گیا۔ اب وہ خوشی خوشی اس دنیا سے کوچ کرے گا ، اس کی قبر جنت کا باغ ہو گی، اور روزِ محشر وہ سرخرو ہو کے بغیر کسی خوف اور غم کے اللہ کے حضور پیش ہو گا ، اور پھر اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جہاں اسے انبیاء ، صادقین، صالحین اور شہداء کا ساتھ نصیب ہو گا۔ اور جنت کی سب سے بڑی نعمت دیدارِ باری تعالیٰ نصیب ہو گی۔

ایک اہم بات جو اس آیتِ کریمہ کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے  وہ یہ ہے کہ ہدایت من جانب اللہ ہے۔ فرمایا: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ حالانکہ أُولَئِكَ عَلَى هُدًى پہ بات مکمل ہو گئی ہے لیکن مزید تشریح فرما دی کہ کوئی یہ نہ  سمجھے  کہ یہ اس کا ذاتی وصف یا کمال ہے ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ فرمایا مِنْ رَبِّهِمْ یہ ان کی پروردگار کی طرف سے ہے ۔

یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ ہدایت اگر منجانب اللہ ہے تو بندے کا کیا معاملہ ہے؟ اس کا جواب بھی خود قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا  ۔ سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 13 میں ہے:

وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   " اور اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے جو اس کی طرف  رجوع کرے "

 انابت کے بارے میں  قاسم ِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انابت، نہاں خانہ دل میں اٹھنے والی خواہش، کسک، طلب ہے۔ یہ بندے کے اختیار میں ہے باقی سب اس کی عطا ہے۔

سورۃ العنکبوت کی آخری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ       العنکبوت۔69

اور جو لوگ کوشش کرتے ہیں ، مشقت برداشت کرتے ہیں، تگ و دو کرتے ہیں ہمارے لئے یعنی مجھے پانے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کیلئے راستے کھول  دیتے ہیں، ہم انہیں راستے دکھا دیتے ہیں۔

جَاهَدُوا  ہوتا ہے سخت کوشش کرنا ، معلوم ہوا کہ یہ خواہش، کوشش، تگ ودو، مشقت برداشت کرنا ، یہ بندے کے ذمے ہے ، یہ بندے کا اختیار ہے اور کس کو کتنا ،کہاں سے اور کیسے عطا کرنا ہے یہ اللہ  تعالیٰ کا معاملہ ہے ۔

پھر اس کے بعد کامیابی کا سرٹیفکیٹ، کامیابی کی سند  جاری ہوتی ہے فرمایا گیا:

وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ    یہ کامیاب لوگ ہیں ،یہ فلاح یافتہ ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہ عمل کیا ۔ ان دیکھی باتوں پہ ایمان لائے، نمازیں قائم کیں ، خرچ کیا اللہ کے دیئے گئے انعامات کو اس کے بتائے گئے طریقوں کے مطابق، قرآن و حدیث کو  دل و جان سے قبول کیا  اور جو سابقہ انبیاء پہ نازل ہوا اس کو بھی حق جانا ، اور آخرت پہ کامل یقین رکھتے ہوئے ا کی تیاری میں خود کو مصروف رکھا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس  کے بدلے میں انہیں دنیا میں ہدایت نصیب فرمائی، صراطِ مستقیم کی سمجھ دی ، اس پر چلایا اور تادمِ آخر ا پر قائم رکھا۔ ا ب ان کیلئے اس سے بھی بڑا انعام ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کامیاب ہو گئے، یہ فلاح پا گئے، ان کے لئے ہمیشہ کا سکون اور جنت کی نعمتیں ہوں گی ،جہان یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 4 - وحی الٰہی کی اقسام - قرآن و احادیث دونوں وحی الٰہی ہیں

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ  وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ  وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ  یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ.

اور وہ لوگ جو ایمان  لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور وہ آخرت پہ یقین رکھتے ہیں۔

اس آیت کے پہلے حصے میں جو آپﷺ پہ نازل کیا گیا اس پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پہ کیا نازل کیا گیا؟ اگر اس سے مراد صرف قرآن ِ کریم ہے  تو واضح طور پہ قرآن مجید کا نام لے کر فرما دیا جاتا کہ جو قرآنِ کریم پہ ایمان لاتے ہیں جیسے اسی سورۃ کی ابتدائی آیت میں الکتاب کالفظ استعمال ہوا  ہے جس سے مراد یقینی طور پہ قرآنِ کریم ہے۔ تو یہاں بھی یہ فرما دیا جاتا کہ جو کتاب پہ ایمان لاتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ فرمایا گیا کہ جو آپ پہ نازل کیا گیا۔

نزول ہوتا ہے کسی چیز کی بلندی سے نیچے آنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے قلب ِ اطہر پر نزولِ احکامات کو اصطلاحی طور پر وحی الٰہی کہا جاتا ہے۔

وحی کی دو اقسام ہیں : پہلی قسم وحی متلو ہے  یعنی قرآنِ کریم اور دوسری وحی غیر متلو یعنی احادیثِ مبارکہ۔

سورۃ النجم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى(3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(4)

اور نہ خواہشِ نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں ۔ ان کا ارشاد تو وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے۔

 اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ وحی الٰہی صرف قرآن ِ کریم نہیں بلکہ آپﷺ کی ارشاداتِ عالیہ بھی وحی الٰہی ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں أُنْزِلَ إِلَيْكَ سے مراد  قرآن و احادیث دونوں ہیں۔

جو ان دونوں پر یا ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی شک کرے گا  یا ان کا نکار کرے گا تو اس کا ایمان مکمل نہیں ہو گا۔

احادیثِ نبویہ ﷺ درحقیقت قرآن کریم کی اولین تفسیر ہیں اور ان کے بغیر ناممکن ہے قرآن کریم  کو سمجھنا اور قرآن ِ کریم کے حقیقی معانی و مفاہیم حاصل کرنا۔ اسی وجہ سے جس نے بھی سنتِ رسولﷺ اور احادیث ِ مبارکہ کو  قرآن سے الگ کیا اور ان کے بغیر قرآن ِکریم کے معانی و مفاہیم سمجھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ گمراہی کے سوا کچھ نہیں آیا۔

پھر فرمایا وما انزل من قبلک   جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا یعنی تورات و انجیل ، زبور اور دیگر صحائف جو مختلف انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دیئے گئے ، ان پہ ایمان لاتے ہیں۔

کتابوں میں عموماً دو چیزیں ہوتی ہیں ایک خبر اور دوسری اوامر و نواہی یعنی احکامات۔

خبر ناقابلِ تبدیل ہوتی ہے جیسے لاالہ الا اللہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک ناقابلِ تبدیل ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ، ہر نبی نے یہی خبر دی۔ اسی طرح پہلی کتابوں میں جو خبر تھی وہ  قرآن میں بھی ویسی ہی ہیں جیسے توحید، آخرت ،جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور حشر کا معاملہ۔ البتہ احکامات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ ہر نبی اپنی قوم اور علاقے کے لحاظ سے مختلف احکامات لے کر آیا۔ پہلی شریعتوں کے احکامات اور شریعتِ محمدیہﷺ کے احکامات مختلف ہیں۔ ہاں البتہ یقیناً اب شریعت  و نبوت  مکمل ہو چکی اور قرآن کی نہ صرف خبر بلکہ احکامات میں بھی قیامت تک کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہو گا۔

ایک اور اہم نکتہ جو اس آیتِ کریمہ میں ملتا ہے ، وہ یہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں روئے زمین پہ بے شمار کذاب آئے جو دورِ  حاضر میں بھی موجود ہیں جو وحی الٰہی کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ وحی الٰہی صرف  وہ ہے جو آپ ﷺ پہ اور آپﷺ سے پہلے انبیاء پہ نازل ہوئی۔ اس کے علاوہ  کسی کا من گھڑت دعویٰ کرنے سے اس کا اپنا من گھڑت کلام وحی الٰہی نہیں بن جاتا۔ اگر وحی الٰہی کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا وت فرمایا جاتا کہ جو آپﷺ اور آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد نازل کیا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا: أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب قیامت تک کیلئے حجت قرآنِ کریم ہے، حجت افعالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں ، حجت اقوالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں، حجت پسند و ناپسندِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔ آپﷺ اللہ کے آخری بنی اور رسول ہیں ، قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور شریعتِ محمدیہ ﷺ آخری شریعت ہے۔

پھر ارشاد ہوا: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور جو آخرت پہ  یقین رکھتے ہیں

یہ بات ایمان بالغیب میں شامل ہے ،آخرت کا عقیدہ بھی ایمان بالغیب کا جزو ہے  جس کا ذکر پہلا کیا جاچکا لیکن اس کے بعد اس کا دوبارہ ذکر تاکید کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ اتنا اہم عقیدہ ہے  اور پھر یہاں فرمایا کہ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ جو آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

اگر بندے کو اس بات کا یقین ہو کہ اس دنیا کے بعد بھی اس کی ایک حیات ہے جسے حیات برزخیہ  کہا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد اسے روزِ محشر  دوبارہ اٹھایا جائے گا، محشر برپا ہو گا ،حساب و کتاب ہو گا، سوال و جواب ہو گا، میزان ہو گا، اسے اللہ تعالی ٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، آپﷺ کی ذاتِ اقدس بھی موجود ہو گی جن کی میں اطاعت کا دعویدار ہوں، مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کا سامنا کرنا ہو گا  اور پھر جنت کی نعمتیں ہو ں گی یا پھر دوزخ کا عذاب۔ اگر اس سارے معاملے کا یقین ہو تو ممکن ہی نہیں  کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے۔ یہ جو ہم نافرمان ہو چکے ہیں ، ہمارا ایمان کمزور ہو چکا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ آخرت کمزور ہو چکا ہے یا بالکل ختم ہو چکا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ سوم - انفاق فی سبیل اللہ کا مطلب - ایمان لانا، عبادات کا قائم کرنا اور اللہ کے انعامات کو استعمال کرنا -

0 Comments

 


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ درس میں اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے کا بیان تھا۔ اس آیتِ کریمہ کے آخری حصے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.  اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

عام طور پہ اس آیتِ کریمہ سے جو مفہوم و مطلب سمجھا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے لیکن لغوی اعتبار سے بھی اور ظاہراً بھی اگر غور کیا تو سمجھ آئے گا کہ نہ صرف مال بلکہ تمام تر نعمتیں اولاد، جان، وقت، جسمانی اور دماغی استعداد، روحانی قوت، سب کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے۔ بندہ کسی بھی نعمت کا کلی طور پر اور ہمیشہ کیلئے مالک نہیں ہے اور یہی بات اس آیتِ کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے کہ جو ہم نے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو عطا کر رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

خرچ کرنا کیا ہے اور کیسے خرچ کیا جائے؟

جب بات مال کی ہو گی تو مال کو اللہ تبارک و تعالی کے احکامات کے تحت استعمال کرنا ، اہل و عیال پہ خرچ کرنا، اولاد کی تربیت و اصلاح پہ خرچ کرنا،نیکی کے کاموں پہ خرچ کرنا ، ترویج و تبلیغِ دین میں خرچ کرنا،زکوٰۃ و صدقات کا ادا کرنا، فقرا ء اور مساکین کی مدد کرنا ،مقروض و مسافر کی مدد کیلئے خرچ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

جان کو اور بدنی نعمتوں کو، فطرتی استعدادوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے استعمال کرنا،جسمانی قوتوں کو جہاد و عبادات میں استعمال کرنا۔

اولاد جو اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، اسے دینِ اسلام سکھانا،اولاد میں نیکی اور خیر کے کاموں کا ذوق و شوق پیدا کرنا اور برائی و بے حیائی کی آگاہی دینا اور ان کاموں سے بچنے کی رہنمائی کرنا۔

روحانی استعدادِ کو معرفتِ باری تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا۔ معرفتِ باری تعالیٰ نہ صرف خود حاصل کرنا بلکہ دوسروں تک پہنچانے کا سبب و ذریعہ بننا۔

اس مکمل آیتِ کریمہ پہ غور کرنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں تین باتٰیں بیان ہوہوئیں:

پہلی: يُؤْمِنُونَ دوسری: وَيُقِيمُونَ تیسری: يُنْفِقُونَ.

جو ایمان لاتے ہیں، جو قائم کرتے ہیں اور جو خرچ  کرتے ہیں۔

یعنی پہلا معاملہ قبول کرنا ہے ،زبان اور قلبی یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اور آپ کے احکامات کو قبول کرنا،صرف ظاہر نہیں بلکہ ان باطنی اور غیب کی چیزوں کو بھی دل وجان سے تسلیم کرنا جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں اور پھر ان احکامات و عبادات کو جیسے اس کا حکم ہو اور جو معیار اللہ کی ذات نے مقرر فرمایا ہے اس کے تحت بجا لانا۔ عبادات کو اس طرح ادا کرنا جیسا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور جس طرح محمد الرسول اللہ ﷺ نے کر کے بتلا دیا۔اور پھر جتنی بھی نعمتیں اللہ تبارک تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے گئے اور آپ ﷺ کے سکھائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال و خرچ کرنا۔ اور چونکہ سب کچھ ہی اللہ کی عطا ہے، سب کچھ ہی اس ذاتِ برحق کا انعام کردہ ہے۔ بندے کا ذاتی تو کچھ بھی نہیں سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کے پاس علم ہے تو اس احکامات ِ الٰہی کے تحت اور دین ِ حق کی سربلندی کے لئے پھیلانا نہ کہ دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لینا، کسی کی پاس جسمانی و بدنی قوتیں ہیں تو اسے اللہ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال کرنا، کسی کے پاس طاقت و اثر و رسوخ ہے تو اسے دنیا  کمانےکے بجائے اور لوگوں کی پریشانی کا سبب بننے کے بجائے ،لوگوں کے لئے آسانیوں کا سبب بننے  کیلئے استعمال کرنا۔

ان تینوں باتوں  کو حاصل کیے بغیر انسان متقی نہیں بن سکتا اور ان تینوں باتوں میں شیطان کے بعد جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے وہ انسان کا اپنا نفس ہے۔اور نفس انسانی بندے کو یہ تینوں کام نہیں کرنے دیتا  جب تک اس کا تزکیہ نہ کیا جائے یعنی یہ  تینوں کام بغیر تزکیہ نفس کے حاصل نہیں ہو سکتے۔تزکیہ نفس ہی واحد ذریعہ ہے جو بندہ مومن کو متقین کے درجے میں لے کے جاتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ دوم - نماز کو قائم کرنے سے کیا مراد ہے؟ معراج کا مفہوم و مطلب

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ درس میں اس آیتِ کریمہ کے پہلے حصے کی تفسیر و تشریح بیان ہوئی اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں ارشاد ہوتا ہے: وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ۔ اور نماز کو قائم  رکھتے ہیں۔ قرآن ِ کریم میں جہاں بھی نماز کا حکم آیا ہے وہاں پہ قائم کرنے کا حکم ہوا۔

نماز کو قائم کرنا کیا ہے؟

اس کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کا خیال رکھتے ہوئے وقتِ مقررہ پر بہترین اور احسن طریقے سے ادا کرنا اور جو سب سے اہم بات بیان کی جاتی ہے وہ ہے اخلاص۔

اخلاص کا کیا مفہوم و مطلب ہے اور نماز میں یہ اخلاص کیسے آئے گا؟

حدیثِ جبرئیل علیہ السلام میں جبریلِ امین نے عرض کی کہ مجھے احسان کے متعلق بتائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہو تو یہ یقین ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

ایک اور حدیث میں ارشاد ہوتا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔

الفاظ دونوں حدیثوں کے مختلف ہیں لیکن مفہوم دونوں کا ایک جیسا ہے اور بیان یہ فرمایا جا رہا ہے کہ نماز بندہ مومن کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ معراج کے واقعہ کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ معراج آپﷺ کی اللہ سے ملاقات ہے۔ جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ۔(دو کمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کم) یعنی آمنے سامنے، بالمشافہ ملاقات، خالق اور مخلوق، محب اور محبوب ، اللہ جل شانہ اور محمد الرسول اللہ۔ جبکہ نماز کو مومن کی معراج کہا گیا  اور جب لفظ معراج کہا گیا تو یہ بھی اس کی مثل ملاقات ہونی چاہیے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ وہ حقیقی ملاقات تھی اور یہ کیفی ہو گی۔

اور ان احادیث میں معراج اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دیکھنے کے جو الفاظ بیان ہوئے ہیں ان سے مراد وہ اعلیٰ کیفیات ہیں کہ بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور جب کھڑا ہو تو اس کی یہ کیفیت ہو کہ بندہ مومن اللہ کے حضور حاضر ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے،تجلیاتِ باری تعالیٰ کا مشاہدہ کرے، تجلیاتِ باری تعالیٰ کی کیفیات کو محسوس کرے، انواراتِ باری تعالیٰ کو جذب کرے، اور اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھنے کی کیفیت و احساس نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور ہو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شریعتِ اسلامیہ میں نماز کے جو اصول و ضوابط بتائے  گئے یعنی نماز کی شرائط، نماز کے ارکان، فرائض و واجبات اور سنت طریقہ سے نماز ادا کرنے سے فرض تو ادا ہو جاتا ہےلیکن جب تک روحانی کیفیات نہ ہوں، روحانی تعلق جب  تک بندہ مومن کا خالق کی ذات سے قائم نہ ہو نماز ادا تو ہو جائے گی نماز قائم نہیں ہو گی۔نماز کے اثرات ونتائج جو معاشرے پر یا بندہ مومن کے کردار پہ مرتب ہونے چاہییں، وہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ اور جب یہ کیفیات حاصل نہ ہوں، جب کردار پہ اثرات مرتب نہ ہوں تو نماز کا جو مقصود ہے وہ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر دو یا چار رکعت کے دوران بندے کو ایک لمحے کے لیے بھی معیتِ باری تعالیٰ حاصل نہ ہو، ایک لمحے کے لئے بھی تعلق مع اللہ نہ بنے، ایک لمحے کیلئے بھی شرف ہم کلامی نصیب نہ ہو۔ تو پھر ہمیں اپنی نمازوں پہ غور کرنا چاہیے کیونکہ ایسی نمازیں جو صرف جسمانی ورزش، اٹھک بیٹھک یا رٹے رٹائے الفاظ کی ادائیگی تک محدود ہوں،  وہ کسی بھی صورت قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ نماز تو شرفِ ہم کلامی ہے جو بندہ مومن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں نماز قائم کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی 

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 3 - حصہ اوّل - ایمان کیا ہے؟ کیا ہم مومنین ہیں؟ ایمان بالغیب کسے کہتے ہیں اور کیا تصوف وطریقت ایمان بالغیب کا جزو ہے؟

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.

"وہ جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"

سابقہ  آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ یہ لاریب کتاب قرآنِ کریم ہدایت ہے متقین کیلئے،اہلِ تقویٰ کیلئے مشعلِ راہ ہےتو اب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ تقویٰ کی نشانیاں بھی بیان فرما دیں خود ہی بیان فرما دیا کہ متقین کون ہیں، تقویٰ اختیار کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔پہلی صفت اور نشانی اہلِ تقویٰ کی جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی جا رہی ہے فرمایا:  الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ جو بن دیکھے قبول کرتے ہیں وہ جو ان دیکھی چیزوں کو مانتے ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں دو باتیں قابلِ غور ہیں ،پہلی بات: ایمان لانا، قبول کرنا ،ماننا،یقین کرنا  یہ کیا ہے؟

ائمہ تفسیر وحدیث  ایمان کی تفسیر و تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ"ایمان نام ہے اقرار بالسان و تصدیق بالقلب کا "

اقراربالسان تو عام فہم ہے یعنی زبان سے اقرار کرنا ، زبان سا ماننا اور قبول کرنا لیکن تصدیق بالقلب کیا ہے؟ اور اس کا کیسے پتہ چلے گا؟تصدیق بالقلب ہوتی ہے دل سے قبول کرنا، یقین قلب کا حاصل ہونا۔زبانی اقرار کا تو ظاہر اً پتہ چل جاتا ہے،دیکھنے سننے والے بھی گواہی دے دیتے ہیں کہ یہ بندہ اس بات کا اقراری ہے ، اس بات کو قبول کر رہا ہے۔لیکن دل کے اقرار کا کیسے پتہ چلے گا ؟ یقینِ قلبی کا کس طرح اظہار ہو گا؟ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ بندہ اس بات کو دل سے یقین کے ساتھ  قبول کر رہا ہے؟  اس معاملے کو یعنی یقینِ  قلبی کو علمائے کرام نے بہت واضح انداز میں بیان فرما دیا فرماتے ہیں کہ  دل سے قبول کرنے کا پتہ عمل سے چلے گا یعنی اگر کوئی دل سے قبول کرتا ہے یقینِ قلبی بھی اس کو حاصل ہے تو اس کا عمل اس بات کی گواہی دے رہا ہوتا ہے، وہ اس بات پہ عمل بھی کرتا ہے۔یہ ممکن نہیں کہ کوئی دل سے قبول کرے اور عمل نہ کرے۔ عمل سے روگردانی ممکن ہی نہیں ہوتی۔

یہاں پہ  ایک انتہائی اہم ،سخت اور خطرناک کیفیت کا ذکر بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی زبان سے اقرار کرتا ہے اور عمل نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دل سے ،یقینِ قلبی کے ساتھ اس بات کو قبول نہیں کرتا۔ زبان سے اقرار اور دل میں یقین قلبی کا نہ ہونا یعنی عمل کا قول کو ثابت نہ کرنا، یا عمل صرف دکھاوے کے لئے ہونا یہ نفاق کی علامات میں سے ہے اور منافقین کی صفات میں سے ہے۔ جیسے آج کل کے دور میں کوئی بھی مسلمان ایسا تو نہیں ملے گا جو نماز کی فرضیت و اہمیت سے انکاری ہو یا دوسرے بنیادی ارکانِ دین کا زبانی طور پہ انکار کرے لیکن عملا ً اکثریت ایسے لوگوں کی ملے گی جو عملاً بے نمازی ہیں، جو  زکوۃ کی فرضیت مانتے تو ہیں اگر ادا نہیں کرتے اور استطاعت و توفیق ہونے کے باوجود حج کا فریضہ ادا نہیں کرتے یا پھر انکی نمازیں ، انکے صدقات  و خیرات ، ان کا حج و عمرہ محض دکھاوے کیلئے ہوتا ہے۔ کیونکہ نما ز کا جو معیار و نتیجہ قرآن نے بتلایا ہے کہ نماز برائی و بے حیائی سے روکتی ہے لیکن معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ملتی ہے جو نمازیں تو ادا کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے کردار سے نماز کے نتائج کا اظہار نہیں ہو رہا ہوتا۔ معاشرے میں برائی و بے حیائی اسی طرح عام ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ نماز میں یہ خاصیت نہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ ہمارے نمازوں کا ہے ۔ ہماری نمازوں میں وہ خشوع و خضوع نہیں، ہمارہ نمازوں میں وہ اثر وہ طاقت نہیں کہ ہماری نمازیں ہمیں برائی و بے حیائی سے روکیں اور یہ معاملہ انتہائی غور طلب ہے ہمیں اپنی نمازوں پہ ، اپنی عبادات پہ،اپنی دعاؤں پہ غور و فکر کرنی چاہیئے۔

دوسری بات اس آیتِ کریمہ انتہائی اہمیت کہ حامل ہے وہ ہے کہ  جو ایمان لاتے ہیں جو قبول کرتے ہیں جو مانتے ہیں کس بات کو مانتے ہیں کس بات پہ ایمان لاتے ہیں فرمایا : بِالْغَيْبِ یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں غیب کو قبول کرتے ہیں غیب کو ان دیکھی چیزوں کو مانتے  ہیں۔

غیب کیا ہے؟ غیب جو سامنے نہ ہو ،جس کو مادی آنکھ سے نہ دیکھا جا سکے، جس کو مادی ذرائع سے ثابت نہ کیا جاسکے۔ سب سے بڑا غیب تو خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے، پھر ملائکہ،عالمِ ارواح، جنت و دوزخ،محشر ،برزخ   ۔بلکہ دیکھا جائے تو ہمارے لئے تو تمام سابقہ انبیاء، آپﷺ کی ذاتِ اقدس، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، قرآن و حدیث سب غیب ہیں۔ ہمارا ایمان،ہمارا اسلام، ہمارا دین تو ہے ہی بن دیکھے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو براہِ راست بارگاہِ نبوت سے فیضیاب ہو رہے تھے، نزول قرآن کی کیفیت کے چشم دید گواہ تھے، صاحبِ شریعتِ مطہرہ ﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے، وجودِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ ان کے سامنے تھا لیکن ہم تک تو روایت در روایت، نسل در نسل یہ دین پہنچا اور ہم نے بن دیکھے قبول کیا۔

علمائے کرام نے بنیادی طور پر دینِ اسلام کی  دو شاخیں بیان فرمائی ہیں پہلی علومِ ظاہریہ  یعنی تعلیماتِ نبوت اور دوسری علومِ باطنیہ یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت۔

 علومِ ظاہری یعنی تعلیماتِ نبوت قرآن و حدیث کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں ۔جن کی تعلیم و تربیت کے لئے علمائے ظواہر کی کثیر تعداد آپﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک اور قیامت تک موجود رہے گی۔

دوسری شاخ ،دین کا دوسرا بنیادی جزو علومِ باطنیہ ہے یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت جسے تصوف و طریقت، سلوک، کیفیاتِ قلبی کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ کیفیات دلوں سے دلوں کو منتقل ہوتی ہیں اور اس علم کے ماہرین صوفیاء کرام کہلاتے ہیں۔کیفیات ظاہری وجود نہیں رکھتیں ۔یہ کیفی معاملہ ہوتا ہے محسوس کی جا سکتی ہیں دکھائی و سمجھائی نہیں جا سکتیں۔انہیں سمجھنا ہو تو خود انہیں حاصل کر کے سمجھا جا سکتا ہے کوئی مادی ذریعہ کیفیاتِ محمد الرسول اللہ نہیں سمجھا سکتا اور ان کا منبع و مآخذ قلبِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہے اور ان کے حصول کا ذریعہ مشائخِ طریقت، اولیاءِ کرام ، صوفیاء  ہوتے ہیں۔ جو علمائے شریعت کی طرح ہر زمانے میں موجود رہے اور تا قیامت موجود رہیں گے۔

جہاں تک میں جانتا ہوں یہ دونوں علوم کسی بھی زمانے میں جدا نہیں ہوئے۔تصوف و طریقت ،علومِ شریعت کے بغیر ممکن نہیں اور علومِ شریعت، کیفیات ِ قلبی یعنی تصوف و طریقت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر تصوف و طریقت، علوم شریعت سے جدا کر دیا جائے تو گمراہی کے سوا کچھ نہیں رہتا  اور اگر علومِ شریعت ، تصوف وطریقت سے جدا ہوں تو ظاہری عبادات تو ہوتی ہیں لیکن اخلاص،ورع و تقویٰ، خشوع و خضوع،یقینِ قلبی  حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور چودہ سو سال کے زمانے میں میرے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں ،علمائے دین ، بزرگانِ دین ،اہل اللہ ، صوفیاء کرام میں سے جن میں یہ دونوں علوم جمع نہ ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بظاہر کسی کی شہرت علم تفسیر ہو،کسی کی شہرت کی وجہ علمِ حدیث ہو ،کوئی مؤرخ ہوا،کسی کو فقہ  میں مہارت حاصل تھی اور یہ علم اس کی وجہ شہرت بن گیا، کسی میں سپہ گری کا فن تھا اور وہ جرنیل ہوا لیکن کوئی بھی ہستی ان چودہ صدیوں میں ایسی نہیں گزری جو غیر صوفی ہو ،جو تصوف و سلوک کی راہ پہ چلنے والا نہ ہو جسےعلوم ِ طریقت حاصل نہ ہوں،جس نے کسی بزرگ کی صحبت میں رہ کر تزکیہ نفس نہ کیا ہو۔

کیونکہ ارشاد فرمایا گیا: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ جو غیب پہ ایمان لاتے ہیں

غیب پہ ایمان و یقین، بجز کیفیاتِ قلبی اور  برکاتِ نبوتﷺ کے حاصل نہیں ہو سکتا۔

دور حاضر میں اگر دیکھا جائے تو ہمارا ایمان بالغیب نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ دورِ حاضر میں جو کیفیاتِ محمد الرسول اللہ ﷺ یعنی تصوف و طریقت کا شعبہ تھا اس میں ایک طرف تو ہمیں ان شعبدہ بازوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہوں نے تصوف و طریقت کو ذاتی فائدے اور پیسے کمانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ان جاہلوں نے جھاڑ پھونک اور تعویذ دھاگے کو تصوف و طریقت کا نام دے رکھا ہے اور نہ صرف خود ان علوم سے بے بہرہ ہیں بلکہ بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بھی ہیں۔

دوسری طرف ان ہی کی ان شعبدہ بازیوں کی وجہ سے ایک گروہ وہ بن گیا جو سرے سے ان علوم کا ہی منکر ٹھہرا۔ اور ان شعبدہ بازوں کو آڑ اور دلیل بنا کر تصوف و سلوک کو جاہلیت و بدعت قرار دیا۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نقل ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جس کی اصل کا وجود ہوتا ہے۔ تو اگر جاہلی پیر اور صوفی موجود ہیں تو ضرور اس کی اصل بھی ہو گی اب یہ بندے پہ منحصر ہے کہ وہ تلاش کرتا ہے یا نہیں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ نقل موجود ہو اور اصل موجود نہ ہو۔

تاریخ اسلام میں جتنے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جو تصوف و سلوک کے سرے سے انکاری ہوئی  اور علمائے تصوف کے انکاری ہوئے اور ان کے خلاف دلیلیں گھڑیں تو وہ نہ صرف علومِ طریقت کے انکاری ہوئے بلکہ آہستہ آہستہ پھر وہ برزخ، جنت و دوزخ،عالم ارواح، ملائکہ کے بھی انکاری ہوئے جس سے وہ نہ صرف گمراہی کا شکار ہوئے بلکہ ان کا ایمان بھی جاتا رہا۔

تو یہ جو علومِ غیب ہیں ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی،ان کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا۔مشائخ طریقت بڑی خوبصورت بات فرماتے ہیں کہ شریعت ،اعتماد واعتبارِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا نام ہے اور تصوف و طریقت اعتمادِ اعتبارِ شیخ کا نام ہے۔

تصوف و سلوک کی سب سے بڑی دلیل انسان کا کردار ہوتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مرید کئی سال رہا بالآخر ایک دن کہنے لگا کہ حضرت میں واپس جا رہا ہوں تو انہوں نے پوچھا کہ میاں تم کیوں واپس جا رہے ہو تو اس نے کہا  کہ حضرت میں تصوف و سلوک سیکھنے آیا تھا لیکن میں نے آپ میں کوئی کرامت نہیں دیکھی اس لئے واپس جا رہا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے اتنے سالوں میں مجھ میں کوئی خلافِ شریعت،خلافِ سنت بات دیکھی ہے ۔ اس نے غور وغوض کے بعد عرض کی کہ حضرت میں نے کبھی آپ میں کچھ بھی خلافِ سنت نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ پھر اس سے بڑی  کرامت کیا ہو گی۔ یعنی تصوف شعبدہ بازی یا کشف وکرامات کا نام نہیں بلکہ تصوف و سلوک کا مقصد ہی خود کو اتباعِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں لانا ہے،عبادات میں اخلاص پیدا کرنا ہے، تصوف علوم شریعت کے علاوہ کسی چیز کا نام نہیں بلکہ خود کو انہی علوم پہ کار بند رکھنے اور استقامت حاصل کرنے کا نام تصوف ہے۔حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ " نیت کا خالص ہونا تصوف کی ابتدا ء ہے اور عمل کا خالص ہونا تصوف کی انتہا ء ہے۔"

دورِ حاضر میں جو عام روش چل نکلی ہے کہ ہر چیز کی دلیل  اور ثبوت مانگا جاتا ہے تو میں عرض کرتا چلا کہ ایمان بالغیب  ہوتا ہی بغیر دلیل کے ہے اگرمادی  دلیل ہوتی تو پھر بالغیب تو نہ ہوتا۔ایمان بالغیب کی صرف ایک ہی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے محمد الرسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے قرآن و حدیث کی صورت میں بتلا دیا  اب ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں ،ہم محسوس کریں یا نہ کریں ،ہمارا اس پہ یقین و ایمان ہونا چاہیئے۔اس کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 2 - لاریب کتاب سے مراد - تقویٰ کا مفہوم و مطلب

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

حروفِ مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ یہ خاص کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔

یہاں پہ جو ذٰلِکَ  لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارے میں مفسریں کی مختلف رائے ملتی ہیں۔ ایک گروہ کی اس بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ ذٰلِکَ لفظ چونکہ دور کیلئے اسمِ اشارہ ہے تو یہ قرآن میں اور بھی کئی جگہ اسی اسلوب کے تحت اسمِ اشارہ استعمال ہوا ہے اور یہاں پہ  بھی ذٰلِکَ لفظ "ھٰذَا" یعنی   This کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں پہ ترجمہ کرتے وقت ذٰلِکَ کا ترجمہ "وہ کتاب" نہیں بلکہ"یہ کتاب" کریں گے۔ دوسرا قول جو اس بارے میں ہے وہ یہ ہے کہ یہاں "ھٰذَا" پوشیدہ ہے یعنی اصل جملہ اصل آیت کچھ اس طرح بنتی ہے کہ ھٰذَا ذٰلِكَ الْكِتٰبُ "یہ وہ کتاب ہے" اس سے مراد یہ ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا آپﷺ سے تورات و زبور میں وعدہ فرمایا گیا ، سابقہ انبیاء کی زبانی اس کی بشارتیں دی گئیں کہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ذٰلِکَ کے حقیقی معنی جو دوری کی ہیں، وہ لیں تو وہ بھی بہت خوبصورت مطلب سمجھ میں آتا ہے یعنی " وہ کتاب" تو چونکہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں، انکی حیاتِ مطہرہ میں جب قرآنِ کریم کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت ابھی کتاب یعنی قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل میں موجود نہیں تھی ۔قرآنِ کریم کو کتابی شکل میں پہلی دفعہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اور پھر جو نسخہ آج ہمارے پاس ہے اسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جمع فرما کر باقاعدہ کتابی شکل میں تیار کرایا۔ اسی لئے اسے مصحفِ عثمانی بھی کہا جاتا ہے۔

تو اگر ہم ذٰلِکَ سے مراد اشارہ بعید لیں تو اس سے مراد یہ ہو گا کہ وہ کتاب جو لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے یا وہ کتاب جو ماہِ مبارک رمضان المبارک کی بابرکت رات شبِ قدر میں آسمانِ دنیا پہ اتاری گئی جو بعد میں وقتاً فوقتاً آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قلبِ اطہر پہ نازل ہوتی رہی یا ہم اس سے مراد یہ لیں کہ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں چونکہ قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل  میں مرتب نہیں تھا تو اس میں اشارہ ہے اس کتاب کی طرف جو مستقبل میں مرتب ہو گی تو اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔یعنی اس  آیت میں قرآن کریم کی گواہی دی جارہی ہے کہ جب یہ باقاعدہ کتابی صورت میں اصحابِ محمد الرسول اللہﷺ مرتب فرمائیں گےجیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے نسخے تیار کرا کے سلطنتِ اسلامیہ میں پھیلا دیئے۔ تو ان کے اس اقدام سے پہلے ہی فرما دیا گیا کہ وہ کتاب لاریب ہے ، اس میں شک وشبہ میں نہ پڑنا جیسا کہ بعض گمراہوں نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ یہ نسخہ مکمل نہیں۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ذٰلِکَ ان تینوں حالتوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے

پہلی: لوح ِ محفوظ والی کتابی حالت

دوسری:آسمان دنیا پہ نزول والی کتابی حالت

تیسری: آپﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جمع فرما کر کتابی شکل دی اور تب سے اب تک نسل در نسل مسلمانوں کے پاس حرف باحرف محفوظ چلا آرہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔

موجودہ دور میں چونکہ ہمارے پا س یہ کتابی شکل میں موجود ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس لفظ کا ترجمہ "یہ" زیادہ مناسب و موزوں ہےیعنی" یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"

پھر ارشاد فرمایا گیا : هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙۛ  ہدایت ہے متقین کےلئے

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم  اعوان رحمۃ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ هُدًى کا معنی عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ اگر اسے مختصر الفاظ میں سمونا ہو تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ  هُدًى کہلائے گا۔فسر ہو ، حضر ہو،خرید و فروخت ہو، دوستی ودشمنی ہو،معاشرتی مسائل ہوں، سیاسی ہوں ، ملکی ہوں ،قومی ہوں، کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ هُدًى کہلائے گا۔ فرمایا" یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے لیکن لِّلْمُتَّقِیْنَ اہلِ تقویٰ کیلئے۔ اب جیسے بارش برستی ہے، ہر ایک پہ برستی ہے، امیر ہو یا غریب ، خوبصورت جگہ ہو یا بد صورت۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ دامن اسی کا تر ہو گا جو بارش میں کھڑا ہو گا ۔ اگر کوئی خود کو الگ کر لیتا ہے کسی مکان میں روپوش ہو جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میرا دامن تو گیلا نہیں ہوا تو قصور بارش کا نہیں ہوگا، قصور اس آدمی کا ہو گا۔اسی طرح کتاب ہدایت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو اہلِ تقویٰ ہوں اور ہدایت کے خواہش مند ہوں۔  

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ تقویٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا ترجمہ اکثر احباب "ڈر" لکھتے ہیں۔ ڈر بے شمار قسم کے ہوتے ہیں۔ہم ایذاء پہنچانے والی چیزوں سے ڈرتے ہیں، چور سے بھی ڈرتے ہیں۔دشمن کا اور جان کا ڈر اور خطرہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں ان میں سے کوئی بھی  ڈر مراد نہیں، اور لفظ ڈر تقویٰ کے مفہوم کو ادا نہیں کر پاتا۔ تقویٰ ایک ایسا ڈر ہے جو کسی محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی ناراضگی کا ہوتا ہے۔ہم  والدین سے محبت کرتے ہیں تو کوئی کام کرنے سے پہلے یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کہیں والدِ گرامی ناراض تو نہیں ہوں گے۔اس لیے کہ ہمارے دل میں ان کا ایک مقام ہے،ایک عظمت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے خفا ہوں۔

تو تقویٰ نہ صرف گناہوں کو چھوڑنا بلکہ ایسے کاموں سے بھی اجتناب کرنا جو کہ مشکوک ہوں یعنی بذاتِ خود گناہ نہ ہوں لیکن گناہ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ تو ایسے تمام کاموں سے ایسی تمام چیزوں سے اجتناب کرنا تقویٰ کہلائے گا۔

ترمذی شریف اور ابنِ ماجہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندہ اس وقت تک متقین کے درجے میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں حرج نہیں اس ڈر سے کہ کہیں وہ حرج میں مبتلا نہ ہو جائے۔"

ایک روایت مین ہے  کہ حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تقویٰ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ  کبھی آپ کانٹے دار رستے پہ چلے ہیں؟ تو آپ  نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں۔ تو  انہوں نے پوچھا کہ آپ وہاں کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کپڑوں کو سمیٹ لیتا ہوں اور جسم کو بچاتا ہوں تو  حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ  یہی تقویٰ ہے۔

تو ان روایات سے یہ سمجھ آتا ہے کہ تقویٰ انتہائی احتیاط کا نام ہے۔ نہ صرف یہ کہ واضح گناہوں سے بچا جائے بلکہ ان چیزوں سےبھی بچا جائے جو کسی گناہ کا سبب بننے والی ہوں یا گناہوں کی طرف لے جانی والی ہوں۔

تقویٰ ایک ایسی کیفیت ہے کہ محبوب کی ناراضگی سے بچنے کیلئے ان کاموں سے بھی پرہیز  کہ جن میں شک ہو کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے میرا محبوب ناراض ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ یہ کام مجھے ایسے کام کی طرف لے جائیں جو میرے رب اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوں جو  روزِ محشر اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے سامنے  میرے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔ جیسے بے عمل اور بے نمازیوں کی صحبت سے اس نیت سے پرہیز کرنا کہ کہیں یہ میرے لئے بے عملی کا باعث نہ بن جائیں۔ بازاروں میں بغیر ضرورت کے نہ جانا کہ بازوں میں پائی جانے والی بے پردگی اور بے حیائی مجھے بھی گناہوں کی طرف نہ لے جائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی